قلندروں کا انتظار ختم، پہلی بار چیمپیئن

ملتان کی سلطانی فائنل میں نہیں چل پائی، 42 رنز کی بھاری شکست

0 1,001

سات سال کے طویل انتظار کے بعد بالآخر لاہور قلندرز نے اپنی تاریخ کے کم عمر ترین کپتان شاہین آفریدی کی قیادت میں پہلی بار پاکستان سپر لیگ جیت لی۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے ایک تاریخی فائنل میں ٹاس سے لے کر آخری گیند تک لاہور مقابلے پر چھایا ہوا نظر آیا۔ ایسے مراحل ضرور آئے کہ جن میں لاہور مشکلات سے دوچار رہا۔ مثلاً بیٹنگ کے دوران پاور پلے کے اندر ہی فخر زمان سمیت تین کھلاڑیوں کا آؤٹ ہو جانا۔ لیکن محمد حفیظ کا تجربہ اور آخر میں ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزا کی طوفانی اننگز نے لاہور کو وہاں تک پہنچایا، جہاں تک رسائی حاصل کرنا ملتان کے بس کی بات نہیں لگتی تھی۔ خاص طور پر لاہور کے برق رفتار گیند بازوں اور اسپن کا جال بُننے والے باؤلرز کے جھانسے میں آنے کے بعد تو بالکل بھی نہیں۔

شاہین آفریدی نے ٹاس جیتا اور تالیوں کی گونج میں پہلے خود بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ ہی دیر میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں کیونکہ پانچواں اوور ختم ہونے سے بھی پہلے فخر زمان، عبد اللہ شفیق اور اس میچ میں فل سالٹ کی جگہ کھلائے گئے ذیشان اشرف تینوں آؤٹ ہو کر میدان سے واپس آ چکے تھے۔

صورت حال گمبھیر تھی، جب محمد حفیظ نے اسے سنبھالا دیا۔ وہی حفیظ کہ جن کی ایلیمنیٹر 2 میں 28 گیندوں پر 28 رنز کی اننگز پر بہت سخت تنقید ہوئی تھی بلکہ اس میچ کے لیے جب فل سالٹ کو باہر بٹھایا گیا تو کسی دل جلے نے یہ تک کہا کہ بٹھانا تو پروفیسر کو چاہیے تھا۔

لیکن تجربہ تجربہ ہوتا ہے جناب! حفیظ اِس مرتبہ یہ داغ دھونے کے لیے ہی آئے تھے اور واقعی اسے دھونے کے لیے انہوں نے ملتانی باؤلرز کو خوب دھویا۔ 46 گیندوں پر 9 چوکوں اور 1 چھکے کی مدد سے 69 رنز کی شاندار باری کھیلی اور لاہور کو وہ پلیٹ فارم دیا جہاں سے وہ اپنی اننگز کو لانچ کر سکتا تھا۔ پھر جو لانچ ہوا اس نے ملتان کے امکانات کا خاتمہ کر دیا۔ ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزا نے باقی ماندہ 16 گیندوں پر 43 رنز کا اضافہ کر ڈالا۔

کہاں لاہور کے 15 اوورز میں 103 رنز تھے اور کہاں اننگز مکمل ہونے پر اسکور بورڈ پر 180 رنز کا ہندسہ جگمگا رہا تھا۔ صرف 30 گیندوں پر 77 رنز کا اضافہ ہوا۔ بروک 22 گیندوں پر 41 اور ڈیوڈ ویزا آخر میں ایک مرتبہ پھر 8 گیندوں پر 28 رنز بنا کر میدان سے ناقابلِ شکست واپس آئے۔

ان کی اس بلے بازی کے سامنے تو ملتان کے آصف آفریدی کی 19 رنز دے کر 3 وکٹوں کی کارکردگی بھی بجھ سی گئی۔ ملتان کے فاسٹ باؤلرز بُری طرح پٹے۔ ڈیوڈ ولی کے چار اوورز میں 42، شاہنواز ڈاہانی کے 3 اوورز میں 34 جبکہ رمّان رئیس کے تو صرف 2 اوورز میں ہی 35 رنز پڑ گئے۔

یہ ایسا دھچکا تھا کہ جس سے ملتان آخر تک باہر نہیں نکل پایا۔ ہدف کے تعاقب میں اس کے بلے باز 181 رنز کے ہدف کے دباؤ میں نظر آئے۔ بہرحال، جیسے ہی محمد رضوان اور شان مسعود نے اننگز کو اگلے گیئر میں ڈالا، وکٹیں جھڑنا شروع ہو گئیں۔ چوتھے اوور کی آخری گیند پر رضوان محمد حفیظ کے ہاتھوں کلین بولڈ ہو گئے۔ جی ہاں! آج پروفیسر کا ہی دن تھا، جنہوں نے باؤلنگ میں بھی خوب اپنے جوہر دکھائے۔

گو کہ لاہور کے فیلڈرز نے شان مسعود کو بڑے مواقع دیے۔ ان کے دو کیچ بھی چھوٹے، لیکن اس کے باوجود وہ مواقع کا فائدہ نہیں اٹھا سکے اور رضوان کے بعد اگلے ہی اوور میں اپنی وکٹ دے گئے۔ پانچ اوورز ہی میں ملتان کے دونوں اوپنرز کے آؤٹ ہو چکے تھے اور ملتان پر موجود دباؤ کئی گُنا بڑھ گیا۔

یہاں ملتان نے کچھ ایسے فیصلے کیے، جن کی کم از کم ان سے توقع نہیں تھی۔ پورے سیزن میں بہت ہی سوچ سمجھ کر اور نپا تلا قدم اٹھانے والے ملتان نے عامر عظمت کے آؤٹ ہونے کے بعد آصف آفریدی کو تھرڈ ڈاؤن بھیج دیا۔ بلاشبہ آصف لمبے شاٹس مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اُس وقت ملتان کو کیا اس کی ضرورت تھی؟ کیا اننگز کے صرف تین اوورز رہ گئے تھے جو آصف آفریدی کو بھیجنا پڑ گیا؟ جب وکٹ سنبھالنے اور رنز کی رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت تھی وہاں انہیں بھیجنے کی تُک سمجھ نہیں آئی۔ پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا کہ آصف آؤٹ ہوئے اور ایک اضافی وکٹ کا دباؤ بھی ملتان پر آ گیا۔

اب معاملہ آخری مستند بلے بازوں رائلی روسو اور ٹم ڈیوڈ کے کاندھوں پر تھا۔ اس سے پہلے کہ رائلی روسو خطرہ بنتے، ان کی 22 گیندوں پر 15 رنز کی اننگز کا عبد اللہ شفیق نے ایک خوبصورت کیچ کے ذریعے خاتمہ کر دیا۔ یہ تقریباً اُس کیچ کا ری پلے تھا جو فخر زمان کو آؤٹ کرنے کے لیے شاہنواز ڈاہانی نے پکڑا تھا۔

یہاں لاہور کو یقین ہو گیا کہ آج کا دن اُسی کا ہے۔ ٹم ڈیوڈ اور خوشدل شاہ نے آخری مزاحمت تو کی لیکن حالات ان کی گرفت سے کہیں باہر تھے درکار رن ریٹ 15 رنز کو چھو رہا تھا۔ اسٹریٹجک ٹائم آؤٹ کے بعد رنز کی رفتار بڑھائی تو شاہین آفریدی نے خود سنبھال لی اور آتے ہی ٹم ڈیوڈ اور ڈیوڈ وِلی دونوں کو میدان سے باہر کی راہ دکھا دی۔

خطرناک ہوتے خوشدل کو 23 گیندوں پر 32 رنز بنانے کے بعد حارث رؤف نے کلین بولڈ کیا۔ وہ پیچھے کی جانب ایک چوکا لینے کی کوشش کر رہے تھے لیکن گیند کی رفتار ان کی سوچ سے بھی تیز تھی، جو گلّیاں اڑاتی ہوئی نکل گئی۔

رمّان رئیس کی صورت میں شاہین کو اپنی تیسری وکٹ ملی اور وہ پی ایس ایل 7 میں سب سے زیادہ 20 وکٹیں لینے والے باؤلر بن گئے۔

آخری اوور میں ڈیوڈ ویزا کے ہاتھوں عمران طاہر کے آؤٹ ہوتے ہی میدان زبردست آتش بازی سے جگمگا اٹھا اور نعروں کی گونج اور باجوں کی کان پھاڑنے والی آواز میں لاہور نے جیت کا جشن منایا۔ تمام کھلاڑیوں نے میدان کا فاتحانہ چکر لگایا اور تماشائیوں سے داد وصول کی۔

شاہین آفریدی کی قیادت میں اِس سال لاہور قلندرز مکمل طور پر نئے روپ میں نظر آئے۔ سفر میں نشیب و فراز ضرور آئے لیکن مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی غیر معمولی بلکہ ناقابلِ یقین رہی۔ اعداد و شمار ہی دیکھ لیں کہ سب سے زیادہ رنز بنانے اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی بھی قلندز ہی کے تھے۔ فخر زمان نے سب سے زیادہ 588 رنز بنائے اور شاہین آفریدی نے سب سے زیادہ 20 وکٹیں لیں یعنی لاہوری ہر لحاظ سے نمبر وَن رہے۔

ویسے یاد ہے نا کہ فائنل سے پہلے ملتان کو سیزن میں واحد شکست لاہور قلندرز کے ہاتھوں ہوئی تھی؟ آج اسی ٹیم نے فائنل میں بھی میدان مار لیا۔

بہرحال، محمد حفیظ کو فائنل کا مردِ میدان قرار دیا گیا جبکہ محمد رضوان کو 546 رنز بنانے پر پی ایس ایل 7 کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ فخر زمان کو بہترین بلے باز، شاداب خان کو بہترین باؤلر کا، محمد رضوان کو بہترین وکٹ کیپر کا اور خوشدل شاہ کو بہترین آل راؤنڈر کے اعزازات دیے گئے اور سب سے بڑا انعام، پی ایس ایل 7 کی ٹرافی، اٹھائی شاہین شاہ آفریدی نے۔

یوں پاکستان سپر لیگ میں تمام ہی ٹیموں نے کم از کم ایک مرتبہ ٹائٹل جیت لیا ہے۔ اسلام آباد سب سے زیادہ دو مرتبہ جیتا ہے۔ یونائیٹڈ نے 2016ء اور 2018ء میں پی ایس ایل ٹرافی اٹھائی تھی۔ ان دونوں کے درمیان پشاور زلمی نے 2017ء میں اپنا اپنا واحد ٹائٹل جیتا تھا۔

گزشتہ چار سالوں سے چار مختلف ٹیمیں ٹرافی اٹھاتی آئی ہیں۔ 2019ء میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، 2020ء میں کراچی کنگز، 2021ء میں ملتان سلطانز اور اب 2022ء میں لاہور قلندرز چیمپیئن بنے ہیں۔

ویسے سب سے بد قسمت پشاور زلمی ہے کہ جو چار مرتبہ فائنل میں پہنچا اور صرف پہلی بار ہی جیت پایا۔ 2018ء سے 2021ء کے دوران وہ تین مرتبہ فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا لیکن کامیاب نہیں ہو پایا۔

پاکستان سپر لیگ 2022ء، فائنل

لاہور قلندرز بمقابلہ ملتان سلطانز 

تاریخ: 27 فروری 2022ء بروز اتوار

بمقام: قذافی اسٹیڈیم لاہور 

نتیجہ: لاہور قلندرز 42 رنز سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: محمد حفیظ (لاہور قلندرز)

لاہور قلندرز رنز گیندیں چوکے چھکے
فخر زمان کیچ شاہنواز ڈاہانی بولڈ آصف آفریدی 3 6 0 0
عبد اللہ شفیق اسٹمپ محمد رضوان ب آصف آفریدی 14 13 2 0
ذیشان اشرف کیچ محمد رضوان ب ڈیوڈ ولی 7 5 1 0
کامران غلام کیچ ٹم ڈیوڈ ب آصف آفریدی 15 20 0 0
محمد حفیظ کیچ شان مسعود بولڈ شاہنواز ڈاہانی 69 46 9 1
ہیری بروک ناٹ آؤٹ 41 22 2 3
ڈیوڈ ویزا ناٹ آؤٹ 28 8 1 3
فاضل رنز بائے 1، لیگ بائے 1، وائیڈ 1 3
مجموعہ ‏20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 180

 

ملتان سلطانز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
آصف آفریدی 4 0 19 3
ڈیوڈ ولی 4 0 42 1
رمّان رئیس 2 0 35 0
خوشدل شاہ 3 0 26 0
عمران طاہر 4 0 22 0
شاہنواز ڈاہانی 3 0 34 1

 

ملتان سلطانز (ہدف: 181 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے
شان مسعود رن آؤٹ (فخر  زمان) 19 15 1 0
محمد رضوان بولڈ محمد حفیظ 14 12 3 0
عامر عظمت کیچ فخر زمان بولڈ محمد حفیظ 6 9 0 0
رائلی روسو کیچ عبد اللہ شفیق بولڈ زمان خان 15 22 1 0
آصف آفریدی بولڈ زمان خان 1 3 0 0
ٹم ڈیوڈ کیچ فخر زمان بولڈ شاہین آفریدی 27 17 2 1
خوشدل شاہ بولڈ حارث رؤف 32 23 4 0
ڈیوڈ ولی بولڈ شاہین آفریدی 0 1 0 0
رمّان رئیس بولڈ شاہین آفریدی 6 7 1 0
عمران طاہر کیچ حارث رؤف بولڈ ڈیوڈ ویزا 10 7 2 0
شاہنواز ڈاہانی ناٹ آؤٹ 0 1 0 0
فاضل رنز لیگ ب 2، وائیڈز 6 8
مجموعہ ‏19.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 138

 

لاہور قلندرز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
شاہین آفریدی 4 0 30 3
محمد حفیظ 4 0 23 2
حارث رؤف 4 0 34 1
سمِت پٹیل 2 0 7 0
زمان خان 4 0 26 2
ڈیوڈ ویزا 1.3 0 16 1