کوچ تلاش کمیٹی کا پہلا اجلاس، ظہیر عباس امیدوار نہیں بن سکتے

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نئے کوچ کی تلاش کے لیے قائم کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج لاہور میں منعقد ہوا جس میں پہلی مرتبہ باضابطہ وضاحت کی گئی کہ پاکستان کے کوچ کی آسامی ملکی و غیر ملکی دونوں امیدواروں کے لیے خالی ہے اور کمیٹی کا کوئی رکن امیدوار نہیں بن سکتا۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ سابق کپتان ظہیر عباس تمام تر خواہش کے باوجود قومی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ نہیں بن سکتے۔ یوں کرک نامہ کی یہ بات بھی درست ثابت ہوئی کہ ظہیر عباس کی کمیٹی میں شمولیت کا مقصد ہی دراصل انہیں کوچ بننے سے روکنا تھا۔

کمیٹی صرف سفارشات پیش کرے گی اور حتمی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کریں گے

کمیٹی صرف سفارشات پیش کرے گی اور حتمی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کریں گے

نیشنل کرکٹ اکیڈمی، لاہور میں منعقدہ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے سربراہ انتخاب عالم نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی اعجاث بٹ نے کمیٹی کو مکمل اختیار و آزادی بخشی ہے کہ وہ امیدوار کے طور پر جس کا چاہے انتخاب کرے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور غیر ملکی دونوں درخواست گزار بلاشبہ زیر غور آئیں گے اور اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ آج اشتہار جاری کرے گا اور 15 دنوں تک امیدواروں کی درخواستیں وصول کرے گا۔ (جاری کردہ اشتہار)

انتخاب عالم نے کہا کہ ہم امیدواروں کا جائزہ لیں گے اور اُن کا انٹرویو کریں گے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ ہماری سفارشات کی روشنی میں نئے کوچ کا اعلان کرے گا۔

اجلاس میں سربراہ انتخاب عالم کے علاوہ دونوں امیدواروں ظہیر عباس اور کرنل (ر) نوشاد علی نے شرکت کی جبکہ معاون کے طور پر شامل کیے گئے رمیز راجہ اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے کیونکہ وہ اس وقت کمنٹری کے فرائض انجام دینے کےلیے زمبابوے میں موجود ہیں۔ وہ بذریعہ ٹیلی فون اجلاس میں شریک ہو سکتے تھے لیکن پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلےایک روزہ کے انعقاد کے باعث وہ شرکت نہ کر پائے تاہم انہیں اجلاس کی تمام کارروائی ای میل کر دی گئی ہے۔

کمیٹی کا اگلا اجلاس رواں ماہ کے آخر میں کراچی میں منعقد ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے موجودہ کوچ وقار یونس کے استعفے کے بعد 29 اگست کو کمیٹی تشکیل دی ۔ اس وقت ماہرین کرکٹ کے علاوہ کمیٹی کی رائے بھی تقسیم ہے کہ نیا کوچ ملکی ہونا چاہیے یا غیر ملکی۔ تاہم اس ضمن میں غیر ملکی کوچ کے منتخب ہونے کے امکانات کم ہیں جس کی وجہ پاکستان میں امن و امان کی ناقص صورتحال ہے جو کسی بھی غیر ملکی کی آمد میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بہرحال، اس وقت کوچنگ کے لیے سب سے مضبوط ملکی آپشن عاقب جاوید ہیں جبکہ غیر ملکی ہونے کی صورت میں ڈیو واٹمور کے امکانات ہیں۔

Facebook Comments