گریم اسمتھ نسل پرستی کے الزامات سے بری

0 895

کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے سابق ڈائریکٹر گریم اسمتھ کو اپنے دور میں نسل پرستانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔

گریم، جو ماضی میں طویل عرصے تک جنوبی افریقہ کے کپتان بھی رہے ہیں، پر نسلی امتیاز برتنے کے تین الزامات تھے۔ تحقیقات کے دوران ان کے خلاف یہ الزامات ثابت نہیں ہوئے اور ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی وجہ سے انہیں بری قرار دیا گیا۔

اسمتھ پر پہلا الزام 2012ء سے 2014ء کے دوران وکٹ کیپر تھامی سولی کیلے کے ساتھ نسلی بنیادوں پر امتیاز برتنے کا تھا کہ جنہیں قومی ٹیم میں شامل تو کیا گیا لیکن کھلایا کبھی نہیں گیا۔ اس کے علاوہ ان پر کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے سیاہ فام عہدیداروں کے ساتھ تعاون سے انکار اور 2019ء میں اینوک اینکوے کی جگہ مارک باؤچر کو نسلی بنیادوں پر قومی ٹیم کا کوچ بنانے کا الزام تھا۔

تحقیقات میں باؤچر کی تعیناتی میں نسلی بنیادوں پر امتیاز کے شواہد نہیں ملے۔

کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے ڈائریکٹر کرکٹ کی حیثیت سے اسمتھ کا دور 31 مارچ کو مکمل ہو گیا تھا۔

طویل عرصے تک جنوبی افریقہ کے کپتان رہنے والے اسمتھ 2019ء میں ڈائریکٹر کرکٹ بنے تھے۔

اسمتھ کے علاوہ باؤچر اور سابق کپتان اے بی ڈی ولیئرز سمیت دیگر پر متعصبانہ رویے اور نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھنے کے الزامات تھے۔ البتہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ گریم اسمتھ نے 2002ء سے 2014ء کے دوران 117 ٹیسٹ، 197 ون ڈے اور 33 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی تھی۔