اگلی چیمپیئنز ٹرافی کے معاملات پر بھارت اور آئی سی سی میں ٹھن گئی

0 1,023

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے تجویز دی ہے کہ 2021ء میں طے شدہ چیمپیئنز ٹرافی کو روایتی ایک روزہ مقابلوں کے بجائے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کروایا جائے۔ 1998ء سے لے کر 2017ء تک ہر بار چیمپیئنز ٹرافی ایک روزہ بین الاقوامی میچز کی صورت میں ہی کھیلی جاتی ہے لیکن اب جبکہ نویں ایڈیشن کی میزبانی بھارت کو ملی ہے تو کئی نئے مسائل نے جنم لے لیا ہے۔

چیمپیئنز ٹرافی کے گزشتہ دو ایڈیشنز، 2013ء اور 2017ء، کی میزبانی انگلینڈ کو دی گئی تھی۔ اب بھی یقینی نہیں کہ 2021ء میں بھارت میزبانی کرے گی کیونکہ کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی کو بھارت میں ٹیکس معاملات کی وجہ سے کافی تحفظات ہیں۔ آئی سی سی کو امید ہے کہ دوسرے ملکوں کی طرح بھارت بھی ایک عالمی سطح کا ایونٹ کروانے پر اسے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے گا، جیسا کہ 2011ء کے عالمی کپ میں کیا گیا تھا۔ لیکن آخری بار جب ایسا کوئی میگا ایونٹ، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء، بھارت میں ہوا تھا تو اس نے آئی سی سی کو استثنیٰ نہیں دیا تھا۔ اس پر بھارت نے چیمپیئنز ٹرافی کا فارمیٹ تبدیل کرنے کی تجویز بھی مسترد کردی ہے جس کے بعد اب میزبانی کسی دوسرے ملک کو دینے پر غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت کا کہنا ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی سابق صدر جگموہن ڈالمیا کا وژن تھا اور اگر 2021ء میں یہ ٹورنامنٹ بھارت میں ہوا تو اس کا فائنل انہی کے شہر کلکتہ میں ہوگا۔ یہ تو بہت آگے کی باتیں ہیں، ابھی تو یہ دیکھنا ہے کہ ٹیکس معاملات کا اونٹ کس کروٹ پر بیٹھتا ہے، بصورت دیگر یہ ٹورنامنٹ کسی دوسرے ملک منتقل ہو جائے گا۔ کاش کہ اس کا انعقاد پاکستان میں ممکن ہوتا؟