موسمیاتی تبدیلی، کیا کرکٹ بچ پائے گی؟

0 746

ویسٹ انڈیز میں ایک لطیفہ ہے کہ اگر آپ کو شدید گرمیوں میں بارش چاہیے تو کرکٹ کھیلنا شروع کر دیں۔

یہ تو چلیں ایک مذاق تھا، لیکن امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے 2018ء کی ایک کلائمٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے جو کھیل سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، ان میں کرکٹ پیش پیش ہوگا۔

کرکٹ فٹ بال کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے مقبول کھیل ہے، جس کے ناظرین کی تعداد دو ارب ہے۔ یہ دنیا کے آباد ترین ملکوں میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بہت مقبول ہے اور ساتھ ہی جنوبی افریقہ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز میں بھی، اور یہی وہ ممالک ہیں جو سخت گرمی، بارشوں، سیلاب، خشک سالی، طوفانی، جنگل کی آگ اور سطحِ سمندر میں اضافے کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

کرکٹ کا آغاز انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ملکوں سے ہوا تھا، جو آج خود بھی گرمی کی شدید لہروں سے نبرد آزما ہیں۔ یہ ہِیٹ ویوز اب زیادہ شدت کے ساتھ اور زیادہ لمبے عرصے کے لیے آ رہی ہیں۔

یہ رجحان دنیا بھر میں نظر آ رہا ہے۔ تاریخ کے 21 گرم ترین سالوں میں سے 20 ایسے ہیں جو سن 2000ء کے بعد آئے ہیں۔ برصغیر میں دیکھیں تو رواں سال کرکٹ تاریخ کے گرم ترین ایام میں کھیلی گئی ہے جبکہ برطانیہ میں بھی اس سال ریکارڈ تاریخ کا گرم ترین دن دیکھا گیا ہے۔

جون میں جب ویسٹ انڈیز پاکستان کے دورے پر تھا تو میزبان شہر ملتان مین درجہ حرارت 44 درجہ سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ اس دورے پر آنے والے ویسٹ انڈین باؤلر عقیل حسین کہتے ہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے آپ کسی تندور میں بیٹھے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ دوسرے ون ڈے کے دوران تو مٹی کا طوفان بھی آ گیا، جس کی وجہ سے کھیل کافی دیر رکا رہا۔

ٹیسٹ کرکٹ تو خیر پانچ دنوں پر محیط ہوتی ہے، لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں بھی کھلاڑی سات سے آٹھ گھنٹے میدان میں گزارتے ہیں۔ کرکٹ اور کلائمٹ چینج پر 2019ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک پروفیشنل بیٹسمین کو ایک دن میں ایک میراتھون دوڑ میں حصہ لینے والے کھلاڑی جتنی گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میراتھون میں حصہ لینے والے تو پھر ہلکے پھلکے کپڑے پہنتے ہیں، کرکٹ میں تو بیٹسمین کو پیڈز، دستانے اور ہیلمٹ تک پہننے پڑتے ہیں، جس سے اُن کا پسینہ خشک ہونے کی رفتار دھیمی پڑ جاتی ہے۔

کرکٹ کے معاملات کا ذمہ دار ادارہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہے، جس نے ابھی تک اقوام متحدہ کے اسپورٹس اینڈ کلائمٹ انیشی ایٹو پر دستخط نہیں کیے۔ اس منصوبے کا ہدف ہے کھیلوں کے عالمی ادارے 2050ء تک اپنے کاربن فٹ پرنٹس کم کریں اور آلودگی کے اخراج کو صفر تک پہنچائیں۔

پھر کرکٹ کھلاڑیوں کا واحد مسئلہ صرف گرمی نہیں۔ بیس بال کے مقابلے میں کرکٹ بارش میں کھیلنا آسان نہیں۔ جب ہوا زیادہ گرم ہوتی ہے تو اس میں نمی بھی زیادہ جمع ہو جاتی ہے اور یوں بارشیں زیادہ شدت کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ جب جولائی میں بھارتی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھی تو ایک میچ مکمل طور پر بارش کی نذر ہوا اور اگلے دونوں مقابلے بھی مختصر ہوئے۔ برصغیر میں تو مون سون کے مہینوں میں کرکٹ میچز بہت متاثر ہوتے ہیں۔

ایک طرف موسمیاتی صورت حال ہے، دوسری جانب سخت ہوتا ہوا کرکٹ شیڈول بھی کھلاڑیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ انگلینڈ کے مایہ ناز کھلاڑی بین اسٹوکس نے ون ڈے انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ لیتے ہوئے کہا کہ ہم گاڑیاں نہیں ہیں کہ آپ نے پٹرول ڈالا اور چلانا شروع کر دیا۔

یہ ریٹائرمنٹ عین اُس دن آئی، جب برطانیہ میں تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، 40 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ شدت اب معمول بن جائے گی۔ جون میں جنوبی افریقہ کا دورۂ بھارت اس حال میں کھیلا گیا کہ کھلاڑیوں کو بار بار آئس پیک استعمال کرتے اور پانی پینے کے لیے بریکس لیتے دیکھا گیا۔ جب 9 جون کو نئی دلّی میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریز تک پار کر گیا تھا۔ بھارت میں کرکٹ بہت مقبول ہے، اس حالت میں بھی میدان میں 30 ہزار سے زیادہ تماشائی موجود تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جنوبی افریقہ کو بھارت میں موسم کی اس شدت کا سامنا کرنا پڑا۔ 2015ء میں جب جنوبی افریقہ نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو چنئی میں آٹھ کھلاڑی اور عملے کے دو اراکین ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ فوڈ پوائزننگ اور سخت گرمی کی وجہ سے ہوا۔

پھر 2017ء میں سری لنکا کے کھلاڑیوں کو دلّی کی شدید آلودگی کے دوران ڈریسنگ روم میں ماسک پہنے اور آکسیجن سلنڈر استعمال کرتے دیکھا گیا۔ آلودگی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ چند کھلاڑی بیمار پڑ گئے تھے۔

‏2018ء میں انگلینڈ کے ایشیز کے دوران انگلش کپتان جو روٹ پیٹ گڑبڑ ہونے، پانی کی کمی اور لُو لگنے کی وجہ سے سڈنی کے ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

‏2019ء میں آسٹریلیا میں جنگلات کی آگ لگی تو ایک کھلاڑی اسٹیو او کیف نے کہا تھا کہ سڈنی میں اتنا دھواں تھا کہ ایسا لگ رہا ہے آپ دن میں 80 سگریٹ پی رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی دنیا کو بُری طرح متاثر کر رہی ہے، لیکن ترقی پذیر ممالک میں اب بھی اس سے نمٹنا اوّلین ترجیح نہیں کیونکہ وہاں تو عوام زندگی کی بنیادی ترین سہولیات کے لیے جدوجہد کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ امیر اور ترقی یافتہ ممالک، جو ماحول دشمن گرین ہاؤس گیسوں کا بڑا حصہ خارج کرتے ہیں، اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ ویسٹ انڈین ٹیم کے ترجمان ڈیریو بارتھلی نے بالکل صحیح الفاظ ادا کیے کہ امریکا میں عوام پرائیوٹ جیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہم پلاسٹک اسٹرا استعمال نہ کریں۔