سینٹرل کانٹریکٹس کا اعلان، فہیم اور حسنین خارج

0 149

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نئے سال ‏2022-23ء کے لیے سینٹرل کانٹریکٹس کا اعلان کر دیا، جس میں کئی حیران کن اخراج بھی ہوئے ہیں۔ مثلاً فہیم اشرف اور محمد حسنین کو کسی بھی کیٹیگری میں شامل نہیں کیا گیا۔

پی سی بی نے رواں سال اپنے سینٹرل کانٹریکٹس کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں، جیسا کہ انہیں دو حصوں میں تقسیم کرنا۔ اب ٹیسٹ اور محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے الگ بنیادوں پر مرکزی معاہدے کیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے سینٹرل کانٹریکٹ پانے والے کھلاڑیوں کی تعداد 20 سے بڑھ کر 33 ہو گئی ہے۔ لیکن پھر بھی فہیم اشرف اور محمد حسنین کی جگہ نہیں بنی۔ حسنین کو تو لگتا ہے باؤلنگ ایکشن رپورٹ ہونا مار گیا جبکہ فہیم اشرف کا اخراج ایک سربستہ راز ہے۔

سینٹرل کانٹریکٹس کا اعلان چیف سلیکٹر محمد وسیم نے راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ جہاں اعلان کردہ فہرست میں توقعات کے مطابق بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین آفریدی سب سے اعلیٰ کیٹیگری 'اے' میں ہیں، ٹیسٹ اور محدود اوورز دونوں طرز کی کرکٹ میں۔ ان کے علاوہ صرف امام الحق اور حسن علی ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں دونوں طرز کی کرکٹ میں سینٹرل کانٹریکٹس سے نوازا گیا۔

حسن علی کے لیے گزشتہ سال بہت مایوس کن رہا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ محدود اوورز کی کرکٹ میں انہیں کیٹیگری 'سی' میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ ٹیسٹ میں انہیں کیٹیگری 'بی' ملی ہے۔ جبکہ امام الحق جو گزشتہ سال کیٹیگری 'سی' میں تھے، اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت رواں سال محدود اوورز میں تو کیٹیگری 'بی' میں آ گئے ہیں، البتہ ٹیسٹ میں وہ اب بھی کیٹیگری 'سی' میں ہی ہیں۔

اظہر علی جنہیں پچھلے سال کیٹیگری 'بی' دی گئی تھی، اِس سال صرف ٹیسٹ میں سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کر سکے ہیں، البتہ انہیں کیٹیگری 'اے' ضرور ملی ہے۔

ان کے علاوہ فواد عالم کیٹیگری 'بی'، عبد اللہ شفیق، نسیم شاہ اور نعمان علی کیٹیگری 'سی' اور عابد علی، سرفراز احمد، سعود شکیل، شان مسعود اور یاسر شاہ کیٹیگری 'ڈی' میں صرف 'ریڈ بال' کانٹریکٹس پا سکے ہیں۔

ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے 'وائٹ بال' کانٹریکٹس دیکھیں تو ہمیں یہاں کیٹیگری 'اے' میں فخر زمان اور شاداب خان ہی نظر آتے ہیں۔ حارث رؤف کیٹیگری 'بی' کے واحد کھلاڑی ہیں جبکہ محمد نواز کیٹیگری 'سی' کے۔ کیٹیگری 'ڈی' میں آصف علی، حیدر علی، خوشدل شاہ، محمد وسیم جونیئر، شاہنواز ڈاہانی، عثمان قادر اور زاہد محمود شامل ہیں۔

ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی ایمرجنگ کیٹیگری میں ہمیں 7 نام نظر آتے ہیں: علی عثمان، حسیب اللہ، کامران غلام، محمد حارث، محمد ہُریرہ، قاسم اکرم اور سلمان علی آغا۔

ویسے بورڈ نے کھلاڑیوں کی میچ فیس میں 10 فیصد اضافہ بھی کیا ہے جبکہ میچ نہ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فیس بھی بڑھائی گئی ہے۔ پہلے انہیں کھیلنے والوں کے مقابلے میں 50 فیصد فیس ملتی تھی، جو اب 70 فیصد کر دی گئی ہے۔

ویسے ان سینٹرل کانٹریکٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہیں اور کئی ایسے کھلاڑی اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، جو کبھی لازم و ملزوم تھے۔