پہلا ٹی ٹوئنٹی، نیوزی لینڈ نے نیدرلینڈز پر قابو پا لیا

0 411

نیدرلینڈز کے بس ڈے لیڈے کو اگر صرف ایک بلے باز کا ساتھ میسر آ جاتا تو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی کا نتیجہ شاید مختلف ہوتا۔ ان کی 53 گیندوں پر 66 رنز کی شاندار اننگز بھی نیوزی لینڈ کو 16 رنز سے میچ جیتنے سے نہ روک پائی۔ یوں بلیک کیپس نے سیریز میں ‏1-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی ہے۔

نیوزی لینڈ کا دورۂ نیدرلینڈز 2022ء - پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل

نیدرلینڈز بمقابلہ نیوزی لینڈ

‏4 اگست 2022ء

اسپورٹ پارک، دی ہیگ، نیدرلینڈز

نیوزی لینڈ 16 رنز سے جیت گیا

نیوزی لینڈ 🏆164-5
مارٹن گپٹل4536
جیمز نیشم3217
نیدرلینڈز باؤلنگامرو
شاریز احمد30152
لوگن وان بیک40352

نیدرلینڈز132
بس ڈے لیڈے6653
اسکاٹ ایڈورڈز2016
نیوزي لینڈ باؤلنگامرو
بلیئر ٹکنر3.30274
بین سیئرس40223

دی ہیگ میں کھیلے گئے اس مقابلے میں نیوزی لینڈ نے پہلے خود کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دھیمی وکٹ پر نیوزی لینڈ کا آغاز محتاط تھا۔ ابتدائی 10 اوورز میں وہ صرف 61 رنز ہی جوڑ پایا، لیکن اس احتیاط کے باوجود گیارہویں اوور کا آغاز تیسری وکٹ گرنے کے ساتھ ہوا، جب معاملہ آخری پانچ اوورز تک پہنچا تو صرف 95 رنز پر پانچ آؤٹ ہو چکے تھے۔ جبکہ مارٹن گپٹل کی 36 گیندوں پر 45 رنز کی اننگز بھی ختم ہو چکی تھی۔

یہاں پر جمی نیشم کے 17 گیندوں پر 32 رنز نے بڑا کام دکھایا۔ اگر ڈے لیڈے کے ایک عمدہ کیچ کے ذریعے ان کی اننگز کا خاتمہ نہ کرتے تو وہ آخری تین اوورز کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اسکور کو کہیں کا کہیں لے جاتے۔ بہرحال، آخر میں ایش سوڈھی کے دو چھکوں کی بدولت نیوزی لینڈ سات وکٹوں پر 148 رنز تک پہنچ گیا، جو آخر میں نیدرلینڈز کے لیے کافی سے زیادہ ثابت ہوئے۔

اس ہدف کے تعاقب میں سوائے بس ڈے لیڈے کے کوئی بیٹسمین مہمان باؤلر کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ تجربہ کار اسٹیفن مائی برگ تو دوسرے اوور کی پہلی ہی گیند پر وکٹ دے گئے۔ پھر تو سلسلہ ہی چل نکلا۔ لوکی فرگوسن اور بلیئر ٹکنر کی زبردست باؤلنگ کے سامنے ہر دوسری، تیسری گیند پر ایک اپیل فضا میں بلند ہوتی۔ جب پانچ اوورز مکمل ہوئے تو اسکور بورڈ پر صرف 16 رنز موجود تھے اور تین وکٹیں گر چکی تھیں۔

کپتان اسکاٹ ایڈورڈز نے ڈے لیڈے کے ساتھ اننگز کو کچھ سنبھالا۔ گیارہویں اوور تک دونوں ڈٹ کر نیوزی لینڈ کی باؤلنگ کا مقابلہ کرتے رہے۔ ایڈورڈز نے چند بہت عمدہ شاٹس بھی کھیلے، لیکن گلین فلپس کے ایک زبردست کیچ نے ان کی 20 رنز کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ وہ بوجھل دل کے ساتھ میدان سے واپس آئے۔

صرف 67 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے باوجود ڈے لیڈے تنِ تنہا لڑتے رہے۔ 17 ویں اوور کی آخری گیند پر ایک شاندار چھکے کے ساتھ انہوں نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ تب نیدرلینڈز کو مزید 39 رنز کی ضرورت تھی، جو بن بھی سکتے تھے بس اگر کچھ وکٹیں ہوتیں۔ آخری تین اوورز کے دوران ہر اوور میں باؤنڈری بھی لگی اور وکٹ بھی گری، یہاں تک کہ آخری اوور میں درکار 23 رنز کے لیے ایک چوکا لگانے کے بعد ڈے لیڈے کی اننگز بھی اپنے انجام کو پہنچی۔

نیدرلینڈز 132 رنز پر آل آؤٹ ہوا اور یوں 16 رنز سے یہ میچ ہار گیا۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے بلیئر ٹکنر نے 4 اور بین سیئرس نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

اب سیریز کا دوسرا اور آخری میچ جمعے کو کھیلا جائے گا۔