آل راؤنڈ یووراج، بھارت فتحیاب

یووراج سنگھ کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت بھارت کو آئرلینڈ کے خلاف 5 وکٹوں سے فتح حاصل کر لی۔ آئرلینڈ نے 207 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والی مضبوط بھارتی بیٹنگ لائن اپ کے خلاف زبردست جدوجہد کی اور بھارت کو باآسانی فتح حاصل کرنے سے روکے رکھا۔

انگلستان کے خلاف آئرلینڈ کا ریکارڈ ہدف کو عبور کرنا ضرور بھارت کے ذہن میں ہوگا اسی لیے اس نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ گو کہ آئرلینڈ کو ابتدائی اوورز ہی میں دو اہم وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا جب ظہیر خان نے ابتدائی دو اوورز میں پال اسٹرلنگ اور ایڈ جوائس کو ٹھکانے لگا کر آئرلینڈ کو گہرا گھاؤ لگایا لیکن تیسری وکٹ پرکپتان ولیم پورٹرفیلڈ اورنیال اوبرائن نے 113 رنز کی شاندار شراکت آئرلینڈ کو بہتر پوزیشن پر لے آئی۔ خصوصا پورٹر فیلڈ کی اننگ دیکھنے کے قابل تھی جنہوں نے 1 چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 104 گیندوں پر 75 رنز بنائے۔ 78 گیندوں پر 46 رنز بنانے والے نیال اوبرائن کے رن آؤٹ ہوتے ہی آئرش بیٹنگ لائن اپ لڑکھڑا گئی۔ اس میں اہم کردار پارٹ ٹائم باؤلر یووراج سنگھ کا تھا جنہوں نے آئرش مڈل آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔ 3 وکٹیں گرنے کے بعد اگلی پانچوں وکٹیں انہوں نے ہی حاصل کیں ۔ انہوں نے 31 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں جو ان کے کیریئر کی بہترین باؤلنگ ہے۔ یووراج اور ظہیر کے علاوہ کسی بھارتی باؤلر نے متاثر کن کارکردگی نہیں دکھائی۔ ہربھجن سنگھ، یوسف پٹھان اور پیوش چاؤلہ نے انتہائی ناقص باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور وکٹوں سے محروم رہے۔

آئرلینڈ جو ایک موقع پر 122 رنز پر محض دو وکٹوں کے خسارے میں تھا، یووراج سنگھ کی شاندار باؤلنگ کی وجہ سے 184 تک اپنی 8 وکٹیں گنوا بیٹھا۔ یووراج نے لگاتار 5 بلے بازوں اینڈریو وائٹ (5 رنز)، کیون اوبرائن (9 رنز)، ولیم پورٹر فیلڈ (75 رنز)، جان مونی (5 رنز) اور ایلکس کوساک (24 رنز) کو ٹھکانے لگایا اور آئرلینڈ کی اننگ 48 ویں اوور میں 207 رنز پر لپیٹ دی گئی۔

جواب میں آئرلینڈ نے اس نے مرتبہ اپنی گیند بازی سے متاثر کیا اور عالمی کپ کی سب سے مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے خلاف شاندار کارکردگی دکھائی۔ محض 208 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آئرلینڈ کے باؤلر ٹرینٹ جانسٹن نے ابتدائی 6 اوورز ہی میں بھارت کے دو اہم بلے بازوں کو پویلین لوٹا دیا۔ جن میں خطرناک ترین وریندر سہواگ (5 رنز) اور گوتم گمبھیر (10رنز) کی وکٹیں شامل تھیں۔ 100 رنز پر پہنچتے پہنچتے مزید دو کھلاڑی وکٹیں گنوا بیٹھے جن میں سچن ٹنڈولکر (38 رنز) اور ویرات کوہلی (34 رنز) کی وکٹیں شامل تھیں۔

یووراج اور دھونی کی اہم شراکت نے بھارت کی فتح کی راہ ہموار کی (گیٹی امیجز)

اس موقع پر جب محض نصف منزل طے ہوئی تھی بھارت کے کسی بلے باز کا وکٹ پر ٹھیرنا ضروری تھا اور یہ فریضہ کپتان مہندر سنگھ دھونی نے یووراج سنگھ کے ساتھ مل کر انجام دیا۔ دونوں نے پانچویں وکٹ پر 67 قیمتی رنز کا اضافہ کیا اور آہستہ آہستہ اسکور کو بڑھاتے رہے۔ جب بھارت کو آخری 10 اوورز میں فتح کے لیے40 رنز درکار تھے تو ڈوکریل نے، جو اس سے پہلے سچن کی اہم وکٹ لے چکے تھے، دھونی (34 رنز) کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ اب تمام تر ذمہ داری یووراج کے کاندھوں پر آ گئی۔ نئے آنے والے بلے باز جارح مزاج یوسف پٹھان تھے جنہوں نے آتے ہی ایک چوکا اور دو چھکے جڑ کر بھارت پر موجود دباؤ کو کم کیا۔ انہی کے تیز کھیل کی بدولت بھارت نے 46 ویں اوور میں مطلوبہ ہدف عبور کر لیا۔ یووراج سنگھ 75 گیندوں پر 50 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے جبکہ یوسف نے 24 گیندوں پر 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 30 رنز بنائے۔

آئرلینڈ کی جانب سے ٹرینٹ جانسٹن اور جارج ڈوکریل نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

یووراج سنگھ کو شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان فرق یووراج سنگھ کا تھا جن کی گیند بازی اور بلے بازی دونوں میں شاندار کارکردگی نے میچ کو بھارت کے حق میں پلٹا ورنہ آئرلینڈ نے تیسری وکٹ پر جو شراکت قائم کی تھی اس کے بعد ان کی نظریں 250 سے اوپر کا ہدف دینے پر مرکوز تھیں۔ اور انگلستان کے خلاف میچ کے ہیرو کیون اوبرائن، ایلکس کوساک اور جان مونی کے ہوتے ہوئے اتنا اسکور بنا لینا خارج از امکان بھی نہیں تھا۔

اس فتح کے ساتھ ہی بھارت گروپ 'بی' میں 5 پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پوزیشن پر پہنچ گیا ہے جس نے تین میں سے دو میچز میں فتوحات حاصل کی ہیں اور ایک میچ برابر رہا۔ گو کہ انگلستان کے بھی پانچ ہی پوائنٹس ہیں لیکن اس کا نیٹ رن ریٹ بھارت سے کم ہے۔ بھارت اپنا اگلا میچ 9 مارچ کو فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم، دہلی میں نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا۔ جس کے بعد اسے جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف گروپ کے آخری اور اہم میچز کھیلنے ہیں۔

دوسری جانب آئرلینڈ کے لیے معاملہ کچھ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گو کہ تین میچز میں اسے ایک فتح ضرور ملی ہے لیکن بنگلہ دیش کے خلاف ہار انہیں کافی مہنگی پڑے گی کیونکہ یہی وہ میچ تھا جس میں وہ اچھی پوزیشن میں تھے اور دو قیمتی پوائنٹس حاصل کر سکتے تھے۔ تاہم ان کا نیدرلینڈز کے خلاف میچ باقی ہے، جس میں ان کی فتح کی امید کی جا سکتی ہے۔ آئرش ٹیم عالمی کپ میں اپنا اگلا مقابلہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گی جس میں اپ سیٹ اسے اگلے راؤنڈ میں پہنچا سکتا ہے۔ یہ میچ 11 مارچ کو پی سی اے اسٹیڈیم، موہالی، چندی گڑھ میں ہوگا۔

میچ کی جھلکیاں

Facebook Comments