پی ایس ایل کا ’’لوکل‘‘ فائنل!

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے پلے آف میں ’’سنسنی خیز‘‘ فتح مبارک ہو اور یہ پی ایس ایل میں مسلسل پانچواں میچ ہے جس کا فیصلہ آخری اوور میں ہوا ہے۔ اگر میں یہاں ’’تیز مصالحہ‘‘ کی بات کروں گا تو یار لوگ ناراض ہوجائیں گے اس لیے فی الوقت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو مبارک دیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔

خبر یہ بھی آئی کہ لاہور میں ہونے والے فائنل کے آن لائن ٹکٹس چند گھنٹوں میں فروخت ہوگئے ہیں جبکہ بنکوں کے باہر کھڑکی توڑ رش ہے مگر اندر کی خبر یہ ہے کہ 12 ہزار روپے مالیت کے پانچ سو ٹکٹس قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حکومتی اراکین کیلئے مفت مختص ہوچکے ہیں جبکہ پانچ سو روپے مالیت کی ٹکٹوں کا ’’کالا دھندا‘‘ بھی شروع ہوچکا ہے ۔ایسے مواقعوں پر ٹکٹیں بلیک بھی ہوتی ہیں اور حکومت وقت کو ’’نوازنے‘‘ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے جس کا ایک مظاہرہ دو برس قبل زمبابوے کیخلاف ہوم سیریز میں بھی دیکھنے کو ملا تھااس لیے یہ دعوے مضحکہ خیز لگتے ہیں کہ پی ایس ایل کے فائنل میں کسی کو اعزازی ٹکٹ یا پاس جاری نہیں کیا جائے گا!

واپس کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف چلتے ہیں جس کی طرف سے نواز نے آخری اوور میں اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے حیرت انگیز طور پر آخری تینوں بالز ڈاٹ کیں جس نے فتح کو پشاور زلمی کے منہ سے چھین کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جھولی میں ڈال دیا۔ میدان میں کوئٹہ کے کھلاڑیوں نے مسلسل دوسری مرتبہ فائنل تک رسائی کا جشن کھل کر منایا جسے پاکستانی شائقین کرکٹ نے بھرپور انداز میں سراہا اور اس کا لطف اُٹھایا مگر کچھ دیر بعد کوئٹہ کے ٹاپ بیٹسمین کیون پیٹرسن کی یہ ٹویٹ منہ چڑا رہی تھی کہ وہ فائنل کیلئے لاہور آنے کی بجائے دبئی سے لندن روانہ ہورہے ہیں اور پھر ایک ایک کرکے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں کو یہ موقف سامنے آگیا کہ لاہور جانے کیلئے تیار نہیں مگر اپنے گھروں میں بیٹھ کر ٹی وی پر فائنل ضرور دیکھیں گے اور کوئٹہ کو سپورٹ کریں گے۔ کراچی کنگز سے تعلق رکھنے والے بہت سے غیر ملکی کھلاڑی لاہور میں فائنل کھیلنے سے انکار کرچکے ہیں جبکہ کم و بیش ایسی ہی صورتحال پشاور اور اسلام آباد کے غیر ملکی کھلاڑیوں کی بھی ہے جنہوں نے تادم تحریرلاہور جانے سے انکار نہیں کیا کیونکہ ابھی یہ کنفرم نہیں ہے کہ کونسی ٹیم فائنل میں کوئٹہ کا مقابلہ کرے گی۔ ممکن ہے کہ جب دوسری فائنلسٹ کا فیصلہ ہوجائے تو اس کے غیر ملکی کھلاڑی پاکستان جانے کیلئے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں۔ جہاں غیر ملکی کھلاڑی پاکستان میں نہیں کھیلنا چاہتے وہاں ’’فارن‘‘ کمنٹریٹرز نے بھی خود کو لاہور میں میگا فائنل سے دور رکھ لیا ہے جو فی الوقت دبئی اور شارجہ کے میدانوں میں پی ایس ایل کا بھرپور لطف اُٹھا رہے ہیں مگر سیکورٹی رسک نے انہیں لاہور جانے سے روک دیا ہے اور ان کمنٹریٹرز میں ایلن ولکنسن بھی شامل ہیں جنہیں پاکستان سے اس قدر ’’پیار‘‘ ہے کہ وہ مسلسل اردو زبان سیکھ رہے ہیں مگر پاکستان آنے کا حوصلہ اُن میں بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  صلاحیت کی تلاش صرف پی ایس ایل سے کیوں؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو اضافی معاوضے کی بھی پیشکش کی تھی اور یقینا ایسی پیشکش غیر ملکی کمنٹریٹرز اور امپائرز کو بھی کی ہوگی۔ پی سی بی اور حکومت پنجاب نے فول پروف سیکورٹی کی ضمانت دی ہے جس کیلئے پنجاب پولیس کیساتھ ساتھ فوج کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں مگر اس کے باوجود غیر ملکی پاکستان آنے سے انکاری ہیں ۔اب پی سی بی کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ پیسوں کا لالچ یا محض ایک دن کی سیکورٹی دنیا بھر میں پاکستان کا تاثر محفوظ ملک کی حیثیت سے نہیں بنا سکتی اس کیلئے ایسے ایونٹس میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے مگر پی سی بی بالکل مخالف سمت میں چل رہا ہے جس میں اَنا کی تسکین زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا بیان ملاحظہ ہو کہ انہوں نے ایک سال پہلے یہ خبر ’’بریک‘‘ کردی ہے کہ اگلے سیزن میں پی ایس ایل کا فائنل کراچی میں کھیلا جائے گا! یعنی تمام میچز یو اے ای میں کھیلے جائیں گے اور ایک دن کی ’’رونق‘‘ لاہور کی بجائے کراچی میں لگے گی جس کے بعد ممکن ہے کہ چوتھے سیزن میں راولپنڈی یا فیصل آباد کا نمبر آجائے!

اگر دوسری فائنلسٹ ٹیم بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کے بغیر لاہور میں پڑاؤ ڈالتی ہے تو پی ایس ایل کا فائنل محض ڈومیسٹک ٹی20ٹورنامنٹ کا ایک مقابلہ بن کر رہ جائے گا جو پاکستانی کھلاڑیوں، امپائرز، کمنٹریٹرز اور براڈ کاسٹرز کیساتھ خالصتاً ’’مقامی‘‘ مقابلہ بن کر رہ جائے گا ۔کیا ایسے میچ سے دنیا بھر میں پاکستان کی طرف سے کوئی مثبت پیغام جائے گا؟غیر ملکیوں کے بغیرسخت سیکورٹی کیساتھ لاہور میں فائنل کروانا کیا اتنا بڑا کارنامہ ہے جس پر سینہ تان لیا جائے ؟اور کیا یہ پاکستانی شائقین کیساتھ زیادتی نہیں کہ وہ ملک کے مختلف حصوں سے لاہور کا رخ کرتے ہوئے سفر،قیام و طعام کے اخراجات برداشت کرنے کیساتھ مہنگا ٹکٹ خرید کر صرف پاکستانی کھلاڑیوں کو دیکھنے کیلئے قدافی اسٹیڈیم جائیں؟پاکستانی شائقین اپنے کھلاڑیوں کو سال میں دو مرتبہ ڈومیسٹک ٹی20ٹورنامنٹس میں باآسانی دیکھ لیتے ہیں تو پھر انہی کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کیلئے اتنا تردد کیوں؟اور خدانخواستہ فائنل کے موقع پر کوئی چھوٹا سا بھی ’’نقصان‘‘ ہوگیا تو پھر سب کچھ چوپٹ ہوسکتا ہے۔

محض اپنے کندھوں پر ’’پھول‘‘ لگوانے کیلئے پی سی بی انتظامیہ نے پاکستان سپر لیگ کے فیصلہ کن معرکے کو ’’لوکل‘‘ فائنل بنادیا ہے جو بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ کیلئے کسی صورت بھی مددگار ثابت نہیں ہوگا!

PSL-2017-opening-ceremony

Facebook Comments