بنگلہ دیشی باؤلر صرف 40 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

0 426

بنگلہ دیش کے سابق اسپنر باؤلر مشرف حسین صرف 40 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ دماغ کے سرطان میں مبتلا تھے۔

چھ ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کرنے والے مشرف نے اپنے مختصر کیریئر میں 4 وکٹیں حاصل کیں البتہ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر تقریباً 17 سال پر محیط تھا جس کے دوران انہوں نے 3 ہزار رنز بنانے کے علاوہ 300 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ بنگلہ دیش کے صرف 7 کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دے رکھا ہے۔

مشرف حسین کے کیریئر کی سب سے نمایاں جھلک 2013ء کے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ فائنل میں ان کا مین آف دی میچ بننا تھا۔ ڈھاکا گلیڈی ایٹرز کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے اس میچ میں 26 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

انہوں نے اپنا آخری میچ فروری 2019ء میں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ ہی میں کھیلا تھا جس میں ان کی ٹیم کومیلا وکٹوریئنز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ڈھاکا ڈائنامائٹس کو صرف ایک رن سے ہرایا تھا۔ اس میچ میں مشرف نے 23 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی تھی۔ لیکن اگلے ہی مہینے ان کو دماغ میں رسولی کی تشخیص ہوئی اور یوں کیریئر کا خاتمہ ہو گیا۔

ابتدائی علاج کے بعد مشرف کی طبیعت میں کچھ بحالی نظر آئی، لیکن نومبر 2020ء میں یہ رسولی پھر بڑھنا شروع ہو گئی اور بالآخر آج ان کا انتقال ہو گیا۔

انٹرنیشنل کیریئر میں مشرف حسین کا پہلا مقابلہ 2008ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف چٹوگرام میں کھیلا گیا ون ڈے مقابلہ تھا۔ اس سیریز کے تین میچز میں صرف ایک وکٹ حاصل کرنے پر انہیں ٹیم سے نکال دیا گیا اور پھر اگلے ساڑھے 8 سال تک وہ ایک بار بھی قومی اسکواڈ کا حصہ نہیں بن پائے۔

ڈومیسٹک سرکٹ میں شاندار کارکردگی کی بدولت انہیں 2016ء میں ایک مرتبہ پھر ٹیم میں طلب کیا گیا، جب انہوں نے افغانستان اور انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ایک، ایک میچ کھیلا۔ انگلینڈ کے خلاف اکتوبر 2016ء میں میرپور میں ہونے والا ون ڈے ان کے کیریئر کا آخری انٹرنیشنل میچ تھا۔

البتہ مشرف اپنے طویل فرسٹ کلاس کیریئر میں وہ نیشنل کرکٹ لیگ اور ڈھاکا پریمیئر لیگ کے ایک نمایاں کھلاڑی تھے۔

مشرف حسین کے کرکٹ کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزوکٹیںبہترین باؤلنگ‏5 وکٹیں
ون ڈے543/24‏0 مرتبہ
فرسٹ کلاس1123929/105‏19 مرتبہ
لسٹ اے1041205/57‏1 مرتبہ
ٹی ٹوئنٹی56604/9‏0 مرتبہ