محمد اکرم باؤلنگ کوچ نہیں رہے، وقار یونس کے لیے راستہ بالکل صاف

2 480

پاکستان کرکٹ بورڈ نے باؤلنگ کوچ محمد اکرم کو عہدے سے ہٹا کر انہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ کوچ کے لیے تمام ہی ممکنہ ناموں کو سلیکشن کمیٹی کا رکن بنا کر ان کے منہ بند کردیے ہیں اور اب صاف محسوس ہو رہا ہے کہ وقار یونس کے ہیڈ کوچ بننے کے لیے راستہ صاف ہے۔

کیونکہ پاکستان نے باؤلنگ کوچ کی آسامی کے لیے درخواستیں طلب نہيں کیں، اس لیے واضح ہے کہ نیا کوچ کوئی باؤلر ہی ہوگا، غالباً وقار یونس (تصویر: AFP)
کیونکہ پاکستان نے باؤلنگ کوچ کی آسامی کے لیے درخواستیں طلب نہيں کیں، اس لیے واضح ہے کہ نیا کوچ کوئی باؤلر ہی ہوگا، غالباً وقار یونس (تصویر: AFP)

اگر مسلم لیگ نواز کے عہد میں نوازنے کا کلچر نہیں پروان چڑھے گا تو ایسا آخر کب ہوگا؟ قائم مقام وزیر اعلیٰ پنجاب کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی سونپی گئی تو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کی شکست کے ذمہ داروں کو 'یک دو شد، دو شد' منصب دے دیے گئے۔ معین خان کو ٹیم مینیجر اور چیف سلیکٹر بنایا گیا، شعیب محمد کو سلیکشن کمیٹی کا رکن اور ظہیر عباس کو چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا مشیر خاص۔ صرف محمد اکرم ہی بچے تھے، جنہیں بالآخر باؤلنگ کوچ کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کرکے نیشنل کرکٹ اکیڈمی تھما دی گئی ہے اور ساتھ میں وہ سلیکشن کمیٹی کے رکن بھی ہوں گے۔ محمد اکرم کو دو سال قبل ڈیو واٹمور اور جولین فاؤنٹین کے ہمراہ پاکستان کے کوچنگ عملے میں شامل کیا گیا تھا اور اب آئندہ کوچ کے لیے راستہ صاف کرنے کی خاطر اس عہدے سے ہٹا دیے گئے۔

اب بالکل واضح ہے کہ وقار یونس پاکستان کے نئے ہیڈ کوچ بنیں گے کیونکہ اہم مقابل معین خان کو دو عہدوں کے ساتھ راستے سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب محمد اکرم کو منتقل کرکے اس ممکنہ اعتراض کو بھی ختم کردیا گیا ہے جو دو باؤلرز کو کوچ بنانے کی صورت میں اٹھتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے چند روز قبل جو اشتہار جاری کیا تھا اس میں باؤلنگ کوچ کی آسامی شامل نہیں تھی، یہ بھی اس امر کی جانب اشارہ تھا کہ نیا ہیڈ کوچ باؤلر ہی ہوگا، غالباً وقار یونس۔