پی ایس ایل فائنل، کراچی میں انتظامات کا جائزہ

0 1,265

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نمائندے نے رواں سال پاکستان سپر لیگ 2018ء کے فائنل کے لیے کراچی میں کیے گئے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ آئی سی سی کے سکیورٹی کنسلٹنٹ ریگ ڈکیسن سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے کراچی آئے تھے، جہاں انہیں انتظامات کا عملی مظاہرہ دکھایا گیا، جو انہوں نے کسی بھی ملک جیسے بہترین انتظامات قرار دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ سال پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کروایا تھا اور رواں سال یہ اہم مقابلہ کراچی میں منعقد کروانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ کراچی میں 2009ء کے بعد سے اب تک کوئی بین الاقوامی مقابلہ نہیں کھیلا گیا جب سری لنکا پاکستان کے بدقسمت دورے پر تھا اور یہیں پر پاکستان میں کھیلاگیا آخری مکمل ٹیسٹ میچ ہوا تھا۔

ریہرسل کے دوران کھلاڑیوں کی ایئرپورٹ سے ہوٹل آمد، پھر ہوٹل سے میدان آمد اور واپسی سمیت تمام مراحل کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ اس پورے آئی سی سی ماہر کا کہنا ہے کہ جو کچھ انہوں نے آج دیکھا، وہ اس سے بہت مطمئن ہیں، "یہ ایک انتہائی جامع اور پیشہ ورانہ انداز کے انتظامات تھے، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کے سکیورٹی ڈپارٹمنٹ سمیت تمام ایجنسیوں کی کوششیں شامل ہیں۔" ڈکیسن نے اس سکیورٹی کو 'کسی بھی دوسرے ملک جتنی بہتر' قرار دیا۔ وہ اگلے سات دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کردیں گے۔

گزشتہ سال پاکستان سپر لیگ فائنل کے لاہور میں انعقاد نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی راہ ہموار کی تھی۔ پہلے ورلڈ الیون نے اور پھر سری لنکا نے اپنی سیریز کا آخری مقابلہ کھیلنے کے لیے پاکستان کے دورے کیے لیکن یہ تمام میچز لاہور میں کھیلے گئے جبکہ کراچی سمیت دیگر تمام بڑے شہر محروم رہے۔ البتہ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے پچھلے سال ہی کہہ دیا تھا کہ اب اگلے پی ایس ایل فائنل کا انعقاد کراچی میں ہوگا۔

اس وقت نیشنل اسٹیڈیم، کراچی میں تعمیراتی کام بہت تیزی جاری ہے اور امید ہے کہ 25 مارچ کو اسی میدان پر ایک یادگار فائنل منعقد ہوگا۔ علاوہ ازیں دو کوالیفائرز کے لاہور میں انعقاد کابھی منصوبہ ہے یعنی اس سال پی ایس ایل کے تین میچز پاکستان میں ہوں گے اور امید ہے کہ اس بار تمام ٹاپ کھلاڑی ضرور شرکت کریں گے۔