"میگا مقابلہ" کراچی نے جیت لیا

0 1,293

پاکستان سپر لیگ کا پہلا "میگا مقابلہ" دونوں روایتی حریف شہروں کراچی اور لاہور کے درمیان کھیلا گیا جس میں توقعات کے عین مطابق کراچی کنگز نے 27 رنز سےکامیابی حاصل کی۔ یوں دونوں ٹیموں نے اپنی ہیٹ ٹرک بھی مکمل کرلی، کراچی نے فتوحات کی اور لاہور قلندرز نے شکست کی۔

سوموار کو پی ایس ایل میں صرف ایک مقابلہ کھیلا گیا جو لاہور اورکراچی کے مابین ٹاکرا تھا۔ لاہور کی بیٹنگ کمزوریوں کا ادراک کرتے ہوئےکراچی نے ٹاس جیت کر خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کامیاب ثابت ہوا۔ جو ڈینلی اور خرم منظور کی جوڑی نے پہلے اوور میں 9 اور دوسرے میں طویل ترین چھکے کے ساتھ مزید 13 رنز بٹورے تو ارادوں کی جھلک نظر آ گئی تھی۔ چوتھے اوور کی آخری گیند تک یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ 36 کے مجموعے پر یاسرشاہ کی دھمال دیکھنے کو ملی یعنی انہوں نے پہلی وکٹ لے لی۔ جو ڈینلی کے فوراً بعد بابر اعظم اور خرم منظور بھی پویلین لوٹ گئے۔ لاہوریوں کی سانسیں بحال ہونے لگیں اور کراچی دباؤ کا شکار نظر آنے لگا۔ یہاں کولن انگرام اور روی بوپارا نے کمر کس لی اور 50 رنز کی شراکت داری نے کراچی کے حوصلے پھر بحال کردیے۔ انگرام شاہین آفریدی اور عمراکمل کے ایک ناقابل یقین کیچ کا نشانہ بنے ۔ چھکے کے لیے جاتے ہوئے ایک شاٹ کو پیچھے کی جانب جست لگاتے ہوئے شاہین آفریدی نے فضاء میں اچھال دیا جسے میدان کی حدود میں موجود عمر اکمل نے پکڑ کر انگرام کی اننگز ختم کردی۔ جب 90 رنزپر کراچی کی پانچویں وکٹ بھی گرگئی تو لاہور مقابلے پر چھا گیا۔ روی بوپارا یہاں ایک اینڈ سے جمے رہے جبکہ دوسرے سے عماد وسیم نے 15 اور محمد عرفان جونیئر نے 16 رنز کی اننگز کھیلیں جن کے درمیان میں شاہد آفریدی آئے، ایک چھکا لگایا اور اگلی ہی گیند پر وکٹ دے کر چلتے بنے۔ آخری گیند پر چھکے کے ساتھ بوپارا نے اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی اور کراچی کے اسکور کو 159 رنز تک بھی پہنچایا۔ لاہور قلندرز کی جانب سے یاسرشاہ، سہیل خان اور سنیل نرائن تینوں نے دو، دو وکٹیں لیں۔

160 رنز کا ہدف لاہور کے لیے مشکل تو نہیں ہونا چاہیے تھا، خاص طور پر جب کپتان برینڈن میک کولم نے انہیں ایک بہترین اننگز کھیل کر دی۔ سنیل نرائن اس بار نہیں چلے اور جلد ہی آؤٹ ہوگئے لیکن جب تک فخر زمان اور میک کولم کریز پر موجود تھے، کراچی کے حواس بحال نہیں ہوئے تھے۔ صرف 6 اوورز میں انہوں نے اسکور کو 68 رنز تک پہنچا دیا تھا۔ لیکن اس کے بعدڈھلوان کا سفر شروع ہو گیا۔ شاہد آفریدی نے پہلے 19 رنز بنانےوالے فخر زمان کو چلتا کیا اور اگلے ہی اوور میں حریف کپتان کی اننگز تمام کردی۔ میک کولم نے 30 گیندوں پر 44 رنز بنائے۔ اس مشکل مرحلے پر بڑی امید عمر اکمل تھے اور "لالا" ان کی فطرت سے آگاہ تھے۔ انہوں نے عمر کے بڑھتے ہوئے قدموں کو بھانپا اور ایک ایسی گیند پھینکی جو ان کی پہنچ سے کافی دور تھی۔ باقی کا کام رضوان نے کیا اور عمر اکمل ایک اور مرتبہ بری طرح ناکام ہوکر میدان سے واپس آ گئے۔ لاہور کے باقی کھلاڑی آہستہ آہستہ آؤٹ ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری ٹیم 19 ویں اوور میں 132 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس دوران سب سے نمایاں چیز جو ڈینلی کا وہ کیچ تھا، جس پر انہوں نے دنیش رامدین کی وکٹ لی۔ یہ محمد عرفان جونیئر کی ایک باہر کو جاتی ہوئی گیند تھی جس پر رامدین نے ایک تیز رفتار کٹ شاٹ کھیلا۔ گیند ڈینلی سے کافی دور گزر رہی تھی، جنہوں نے ہوا میں جست لگائی اور ایک ہاتھ سے اس وقت گیند پکڑی جب وہ مکمل طور پر ہوا میں تھے۔

کنگز کے شاہد آفریدی اور عثمان خان نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں البتہ مرد میدان کا اعزاز شاہد آفریدی کو ملا۔

اس کامیابی سے پہلے ہی کراچی پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست تھا لیکن اب اور مضبوط مقام حاصل کر گیا ہے۔ تین میچز میں اس کے چھ پوائنٹس ہیں جبکہ ملتان چار پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ لاہور تین مقابلوں کے بعد بھی اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام ہے یعنی آئندہ چند میچز قلندرز کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہوں گے۔