قلندروں کی سلطانی

جو ٹیم پی ایس ایل کے آغاز سے صحیح معنوں میں ٰمست ٰ رہی ہے آج چیمپئن بن گئی

0 1,015

تحریر: محمد علی منظر

انگریزی میں ایک اصطلاح، تعبیرِ مجازی ‏(figure of speech) کے طور پر استعمال ہوتی ہے oxymoron، جسے متضاد فیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کرکٹ میں ایسی ہی ایک حقیقت وضع ہوئی ہے۔ وہ ٹیم جو پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے کرکٹ کے لیے صحیح معنوں میں ٰمست ٰ رہی ہے آج چیمپئن بن گئی ہے۔ یعنی قلندر جیت گئے !

لیگ میں ٹیموں کے نام رکھنا بھی ایک خوب عمل ہے۔ پی ایس ایل میں جہاں شمشیر زن گلیڈی ایٹرز تھے، وہاں بادشاہت کا شوق رکھنے والے کنگز بھی- یونائٹڈ اور زلمی نے کسی قدر عاجزانہ نام رکھے اور گزشتہ تین سیزن سے ملتان بھی سلطانی کے لیے لیگ میں کَود گئے ہیں۔ نہ جانے لاہور ٹیم مالکان نے کیا سوچ کر یہ نام سوچا؟ لیکن یہ نام گویا اُن کی قسمت کا حصہ سا بن گیا۔

قلندروں کو جیت کی لگن سے زیادہ کرکٹ کا جنون رہا ہے۔ اگرچہ ہر سیزن میں لاہور کے کھلاڑی میدان میں جان مارتے نظر آئے۔ لیکن حاصل، درویشانہ رقصاں قلندروں کی طرح، شائقین کی محبت ہی تھی۔ صرف ! مجھے لگتا ہے کہ یہ محبت اور وارفتگی قلندروں کے لیے آگے بڑھنے کے لیے کافی تھی اور انہوں نے ہر سیزن ایک نئے جذبے کی ساتھ کھیلا۔

لاہور قلندرز نے اپنے پروگرام کے ذریعے کئی نئے ہیرے ڈھونڈے، انہیں تراشا اور پاکستان اور دنیائے کرکٹ کے حوالے کیا۔ آج لاہور قلندر کی جیت شاید اسی بے لوث جذبے کا صلہ ہے۔

یہ فائنل بھی برصغیر کے بیشتر فائنلوں کی طرح یکطرفہ ثابت ہوا۔ اس میں یقیناً قلندروں کی اننگز کے آخری پانچ اوور فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ دونوں اننگز میں فرق تیز گیند بازوں کا رہا۔ جہاں ملتان کے تیز باؤلر رنز کا طوفان تھامنے میں ناکام رہے، وہیں لاہور کے تیز باؤلر مخالف بیٹنگ ٹیم پر دباؤ بڑھاتے رہے۔ اس دباؤ میں ملتان کی بیٹنگ میں مزاحمت کے کچھ آثار بھی نظر آئے لیکن لاہور کے باؤلرز اُن کا پے در پے شکار کرتے رہے۔

شائقین کے جم غفیر میں پاکستان کی سب سے محبوب ٹیم کا جیتنا پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ کے لیے ایک شاندار باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید اسپانسرز اور انعامات کی بارش ہونے کو ہے۔ لیکن قلندروں کو اس سے کیا غرض؟