حالیہ کارکردگی کی بدولت سری لنکا پر برتری حاصل ہوگی: مصباح

پاکستانی ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے سری لنکا کے خلاف ان کی ٹیم کی حالیہ کار کردگی اس بات کی آئینہ دار ہے کہ اگلے ماہ سے شروع ہونے والے دورۂ سری لنکا میں پاکستان کو میزبان ٹیم پرتھوڑی بہت برتری ضرور حاصل ہوگی۔

مصباح الحق کی زیر قیادت پاکستان نے آخری مرتبہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی تینوں سیریز جیتی تھیں (تصویر: AFP)

مصباح الحق کی زیر قیادت پاکستان نے آخری مرتبہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی تینوں سیریز جیتی تھیں (تصویر: AFP)

لاہور میں جاری تربیتی کیمپ کے دوران معروف ویب سائٹ کرک انفوسے بات کرتے ہوئے مصباح کا کہنا تھا کہ سری لنکا پاکستان کے لئے ہمیشہ سے ایک مضبوط حریف رہا ہے، خاص طورپر جب مقابلہ ان کے اپنے وطن میں ہو۔ بہتر نتائج کے لئے یقیناً ہمیں ہر شعبے میں جان مارنی پڑے گی۔ مگر چونکہ ہمارا حالیہ ریکارڈ سری لنکا کے خلاف اچھا رہا ہے اور کھلاڑیوں میں اعتمادکا بھی فقدان نہیں، اس لیے ہمیں مخالف ٹیم پر ایک طرح کی فوقیت ضرور حاصل ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں دونوں ٹیمیں متحدہ عرب امارات میں ایک دوسرے کے مقابل آئی تھیں جہاں سری لنکا کو تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے ٹیسٹ سیریز میں 1-0 اور ایک روزہ سیریز میں 4-1 سے کامیابی حاصل کی۔ جبکہ ٹورنامنٹ میں کھیلے جانے والے واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی پاکستان فتح یاب رہا۔ رواں سال ہونے والے ایشیا کپ میں بھی جب دونوں ٹیمیں نبردآزما ہوئیں تو ہار سری لنکا کا مقدر بنی۔ البتہ اس سیریز کی مناسبت سے یہ نکتہ اہمیت کا حامل ہے کہ آخری مرتبہ جب دونوں ٹیمیں سری لنکن سرزمین پر ٹکرائی تھیں تو پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 2-0 جبکہ ایک روزہ مقابلوں میں 3-2 سے ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔

مصباح کا کہنا تھا کہ فیلڈنگ اور فٹنس کے حوالے سے پاکستانی ٹیم میں جو بہتری آئی ہے وہ اس مرتبہ کافی فائدہ مند ثابت ہوگی۔میرا خیال ہے کہ پچھلے دو سالوں میں ان دو شعبوں میں ہم نے کافی محنت کی ہے۔ ماضی میں ہر کوچ چاہے وہ وقار یونس ہوں یا اعجاز احمد سب نے اپنے متعلقہ شعبوں میں اچھا کام کیا۔ اور اب جولین فاؤنٹیں بطور فیلڈنگ کوچ نمایاں خدمت انجام دے رہے ہیں۔

دورۂ سری لنکا کے لئے پاکستان نے تینوں طرز کی کرکٹ کے لئے اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے ۔ مصباح کا نام ٹی ٹوئنٹی دستے کے لئے نامزد نہ ہو سکا اور کپتانی محمد حفیظ کو سونپی گئی۔مگر مصباح کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی میں ان کی ضرورت پڑی تو وہ ضرور حاضر ہوں گے۔

مصباح نے کہا کہ مختصر ترین طرز کی کر کٹ دنیا بھر میں مقبول ہے اور میں ہمیشہ اس کے لئے کھیلتارہوں گا۔ جہاں تک میرے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کیرئیر کا تعلق ہے اس کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں شک نہیں کے اس نئے فیصلے سے میرا کافی بوجھ ہلکا ہوا ہے اور میں زیادہ بہتر طور پر ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز کر سکوں گا۔ لیکن اگر آپ کرکٹ سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو آپ تینوں طرز کے کھیل سے خوش اسلوبی سے عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments