سری لنکا پہلے ٹیسٹ میں پسپا؛ آسٹریلیا 125 رنز سے فتحیاب

ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کے بعد آسٹریلیا نے سری لنکا کو پہلے ہی ٹیسٹ مقابلے میں شکست دے کر فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا ہے اور ہر طرز کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوالیا ہے. مائیکل کلارک کی قیادت میں پہلی بار میدان میں اترنے والی آسٹریلوی ٹیم نے سری لنکا کو کھیل کے تینوں شعبوں میں آؤٹ کلاس کردیا. میزبان ٹیم کے پاس نوآموز کینگرو گیند بازوں خصوصاَ ڈیبیو کرنے والے ناتھن لیون اور ریان ہیرس کی نپی تلی گیندوں کا جواب تھا نہ مائیکل ہسی اور مائیکل کلارک کے بلے سے نکلنے والے رنز کے سامنے بند باندھنے کا کوئی طریقہ. سری لنکا کی جانب سے صرف مہیلا جے وردھنے نے آسٹریلیا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تاہم ان کی سنچری اننگ ٹیم کے کام نہ آسکی اور سری لنکا کی پوری ٹیم ٹیسٹ میچ کے چوتھے ہی روز شکست کھا گئی. میچ کے لو اسکورنگ ہونے کی سب سے اہم وجہ گال اسٹیڈيم کی انتہائی ناقص پچ تھی، جس پر پہلے ہی روز گیند ٹپہ پڑتے ہی پچ کے ٹکڑے اڑا رہی تھی جبکہ بلے باز شاٹ کھیلتا تو دھول اڑتی۔ پچ پر گینداز ناہموار انداز میں اٹھ اور بیٹھ رہی تھی اور یہ مائیکل ہسی اور مہیلا جے وردھنے جیسے پائے کے بلے باز ہی تھے جو اس پچ پر بیٹنگ کر پائے۔

تیز گیند باز ریان ہیرس نے دوسری اننگ میں 5 میزبان کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا (تصویر: AP)

تیز گیند باز ریان ہیرس نے دوسری اننگ میں 5 میزبان کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا (تصویر: AP)

گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں فتح کے لئے درکار 379 رنز کے تعاقب میں سری لنکا کی چوتھی و آخری اننگ کا آغاز و انجام انتائی مایوس کن رہا. پہلی ہی گیند پر ریان ہیرس کے ہاتھوں تھارنگا پرناوتنا کے ایل بی ڈبلیو سے شروع ہونے والا سلسلہ 68 کے مجموعی اسکور پر پانچ سری لنکن بلے بازوں کی پویلین واپسی تک بغیر رُکے جاری رہا. ان 5 اہم بلے بازوں میں کپتان تلکارتنے دلشان بھی شامل تھے جبکہ دو بلے باز پرسنا جے وردھنے اور تھیلان سماراویرا بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے.

اس نازک صورتحال میں سری لنکا کے مستند ترین بلے باز مہیلا جے وردھنے نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا تاہم کوئی دوسرا بلے باز ان کا ساتھ دینے پر راضی نظر نہ آتا تھا. اس موقع پر اینجلو میتھیوز نے انتہائی ذمہ داری سے وکٹ سنبھالی اور صورتحال کے عین مطابق ٹھیر کر بلے بازی کی.

126 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ کے مجموعی اسکور سے جے وردھنے اور میتھیوز نے چوتھے روز کا آغاز انتہائی مستند انداز سے کیا اور دن کے پہلے مرحلے میں آسٹریلوی گیند بازوں کو کوئی وکٹ حاصل کرنے نہ دی. اس دوران اینجلو میتھیوز نے جانسن کو چوکا لگا کر اپنی نصف سنچری مکمل کی تو دوسری طرف مہیلا جے وردھنے نے بھی ریان ہیرس کو ایک چوکا جڑ کر اپنی 29 ویں سنچری اسکور کی. سری لنکا کے نقطۂ نگاہ سے اس اہم اننگ کے دوران جے وردھنے نے 14 چوکے اور 1 چھکا لگایا. ریان ہیرس کے اسی اسپیل میں مہیلا کے ایک شاٹ کھیلنے کی کوشش سے گیند بلے سے ٹکرا کر ان کی وکٹوں سے جا لگی اور اسی کے ساتھ آسٹریلیا مکمل طور پر میچ میں واپس آگیا.

اس شراکت داری کو توڑنے کے لئے سرگرداں کینگرو گیند بازوں میں مہیلا کی وکٹ کے حصول نے ایک نئی جان ڈال دی اور انہوں نے باقی ماندہ 4 وکٹیں بھی مزید 9 اوورز میں ہی ٹھکانے لگا کر اپنی ٹیم کو 125 رنز سے فتح دلوادی. آسٹریلیا کی جانب سے ریان ہیرس 5 وکٹیں حاصل کر کے سب سے کامیاب گیند باز رہے.

اس سے قبل آسٹریلیا نے ایک بڑی برتری کے ساتھ اپنی دوسری اننگ شروع کی. پہلی اننگ کے برعکس اس بار سری لنکن گیند بازوں نے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 5 کے مجموعہ پر دو کینگرو بلے بازوں کو میدان بدر کردیا. جس کے بعد کپتان مائیکل کلارک اور فلپ ہوز نے اننگ کو سہارا دیا. دوسرے روز کے آخری سیشن میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن ایک بار پھر لڑ کھڑا گئی اور 110 کے مجموعہ پر پر نصف سنچری بنانے والے مائیکل کلارک کے بعد پانچویں اور چھٹی وکٹیں بھی جلد گر گئیں. تیسرے روز کا پہلا سیشن آسٹریلوی بلے بازوں کے نام رہا تاہم کھانے کے وقفے کے بعد جب سری لنکن کپتان نے گیند رنگانا ہیراتھ کے ہاتھ میں تھمائی تو انہوں نے پچھلے روز کی طرح اس روز بھی اہم شراکت داری کو توڑ کر آسٹریلوی اننگ کو 210 دن محدود کرنے میں اہم کردار کیا.

ناتھن لیون نے پہلے ٹیسٹ میں 5 وکٹیں لے کر اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا (تصویر: AP)

ناتھن لیون نے پہلے ٹیسٹ میں 5 وکٹیں لے کر اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا (تصویر: AP)

قبل ازیں ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کرنے والی آسٹریلوی ٹیم کی پہلی اننگ آغاز گو کہ اچھا نہ ہوسکا لیکن آسٹریلوی مڈل آرڈر نے اننگ کو سہارا دے کر ایک قابل ذکر مجموعہ تک پہنچا ہی دیا. اس میں اہم کردار مائیکل ہسی کی 95 رنز کی شاندار اننگ کے علاوہ سابق کپتان رکی پونٹنگ کی ذمہ دارانہ اننگ بھی شامل ہے. آسٹریلیا کی پہلی اننگ 273 رنز پر مکمل ہوئی۔

ایک ایسی پچ پر جو پہلے ہی روز کھیلنے کے لیے مشکل دکھائی دے رہی تھی سری لنکن گیند بازوں نے آسٹریلوی اننگز کا خاتمہ تو کردیا لیکن اگلے ہی روز ان کے بلے بازوں نے ان کی محنت پر پوری طرح پانی پھیر دیا.

میچ کا دوسرا دن مکمل طور پر آسٹریلوی ٹیم کے نام رہا جس کے پوری میزبان ٹیم کو 105 رنز پر ڈھیر کر کے ایک بڑی برتری حاصل کرلی. سری لنکا کی جانب سے تھارنگا پرناوتنا نے سب سے زیادہ 29 رنز بنائے. سری لنکا کی ناقص بلے بازی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے صرف 4 بلے باز انفرادی اسکور کو دہرے ہندسے میں پہنچا سکے. سری لنکا کو دیوار سے لگانے میں اہم ترین کردار ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے والے ناتھن لیون نے ادا کیا جنہوں نے 15 اوورز میں محض 34 رنز کے عوض 5 حریف بلے بازوں کو اپنی گھومتی ہوئی گیندوں سے شکار کیا.

آسٹریلیا کے مائیکل ہسی کو شاندار کھیل پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا. اس میچ میں دو آسٹریلوی کھلاڑیوں ناتھن لیون اور ٹرینٹ کوپ لینڈ کو ٹیسٹ کیپ دی گئی. اس میچ میں فتح کے ساتھ آسٹریلیا نے 3 میچوں کی سیریز میں 1-0 سے برتری حاصل کرلی ہے. دونوں ٹیموں کے مابین اگلا مقابلہ 8 اگست سے پالی کیلے اسٹیڈیم میں شروع ہوگا.

سری لنکا بمقابلہ آسٹریلیا (یکم تا 3 ستمبر 2011ء) پہلا ٹیسٹ، گال نیشنل اسٹیڈیم

نتیجہ: آسٹریلیا 125 رز سے کامیاب
مین آف دی میچ: مائیکل ہسی (آسٹریلیا)
سیریز نتائج: سری لنکا 0، آسٹریلیا 1

آسٹریلیا پہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
شین واٹسن ک پرسنا جے وردھنے ب ہیراتھ 22 19 5 0
فل ہیوز ک پرناوتنا ب لکمل 12 31 2 0
رکی پونٹنگ ک میتھیوز ب ہیراتھ 44 83 6 0
مائیکل کلارک ایل بی ڈبلیو ب ہیراتھ 23 45 2 0
مائیکل ہسی ایل بی ڈبلیو ب دلشان 95 177 7 3
عثمان خواجہ ب ویلیگیدرا 21 58 0 0
بریڈ ہیڈن ک میتھیوز ب رندیو 24 46 3 1
مچل جانسن ک پرسنا جے وردھنے ب لکمل 14 33 1 0
ریان ہیرس ایل بی ڈبلیوب لکمل 1 5 0 0
ٹرینٹ کوپ لینڈ ک پرناوتنا ب رندیو 12 16 3 0
ناتھن لیون ناٹ آؤٹ 0 7 0 0
فاضل رنز (ب 3، ل ب 2) 5
مجموعہ (86.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر) 273

 

سری لنکا(گیند بازی) اوور میڈن رنز وکٹ
چناکا ویلیگیدرا 15 5 61 1
سورنگا لکمل 17 2 55 3
رنگانا ہیراتھ 24 3 54 3
سورج رندیو 21 2 76 2
تلکارتنے دلشان 9.4 1 22 1

 

سری لنکا پہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
تھارنگا پرناوتنا ایل بی ڈبلیو ب واٹسن 29 115 3 0
تلکارتنے دلشان ک پونٹنگ ب کوپ لینڈ 4 2 1 0
کمار سنگاکارا ک کلارک ب لیون 10 40 1 0
مہیلا جے وردھنے رن آؤٹ (کوپ لینڈ/ہیڈن) 11 29 2 0
تھیلان سماراویرا ایل بی ڈبلیو ب واٹسن 26 63 2 0
پرسنا جے وردھنے ایل بی ڈبلیو ب واٹسن 0 4 0 0
اینجلو میتھیوز ب لیون 5 19 0 0
سورج رندیو ک پونٹنگ ب لیون 9 19 1 0
رنگانا ہیراتھ ک جانسن ب لیون 0 2 0 0
سورنگا لکمل ناٹ آؤٹ 2 5 0 0
چناکا ویلیگیدرا ک و ب لیون 1 4 0 0
فاضل رنز (ل ب 4، و 1، ن ب 3) 8
مجموعہ (50 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر) 105

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوور میڈن رنز وکٹ
ریان ہیرس 8 5 6 0
ٹرینٹ کوپ لینڈ 12 3 24 1
مچل جانسن 9 1 26 0
ناتھن لیون 15 3 34 5
شین واٹسن 6 1 11 3

 

آسٹریلیا دوسری اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
شین واٹسن ک سمارا ویرا ب ویلیگیدرا 0 1 0 0
فل ہیوز ایل بی ڈبلیو ب دلشان 28 51 3 1
رکی پونٹنگ ک ہیراتھ ب لکمل 4 9 1 0
مائیکل کلارک ک پرسنا جے وردھنے ب ہیراتھ 60 80 7 1
مائیکل ہسی ک پرناوتنا ب ہیراتھ 15 37 1 0
عثمان خواجہ ایل بی ڈبلیو ب ویلیگیدرا 26 68 2 1
بریڈ ہیڈن ک مہیلا جے وردھنے بر ہیراتھ 0 5 0 0
مچل جانسن ک پرسنا جے وردھنے ب ہیراتھ 8 19 1 0
ریان ہیرس ک و ب ہیراتھ 23 45 3 0
ٹرینٹ کوپ لینڈ ناٹ آشٹ 23 30 4 0
ناتھن لیون ک سمارا ویرا ب دلشان 13 13 2 0
فاضل رنز (ب 4، ل ب 4، ن ب 2) 10
مجموعہ (59.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر) 210

 

سری لنکا (گیند بازی) اوور میڈن رنز وکٹ
چناکا ویلیگیدرا 6 3 13 2
سورنگا لکمل 8 3 23 1
رنگانا ہیراتھ 23 3 79 5
سورج رندیو 14 3 61 0
تلکارتنے دلشان 8.2 1 26 2

 

سری لنکا دوسری اننگز (ہدف: 379 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے
تھارنگا پرناوتنا ایل بی ڈبلیو ب ہیرس 0 1 0 0
تلکارتنے دلشان ب ہیرس 12 18 3 0
کمار سنگاکارا ک ہسی ب واٹسن 17 73 1 0
مہیلا جے وردھنے ب ہیرس 105 231 15 1
تھیلان سماراویرا ک ہیڈن ب جانسن 0 14 0 0
پرسنا جے وردھنے ب ہیرس 0 10 0 0
اینجلو میتھیوز ب واٹسن 95 191 13 0
سورج رندیو ک کلارک ب جانسن 0 6 0 0
رنگانا ہیراتھ ک کوپ لینڈ ب ہیرس 12 14 2 0
سورنگا لکمل ک جانسن ب لیون 5 9 1 0
چناکا ویلیگیدرا ناٹ آؤٹ 4 8 0 0
فاضل رنز (ب 1، ل ب 1، و 1) 3
مجموعہ (95.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر) 253

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوور میڈن رنز وکٹ
ریان ہیرس 20 5 62 5
ٹرینٹ کوپ لینڈ 16 6 20 0
مچل جانسن 19 6 56 2
ناتھن لیون 19.5 2 73 1
مائیکل کلارک 6 0 16 0
شین واٹسن 13 6 19 2
رکی پونٹنگ 2 0 5 0

Facebook Comments