کامران اکمل کی واپسی کا کوئی امکان نہیں

0 975

موجودہ پاکستان سپر لیگ میں کامران اکمل نے اپنی شاندار بلےبازی سے نہ صرف پشاورزلمی کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ پورے ایونٹ کے نمایاں ترین بلے باز ہیں۔ انہوں نے فائنل معرکے سے قبل 12 میچز میں 424 رنز بنا رکھے ہیں جو اس سیزن کے سب سے زیادہ انفرادی رنز ہیں۔ اس کے علاوہ سیزن کی واحد سنچری اور صرف 17 گیندوں پر تیز ترین نصف سنچری بھی "کامی" کو باقی بلےبازوں سے منفرد اور ممتاز بناتی ہے۔

اس شاندار کارکردگی کے باوجود کوچ مکی آرتھر کامران اکمل کی قومی دستے میں واپسی پر کے قائل نہیں اور متعدد حلقوں کی جانب سے شمولیت کے مطالبے کے باوجود اب تک کوئی گرین سگنل نہیں دیا۔ یہی نہیں بلکہ ان کی عدم شمولیت کی وجوہات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کامران اچھا بلے باز ہے مگر صرف ڈومیسٹک میچز تک، بین الاقوامی میچز میں وہ بہتر کارکردگی دکھانے میں زیادہ تر ناکام رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی اصل مہارت وکٹ کیپر ہونا ہے جس میں وہ بہت کمزور ہیں۔ خصوصاً ویسٹ انڈیز کے دورے پر انہوں نے سخت مایوس کیا۔ بہرحال، اب اندازہ نہیں کہ وہ اب تبدیل ہو چکے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن میں عمدہ کارکردگی دکھانے پر کامران اکمل کو دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے قومی دستے میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے انہیں دوبارہ طلب نہیں کیا گیا۔ مکی آرتھر پی ایس ایل میں کراچی کنگز کے کوچ بھی ہیں اور ان کی ٹیم آخری دونوں میچز میں شکست کھاکر ایونٹ سے باہر ہو چکی ہے۔ پہلے پلے آف میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کنگز کو شکست دی اور پھر آخری پلے آف میں پشاور زلمی، بالخصوص کامران اکمل نے، کراچی کو رگید کر رکھ دیا۔ اس ناکامی کی وجہ مکی آرتھر کی نظر میں کپتان عماد وسیم اور اس کے بعد شاہد آفریدی کا زخمی ہونا تھا۔ "دونوں اہم کھلاڑیوں کی موجودگی میں ٹیم کمبی نیشن متاثر ہوا، کیونکہ دونوں اپنی باؤلنگ سے درمیانے اوورز میں حریف بلے بازوں کو روک لیتے تھے لیکن ان کے نہ ہونے سے آخری مقابلے میں پشاور زلمی توقعات سے 20 رنز زیادہ بنا گیا، جس کا خمیازہ بابر اعظم اور جو ڈینلی کی عمدہ بلے بازی کے باوجود بھگتنا پڑا۔"