جنوبی افریقہ بھارت کو شکست دے گا: جونٹی رہوڈز کو یقین

0 488

بھارت نے عالمی کپ میں اپنی مہم کا آغاز پاکستان جیسے روایتی حریف کو شکست دے کر کیا ہے لیکن اس کے باوجود جنوبی افریقہ کے سابق عظیم کھلاڑی جونٹی رہوڈز سمجھتے ہیں کہ ان کی ٹیم ہر شعبے میں بھارت سے زیادہ مضبوط ہے اور کل ملبورن میں جیت اس کے قدم چومے گی۔

بھارت عالمی کپ کی تاریخ میں آج تک جنوبی افریقہ کو نہیں ہرا سکا، یہاں تک کہ 2011ء میں بھی نہیں کہ جب وہ عالمی چیمپئن بنا تھا (تصویر: AFP)
بھارت عالمی کپ کی تاریخ میں آج تک جنوبی افریقہ کو نہیں ہرا سکا، یہاں تک کہ 2011ء میں بھی نہیں کہ جب وہ عالمی چیمپئن بنا تھا (تصویر: AFP)

بھارت عالمی کپ کی تاریخ میں کبھی جنوبی افریقہ کو شکست نہیں دے سکا، 1992ء میں اسے 6 وکٹوں کی شکست ہوئی، 1999ء میں جنوبی افریقہ نے 4 وکٹوں سے میچ جیتا جبکہ 2011ء میں بھی، جب بھارت عالمی چیمپئن بنا، تب بھی اسے گروپ مرحلے میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 3 وکٹوں کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے جنوبی افریقہ کی حالیہ کارکردگی اور اس ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے جونٹی سمجھتے ہیں کہ پروٹیز کا پلڑا بھاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ " پاکستان کے خلاف بھارت کی کارکردگی عمدہ رہی، لیکن جنوبی افریقہ کی بلے بازی مضبوط ہے، گیندبازی زوردار ہے اور میدان بازی (فیلڈنگ) چُست ہے، پھر ان کے پاس ابراہم ڈی ولیئرز جیسا کرشماتی قائد بھی ہے۔

ڈیل اسٹین، مورنے مارکل اور ویرنن فلینڈر کے حامل جنوبی افریقہ کے تیز گیندبازی حملے کے بارے میں جونٹی رہوڈز نے کہا کہ بھارت کے لیے اُن کا سامنا کرنا مشکل ہو گا۔ جنوبی افریقہ کا تیز حملہ آسٹریلیا کی طرح ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ گیندباز بھارت کو دباؤ میں لے آئیں گے اور نئی گیند سے وکٹ جلد لے لیں گے۔ اس لیے بھارت کی راہ آسان نہیں ہے۔

بھارتی بلے بازوں کی خراب فارم کا ذکر کرتے ہوئے ماضی کے عظیم فیلڈر کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ بھارتی بلے بازوں کی خراب فارم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ آسٹریلیا میں ابھی تک بھارتی بلے باز ایک اکائی کے طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے ۔ ٹکڑوں میں کسی نے اچھی اننگز کھیلی تو وہ الگ بات ہے۔ پھر یہاں تیز گیندبازی کا سامنا کرتے ہوئے بھی انہیں پریشانی ہو رہی ہے اور زیادہ تر وکٹیں خراب شاٹس کے انتخاب کے سبب ضائع کی ہیں۔

بھارت اور جنوبی افریقہ کا مقابلہ پاکستان کے وقت کے مطابق صبح ساڑھے 8 بجے ملبورن میں شروع ہوگا اور دنیا بھر کی نظریں اس اہم مقابلے پر ہیں۔