پاک-لنکا دوسرا ٹیسٹ، مصباح اور مہیلا کی نظر میں

بالآخر وہ معرکہ آ گیا جس کا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں، اور شائقین کو بھی، شدت سے انتظار ہے یعنی کہ پاک-لنکا ٹیسٹ سیریز کا اہم ترین مقابلہ دوسرا ٹیسٹ جو آج کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب میں شروع ہو رہا ہے جہاں پاکستان کو سیریز بچانے کا موقع ملے گا جبکہ سری لنکا اپنی فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے یہیں پر سیریز کا فیصلہ کرنا چاہے گا اور کپتان مصباح الحق کی واپسی کے ساتھ پاکستان کے حوصلے کچھ بلند ضرور ہوئے ہوں گے لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ انہیں سیریز میں واپس آنے کے لیے کھیل کے تمام شعبوں میں جان لڑانا پڑے گی۔

کپتان مصباح الحق اور کوچ ڈیو واٹمور کی حکمت عملی کتنی کارگر رہتی ہے، اس کا فیصلہ کولمبو میں ہو جائے گا (تصویر: AFP)

کپتان مصباح الحق اور کوچ ڈیو واٹمور کی حکمت عملی کتنی کارگر رہتی ہے، اس کا فیصلہ کولمبو میں ہو جائے گا (تصویر: AFP)

نہ صرف بطور قائد بلکہ ایک ٹھنڈے مزاج کے بلے باز کی حیثیت سے بھی گال میں مصباح کی کمی شدت سے محسوس کی گئی۔ اس صورت میں کہ اوپنرز دونوں اننگز میں ناکام ہوں، مڈل آرڈر میں مصباح جیسے بلے باز کی موجودگی ضروری تھی لیکن سری لنکا کے خلاف پانچویں ایک روزہ میں اوورز پھینکنے کی سست شرح کے باعث مصباح کو ایک میچ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں بادل نخواستہ گال میں میدان سے باہر بیٹھنا پڑا اور نہ صرف پاکستان کے کھلاڑیوں بلکہ امپائروں کی ناقص کارکردگی کو بھی دیکھنا پڑا۔

اس اہم ٹیسٹ سے قبل مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ماضی کو بھلا کر مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ شکست کو سینے سے لگا کر رکھنا کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہے بلکہ اسے ذہنوں سے محو کر کے اگلے مقابلے میں 100 فیصد کارکردگی دکھانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گال میں صرف ہماری بیٹنگ ہی ناقص نہیں رہی بلکہ باؤلنگ پر بھی برابر کا الزام آتا ہے جس نے سری لنکا کو پہلی اننگز میں 500 رنز بنانے دیے۔ اس لیے ہمیں اس شعبے کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔

محمد حفیظ کی کپتانی کے حوالےسے مصباح نے کہا کہ یہ حفیظ کا بحیثیت کپتان پہلا ٹیسٹ تھا، اور ہم طویل عرصے کے بعد ٹیسٹ کھیل رہے تھے اس لیے کسی بھی کپتان کو ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے۔

گال ٹیسٹ کی دوسری اننگز کا حوالہ دیتے ہوئے مصباح نے کہا کہ یونس خان اور اسد شفیق کی 80 رنز کی اننگز نے بیٹنگ کے شعبے میں بہتری کی جانب اشارہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ بیٹنگ لائن اپ کولمبو میں بھرپور انداز میں واپس آئے گی۔

دوسری جانب دوسری جانب تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرنے کے باوجود سری لنکن قائد کا کہنا ہے کہ وہ گال میں تاریخی فتح کے بعد ایک اور جیت کے لیے کھیلے گا تاکہ تین سال کے عرصے میں پہلی ٹیسٹ سیریز جیت پائے۔ عظیم اسپنر مرلی دھرن کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے سری لنکاکوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پایا اور کپتان مہیلا جے وردھنے کا کہنا ہے کہ ڈرا کے لیے کھیلنا ان کا انداز نہیں اور وہ 209 رنز کی ریکارڈ فتح سے حاصل ہونے والی رفتار کو دھیما نہیں کرنا چاہتے۔

کپتان مہیلا جے وردھنے اور کوچ گراہم فورڈ اب تک ہونے والی پیشرفت سے بے حد خوش (تصویر: AFP)

کپتان مہیلا جے وردھنے اور کوچ گراہم فورڈ اب تک ہونے والی پیشرفت سے بے حد خوش (تصویر: AFP)

پاک-سری لنکا دوسرا ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل سنہالیز اسپورٹس کلب، کولمبو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اس طرح کرکٹ نہیں کھیلتا، میں صرف جیتنے کے لیے کھیلتا ہوں، حتیٰ کہ خیراتی مقابلے بھی اور میں اپنی ٹیم میں بھی یہی حوصلہ پیدا کر رہے ہیں۔ ہمیں پہلی گیند سے مثبت ذہن اختیار کرنا ہوگا، اسی کے ذریعے جیت کی عادت بنائی جا سکتی ہے۔

سری لنکا نے گال میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں کھیل کے تمام شعبوں میں پاکستان کو چت کیا اور ابتدائی سیشن سے لے کر چوتھے روز کے آخری لمحات تک ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ میچ پر اس کی گرفت کمزور پڑی ہو۔

کولمبو کے اس میدان کی حالیہ تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے جے وردھنے کا کہنا تھا کہ بلے بازوں کی اس جنت پر 20 وکٹیں حاصل کرنے کے لیے باؤلرز کو جان لڑانا پڑے گی۔ یہ بلے بازوں کے لیے بہت اچھا موقع ہے کہ وہ اپنے کھیل کا بھرپور مظاہرہ کریں لیکن گیند بازوں کے لیے یہاں کچھ نہیں۔

جے وردھنے کا کہنا تھا کہ سیریز کے آغاز سے قبل عام تاثر یہ تھا کہ کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ سری لنکا کے بلے باز پاکستان کے باؤلرز کا کس طرح سامنا کرتے ہیں اور اس حوالے سے ہونے والی اب تک کی پیشرفت سے بہت خوش ہیں خصوصاً گزشتہ سال عرب امارات میں پاکستان کے خلاف ایک روزہ اور ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد تو یہ نتائج بہت ہی حوصلہ افزا ہیں۔

اُن کی باؤلنگ اور ہماری بیٹنگ کا مقابلہ اب تک تو ہمارے حق میں ہے۔ اگر ہم اسکور بورڈ پر بڑا مجموعہ اکٹھا کر لیں تو ہم ان کی بیٹنگ کو دباؤ میں لے آئیں گے۔ دراصل عرب امارات میں آخری سیریز میں بلے بازی توقعات کے مطابق نہیں چل پائی تھی اور یہی ہماری شکست کی اصل وجہ تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں بلند حوصلہ کپتانوں میں سے کس کا پلڑا کولمبو میں بھاری رہتا ہے۔ اگر سری لنکا ایک مرتبہ پھر جیتتا ہے تو یہ 2009ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بعد اس کی پہلی فتح ہوگی اور اگر پاکستان مقابلہ اپنے نام کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے پاس موقع ہوگا کہ وہ تیسرے ٹیسٹ میں جیت کر یا مقابلہ برابر کر کے ڈیڑھ سال سے ناقابل شکست ہونے کا اعزاز برقرار رکھے۔

Facebook Comments