’’فکسرز‘‘ کیخلاف پلان بی تیار!!

پی ایس ایل فائنل کی ہنگامہ خیزیاں اختتام کو پہنچ چکی ہیں اور فائنل کے انعقاد کا کریڈٹ بھی پوری طرح لے لیا گیا ۔دورہ ویسٹ انڈیز کیلئے تربیتی کیمپ بھی قذافی اسٹیڈیم میں جاری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پی سی بی کے ہیڈ کواٹرز میں پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل بھی کھولا جارہا ہے۔

یہ بات حیران کن ہی رہے گی کہ پی ایس ایل کے پہلے دن اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف کو فکسنگ کے شبے میں معطل کرکے ٹورنامنٹ سے باہر کردیا گیا لیکن اسی ’’شک‘‘ کی زد میں آنے والے فاسٹ بالر محمد عرفان اور کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے اوپنر شاہ زیب حسن پر گرفت ڈھیلی رکھی گئی جنہیں اب اس کیس کی تحقیقات کیلئے لاہور طلب کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی کیس میں پانچواں نام کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسپنر ذوالفقار بابر کا تھا جنہیں نہ پی سی بی نے معطل کیا اور نہ ہی انکوائری کیلئے طلب کیا ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی ٹیم سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے کھلاڑی کو بھی بچانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے جو دراصل اس ساری ’’گیم‘‘ کا ماسٹر مائنڈ ہے!بہرحال اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے بڑے عہدیدار اُس کھلاڑی کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تو مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ شہد کے چھتے میں ہاتھ ڈالوں۔

اگر قارئین اپنی یاداشت پر زور دیں تو باآسانی یہ بات یاد آجائے گی کہ پی ایس ایل کے آغاز میں شرجیل خان اور خالد لطیف کو وطن واپس بھیجنے کے بعد مزید تین کھلاڑیوں محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ذوالفقار بابر پر بھی شک کیا گیا تھا مگر بعد ازاں پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اعلان کیا کہ یہ تینوں کھلاڑی کلیئر ہیں اس لیے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ تینوں کھلاڑی پی ایس ایل میں کھیلتے ہوئے دکھائی دیے جبکہ شرجیل اور خالد کو واپس بھیج دیا گیا کیونکہ بقول نجم سیٹھی ان دونوں کھلاڑیوں کیخلاف پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو ’’ ٹھوس‘‘ ثبوت ملے ہیں ۔ٹھوس ثبوت ملنے کے باوجود ان دونوں کھلاڑیوں کیخلاف کاروائی کیوں نہیں ہوسکی اور ان پر فرد جرم عائد کیوں نہیں کیا گیا ؟یہ ایسے سوالات ہیں جس پر پی سی بی حکام بغلیں جھانک رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں برف جیسے ثبوت ملے ہوں جو وقت گزرنے کے ساتھ پگھل گئے ہیں۔18فروری کو شرجیل اور خالد کیخلاف چارج شیٹ جاری کی گئی اور اگلے 14دن میں جواب طلب کیا گیا جس میں دونوں کھلاڑیوں نے اپنے اوپر لگائے گئے فکسنگ کے الزامات کو مکمل طور پر رد کیا کہ انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کہ جس سے ملک کی بدنامی ہو مگر ان سے یہ غلطی ضرور ہوئی ہے کہ انہوں نے سٹہ باز سے ہونے والے رابطوں سے پی سی بی کو آگاہ نہیں کیا۔اگر دونوں کھلاڑی پی سی بی کی منشاء کے مطابق کچھ اقرار کر لیتے تو بورڈ نے انہیں نشانہ عبرت بنانے میں دیر نہیں لگانی تھی جس کیلئے خالد کو سلطانی گواہ بننے کی پیشکش بھی کی گئی ۔دونوں کھلاڑی اپنے بیانات پر قائم رہے تو اب انہیں سبق سکھانے کیلئے دوسرا پلان تیار ہے۔

شرجیل خان اور خالد لطیف کے خلاف کیس مضبوط بنانے کیلئے اب ساتھی کرکٹرز کا سہارا لینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کیلئے آج (13مارچ)پی سی بی ہیڈ کواٹرز میں محمد عرفان کو طلب کیا گیا ہے جبکہ اگلے دن شاہ زیب حسن کی پیشی ہوگی۔ان دونوں کھلاڑیوں کو پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے سخت سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جس میں ممکنہ طور پر بکی سے ہونے والے رابطوں اور گفتگو کی تفصیل طلب کی جائے گی۔پی سی بی نے جب محمد عرفان اور شاہ زیب حسن کو ’’صاف ستھرا‘‘ قرار دے دیا تھا تو اب اچانک ان دونوں کھلاڑیوں کو اینٹی کرپشن یونٹ نے کیوں طلب کیا ہے؟دونوں کھلاڑی پی سی بی کے ’’احسان مند‘‘ ہیں جنہیں پی ایس ایل کھیلنے کی اجازت دی گئی اور اب وقت آگیا ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی پی سی بی سے ’’تعاون‘‘ کرتے ہوئے نہ صرف احسان کا بدلہ دیں بلکہ شرجیل خان اور خالد لطیف کیخلاف کیس مضبوط بنانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی مدد بھی کریں۔

مجھے اُن لوگوں سے بالکل ہمدردی نہیں ہے جنہوں نے ملک کی عزت کا سودا کرنے کی کوشش کی ہو مگر بات ثبوتوں کیساتھ ہونی چاہیے ۔جن کیخلاف ثبوت ملے تھے وہ چاہے پوری قوم کی آنکھ کا تارا بن جائیں مگر وہ ملک کے مجرم ہی رہیں گے جنہوں نے سینے پر لگے ہوئے سنہری ستارے کو داغدار کرنے کی کوشش کی تھی۔ اگر شرجیل اور خالد کیخلاف بھی ثبوت ہیں تو انہیں سامنے لا کر دونوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے لیکن محض اپنی واہ واہ کروانے اور خود کو ہیرو ثابت کرنے کیلئے کسی کو استعمال نہ کریں کیونکہ آپ کسی چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر کسی فرد کے بارے میں اپنی رائے نہیں دے رہے بلکہ بدقسمتی سے آپ اس وقت پاکستان کرکٹ کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں اس لیے جوشیلا بیان دینے سے قبل سوچ لیا کریں۔آپ کے نزدیک دو کھلاڑیوں پر فکسنگ کے الزامات لگانے میں اتنی ہی سنسنی ہو جتنی آپ نے بھارت کیساتھ چھ سیریزوں کی ’’خوشخبری‘‘ سنائی تھی ۔

پاکستان کرکٹ کی بہتری اسی میں ہے کہ فکسنگ کا گند ہمیشہ کیلئے صاف کیا جائے اور یہ صفائی ان دو کھلاڑیوں سے شروع نہیں ہوگی بلکہ اس کیلئے بہت پیچھے جانا پڑے گا ۔اگر نجم سیٹھی میں اتنی جرات ہے تو ہم بھی پوری طرح ان کیساتھ کھڑے ہیں مگر اپنے کندھوں پر ’’پھول‘‘ لگوانے کیلئے کسی کا کیرئیر تباہ نہ کریں!

Mohammad-Irfan

Facebook Comments