بھارتی کرکٹ بورڈ کا حکومت کو خط؛ شوشہ یا حقیقت؟

بھارتی ذرائع ابلاغ پر خبر گردش کر رہی ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ BCCI نے پاکستان کے ساتھ سیریز کے لئے اپنی حکومت سے باضابطہ اجازت طلب کر لی ہے۔ حکومت کو لکھے گئے خط میں پاکستان کے ساتھ دبئی میں محدود اوورز کی سیریز کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے اور اس کے لئے ستمبر یا نومبر کے مہینوں کو موزوں قرار دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب بھارتی بورڈ کی جانب سے دبئی میں پاکستان کے خلاف کھیلنے پر رضامندی کا اشارہ ملا ہے۔

اب مودی حکومت کی جانب سے اجازت ملتی ہے یا نہیں اس کا تو انتظار رہے گا مگر کرکٹ کے پنڈت اسے بھارت کی چال قرار دے رہے ہیں جس کے پس پردہ دو اہم مسائل حل طلب ہیں۔

سب سے پہلے اس خطیر رقم کی پاکستان کو ادائیگی سے بچنا یا وقت حاصل کرنا ہے جو پاکستان کے ساتھ طے شدہ سیریز نہ کھیلنے کی پاداش میں بھارت کے ذمہ ہیں اور پی سی بی کو اس ممکنہ آمدن سے محروم ہونا پڑا تھا۔

اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ چونکہ انڈیا دوبارہ بگ تھری کی بحالی کی کوششیں کر رہا ہے تو ایسے میں پاکستان کی حمایت درکار ہے تاکہ آئی سی سی پر اپنی بالادستی پھر سے قائم کی جا سکے۔ ویسے بھی بھارت کا سابقہ ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ وقتی چارہ ضرور ڈالتے ہیں مگر کام نکلنے کے بعد مڑ کر بھی نہیں دیکھا کرتے جیسے پاکستان نے 2015 میں آئی سی سی کی بگ تھری کی مشروط حمایت کی تھی جس کے بدلے بی سی سی آئی نے سیریز کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا۔مگر بعد میں انڈیا اچانک پیچھے ہٹ گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے بھارت کی اس اسمارٹ موو کا پی سی بی اہلکار کتنی دانشمندی سے سامنا کرتے ہیں اور بھارت کے ممکنہ اہداف کے خلاف کتنا مضبوط موقف اپناتے ہیں۔

جبکہ پاکستان کی جانب اس خط کی تصدیق یا تردید نہیں کی رہی کیونکہ پی سی بی کے چیئرمین شہریارخان نے اسے آئی سی سی کے ممکنہ اقدامات سے خوف کا نتیجہ قرار دیا ہے اور یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ہمیں اس خط کا کوئی علم نہیں ہے اور نہ کسی نے اس حوالے سے ہم سے کوئی رابطہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 2014 میں بھی BCCI نے فیوچر ٹورز پروگرام (ایف ٹی پی) کے تحت کیے گئے معاہدے کو پورے کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے اجازت مانگی تھی جس کا جواب نفی میں ملا تھا۔ حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر بھارت نے پاکستان کے خلاف سیریز ختم کردی اور جواب مین پاکستانی ٹیم نے بھی ہندوستان کا دورہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

54b509ccaaf66

Facebook Comments