انگلستان عرش اور بھارت فرش پر؛ دونوں ٹیمیں سابق کھلاڑیوں کی نظر میں

انگلستان نے بھارت کو سیریز کے ابتدائی دو میچز میں کیا شکست دی ہے، ہر طرف سے اُن پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ ابھی چند ماہ قبل بھارت کی اسی ٹیم نے دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا اعزاز عالمی کپ حاصل کیا تھا اور انگلستان کی یہی ٹیم آئرلینڈ اور بنگلہ دیش جیسی کمزور ٹیموں سے شکست کھا کر بہت بے آبرو ہو کر عالمی کپ سے نکلی، لیکن اب کسی کو یاد نہیں۔ بس کسی کو یاد ہے تو لارڈز اور ٹرینٹ برج میں بھارت کی ذلت آمیز شکست۔

اینڈریو فلنٹوف کی نظر میں موجودہ ٹیم 2005ء کی ایشیز فاتح ٹیم سے بدرجہا بہتر ہے

اینڈریو فلنٹوف کی نظر میں موجودہ ٹیم 2005ء کی ایشیز فاتح ٹیم سے بدرجہا بہتر ہے

دوسری جانب بھارت کا حال بھی ایسا ہی ہے، گویا کسی کو یاد ہی نہیں کہ ٹیم نے چند ماہ قبل ہی دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا اعزاز عالمی کپ جیتا ہے۔ ہر طرف سے تنقید اور تشنیع کے تیر برس رہے ہیں جس سے کھلاڑیوں کے حوصلے مزید پست ہو رہے ہیں۔

تو پہلے ذکر کرتے ہیں انگلستان کا جہاں کے سابق کھلاڑی موجودہ انگلش ٹیم کی مدح سرائی میں اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ اسے انگلستان کی تاریخ کی بہترین ٹیموں میں شمار کر رہے ہیں، اس امر کو بھول کر کہ چند ماہ قبل یہی ٹیم عالمی کپ سے کس طرح ذلت آمیز شکست کھا کر وطن واپس پہنچی تھی۔ موجودہ ٹیم کی تعریفوں میں پل باندھنے والوں کی فہرست میں نیا نام اینڈریو فلنٹوف کا ہے جن کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیم2005ء میں 18 سال بعد ایشیز جیتنے والی ٹیم سے بھی بہتر ہے۔ اُس سال نہ صرف انگلستان نے ناقابل شکست سمجھے جانے والے آسٹریلیا سے ایشیز کا اعزاز چھینا تھا بلکہ مسلسل 6 ٹیسٹ سیریز میں فتوحات بھی حاصل کی تھیں۔

فلنٹوف نے دو قدم مزید آگے بڑھ کر کہا ہے کہ انگلستان اِس وقت دنیا کی بہترین ٹیم ہے، نہ صرف درجہ بندی میں بلکہ اپنی قوت کے اعتبار سے بھی۔ ان کے پاس سب کچھ ہے۔ میرے خیال میں یہ عرصے تک دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کرے گی۔ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے ماضی میں حکمرانی کی اور اب انگلستان کو اگلے چند سالوں تک حکمرانی کرنی چاہیے۔

فلنٹوف نے کہا کہ 2005ء کے مقابلے میں آج کی ٹیم کہیں زیادہ مضبوط و بہتر ہے۔ 2005ء میں ہمارے پاس 11 کھلاڑی تھے جنہوں نے چند ہفتے یادگار کھیل پیش کیا اور اس کے بعد دوبارہ کبھی اکٹھے کھیلتے نظر نہیں آئے۔ سابق آل راؤنڈر نے خاص طور پر متبادل کھلاڑیوں کا حوالہ دیا کہ انگلستان کے پاس اس وقت جو متبادل کھلاڑی ہیں وہ بھی بہت اعلیٰ پائے کے ہیں۔ ٹیم میں کوئی کمزور کڑی نہیں ہے۔ اگر کوئی زخمی ہوتا ہے تو اس کی جگہ ایک اور اچھا کھلاڑی ٹیم میں جگہ پاتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کے ذرائع ابلاغ ہی کافی ہیں۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ وہی ابلاغی ادارے ہیں جو صرف چند ماہ قبل عالمی کپ جیتنے پر بھارتی دستے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔ لیکن اب سب نظریں پھیر چکے ہیں۔ لگتا ہے بھارتی ٹیم کا برا وقت آن پہنچا ہے۔

لیکن صورتحال کی نازکی کو سمجھنے والے اور ٹیم کو انتشار سے بچانے کے لیے نیک مشورے دینے والے بھی موجود ہیں جن میں بھارت کے سابق قائدین سنیل گواسکر اور انیل کمبلے بھی شامل ہیں۔

ماضی کے عظیم بلے باز سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ ٹیم کے حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو آگے بڑھنا ہوگا اور اس کے لیے انہیں خود کارکردگی پیش کرنا ہوگی۔

سنیل گواسکر کپتان مہندر سنگھ دھونی کی کارکردگی سے پریشان ہیں

سنیل گواسکر کپتان مہندر سنگھ دھونی کی کارکردگی سے پریشان ہیں

انہوں نے کہا ہے کہ اگر دھونی خود اچھا کھیل پیش نہیں کر سکتے تو اس سے ٹیم کا ماحول خراب ہوگا اور خدشہ ہے کہ اس میں اختلافات بھی پیدا ہو جائیں جو عالمی چیمپئن کے لیے ہرگز اچھی بات نہیں۔ تاہم انہوں نے وریندر سہواگ کی واپسی کو ٹیم کے لیے حوصلہ افزاء قرار دیا اور کہا کہ اگر وہ نارتھمپٹن شائر کے خلاف وارم اپ مقابلے میں ناکام بھی ہو جائیں تب بھی انہیں بہرصورت تیسرے ٹیسٹ میں کھلانا چاہیے۔

سنیل گواسکر نے مزید کہا کہ گو کہ بھارت اس وقت سیریز میں 2 میچز کے خسارے میں ہے لیکن دہلی سے اٹھنے والا طوفان (سہواگ) صورتحال کو پلٹ سکتا ہے۔

سابق کپتان انیل کمبلے بھی پرامید دکھائی دیتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ بھارت کو پلٹ کر جھپٹنے کا فن آنا چاہیے اور جیت کی لگن بھی جگانا ہوگی۔ بھارتی روزنامہ ہندو کے لیے لکھے گئے کالم میں سابق اسپنر کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ ظہیر اور بھارتی دستے کے دیگر اراکین تیسرے ٹیسٹ کے لیے 100 فیصد فٹ ہوں گے اس لیے مجھے امید ہے کہ بھارت اگلے مقابلے میں بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 10 دن کا آرام اور وریندر سہواگ کی واپسی ٹیم کے حوصلوں کو مہمیز دے گی۔ ان کے علاوہ گوتم گمبھیر کی انجری سے صحت یابی بھی ٹیم کی مشکلات سے دوچار بیٹنگ لائن اپ کو مکمل کرے گی۔

تاہم سابق بھارتی تیز گیند باز اٹل واسن بھارت کو سیریز میں واپس آتا نہیں دیکھ رہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ انگلستان کلین سویپ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم نے عالمی چیمپئن جیسی کارکردگی پیش نہیں کی اور عرصے تک محنت کے بعد حاصل کی جانے والی پہلی پوزیشن ایک ہی سیریز میں گنوانے جا رہا ہے۔

بھارت اور انگلستان کے مابین برمنگھم میں ہونے والا اگلا ٹیسٹ دراصل عالمی درجہ بندی میں سرفہرست پوزیشن کا مقابلہ بن چکا ہے۔ اگر بھارت وہ مقابلہ ہارتا ہے تو وہ اپنی اول پوزیشن سے محروم ہو جائے گا اور یوں انگلستان دنیا کی عالمی نمبر ایک ٹیم بن جائے گی۔

Facebook Comments