آئرلینڈ سیریز جیت گیا، افغانستان اور بارش دونوں کو شکست

0 214

آئرلینڈ نے پانچویں اور فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی میں افغانستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز ‏3-2 سے جیت لی ہے۔ ابتدائی دو مقابلوں میں برتری حاصل کرنے کے بعد میزبان آئرلینڈ کو مسلسل دو شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لگتا تھا وہ افغانستان کے بڑھتے قدم روک نہیں پائے گا۔ لیکن بارش کے باوجود آخری ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی حاصل کر لی جہاں اسے 7 اوورز میں 56 رنز کا ہدف ملا تھا، جو اس نے محض تین وکٹوں کے نقصان پر ہی حاصل کر لیا۔

افغانستان کا دورۂ آئرلینڈ 2022ء - پانچواں ٹی ٹوئنٹی

آئرلینڈ بمقابلہ افغانستان

‏17 اگست 2022ء

سول سروس کرکٹ کلب، بیلفاسٹ، آئرلینڈ

آئرلینڈ 7 وکٹوں سے جیت گیا

فیصلہ ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت ہوا

آئرلینڈ سیریز میں ‏3-2 سے کامیاب

افغانستان 95-5
عثمان غنی4440
عظمت اللہ عمر زئی1514
آئرلینڈ باؤلنگامرو
مارک اڈیئر20163
جوش لٹل20142

آئرلینڈ 🏆56-3
پال اسٹرلنگ1610
لورکان ٹکر1412
افغانستان باؤلنگامرو
مجیب الرحمٰن20172
راشد خان20171

ٹاس آئرلینڈ نے جیتا اور افغانستان کو کھیلنے کی دعوت دی۔ جس نے ابتدائی چار اوورز میں ہی تین وکٹیں گنوائیں۔ حضرت اللہ زازئی، رحمٰن اللہ گرباز اور ابراہیم زدران تینوں مارک اڈیئر کی تباہ کن باؤلنگ کا نشانہ بنے۔ انہوں نے ایک ہی اوور میں حضرت اللہ اور رحمٰن اللہ کی قیمتیں وکٹیں حاصل کیں۔

پھر اگلے اوور میں ابراہیم زدران بھی انہیں وکٹ دے گئے۔ بیری میک کارتھی کے ایک عمدہ کیچ نے انہیں میدان سے باہر کا راستہ دکھایا۔ یوں افغانستان کی اننگز کو بریک لگ گئے۔

یہاں عثمان غنی نے ایک اینڈ سنبھالا اور ابھی نجیب اللہ زدران کے ساتھ رنز کی رفتار بھی بڑھائی۔ دسویں اوور میں 22 رنز بنے، جس کے بعد آئرلینڈ نے نجیب اللہ اور کپتان محمد نبی کو یکے بعد دیگرے آؤٹ کر دیا۔ محمد نبی پہلی ہی گیند پر وکٹ کیپر لورکان ٹکر کے ایک غیر معمولی کیچ کا نشانہ بنے۔

اب افغان اننگز ایک مرتبہ پھر لڑکھڑا چکی تھی۔ اگلے پانچ اوورز میں صرف 33 رنز کا اضافہ ہو پایا، یہاں تک کہ بارش نے میدان کو آ لیا۔ تب افغانستان کا اسکور 15 اوورز میں پانچ وکٹوں پر 95 رنز تھا۔

شاید افغان بلے باز اننگز کو اگلے گیئر میں لے جانے کے لیے آخری پانچ اوورز کا انتظار کر رہے تھے، لیکن یہ مرحلہ ان کے نصیب ہی میں نہیں تھا۔ عٹمان 40 گیندوں پر صرف 44 اور عظمت اللہ 14 گیندوں پر محض 15 رنز کے ساتھ میدان سے واپس آئے۔

بارش کے بعد جب میچ دوبارہ شروع ہوا تو آئرلینڈ کو ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے مطابق 7 اوورز میں 56 رنز کا ہدف ملا۔

ویسے بارش نے امکانات تقریباً ختم کر دیے تھے لیکن عملے کی ان تھک محنت نے میدان کو دوبارہ کھیل کے قابل بنایا۔ یہی محنت بعد میں آئرلینڈ کے کام آئی۔ جس نے پہلے ہی اوور سے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ پال اسٹرلنگ نے چوکے سے اننگز کا آغاز کیا اور 10 گیندوں پر 16 رنز بنائے۔ ابتدائی پانچ اوورز میں ہی آئرلینڈ نے 43 رنز اکٹھے کر لیے، جس میں پانچویں اوور میں مجیب الرحمٰن سے لوٹے گئے 12 رنز بھی شامل تھے۔

بہرحال، آخری اوور میں جہاں آٹھ رنز کی ضرورت تھی، جارج ڈوکریل نے تیسری گیند پر چوکا لگا کر معاملہ آسان کر دیا اور پانچویں گیند پر میچ کا خاتمہ ہو گیا۔

مارک اڈیئر کو میچ جبکہ ڈوکریل کو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا۔

آئرلینڈ نے اس سیزن میں کئی شاندار اور یادگار میچز کھیلے، لیکن کامیابی اس سے روٹھی رہی۔ بالآخر افغانستان کے خلاف سیریز میں اسے کامیابی نصیب ہوئی۔ یہ آئرلینڈ کی افغانستان کے خلاف پہلی سیریز کامیابی ہے۔