’تھا جس کا انتظار وہ شاہکار‘ …… رواں سال پاک بھارت ٹکراؤ ہوگا

اور بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ ذکا اشرف نے سب سے بڑی کامیابی حاصل کر ہی لی۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف کھیلنے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے رواں سال کے آخر میں تین ایک روزہ مقابلوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ یہ 2007ء میں پاکستان کے دورۂ ہند کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ کرکٹ کا پہلا آمنا سامنا ہوگا۔ البتہ اس عرصے میں عالمی کپ، ایشیا کپ اور چیمپئنز ٹرافی میں دونوں ٹیمیں ضرور مقابل آئی ہیں لیکن ٹورنامنٹ کی مجبوری کے پیش نظر۔

ذکا اشرف نے اپنا ایک اور عہد پورا کر دکھایا، ان کا دور پاکستان کرکٹ میں بہتری لا رہا ہے (تصویر: AFP)

ذکا اشرف نے اپنا ایک اور عہد پورا کر دکھایا، ان کا دور پاکستان کرکٹ میں بہتری لا رہا ہے (تصویر: AFP)

بہرحال 2008ء کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد سے منقطع تعلقات کی برف اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد پگھلی ہے جس میں پاکستان و بھارت کے کرکٹ بورڈ کے سربراہان اور حکومتی عہدیداران کے درمیان طویل مذاکرات کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی جانب سے تعلقات کی بحالی کے لیے حال ہی میں چند مثبت قدم اٹھائے گئے ہیں جن میں چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کو شرکت کی اجازت دینا اور انڈین پریمیئر لیگ سیزن 5 کا فائنل دیکھنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ذکا اشرف کو مدعو کرنا شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے بورڈ سربراہان نے گزشتہ ماہ ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی اور باہمی سیریز کھیلنے پر رضامندی کا اظہار کیا اور بالآخر حکومت ہند نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا کہ اسے دو طرفہ سیریز کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اب یہ پاک و بھارت بورڈز پر منحصر ہے کہ وہ تصفیہ طلب مسائل کو حل کر کے سیریز طے کریں۔

بہرحال آج کا یہ تاریخی فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ورکنگ کمیٹی نے ایک اجلاس کے دوران کیا ہے جس کے بعد بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے کہا ہے کہ تین ایک روزہ مقابلے چنئی، دہلی اور کولکتہ میں کھیلے جائیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی میزبانی احمد آباد اور بنگلو رکو ملے گی۔ یہ مقابلے بھارت کے دورۂ انگلستان کے درمیان کرسمس کے ایام کے وقفے میں کھیلے جائیں گے یعنی دسمبر 2012ء کے آخری ایام میں۔

گو کہ 2007ء کی سیریز کے بعد اب پاکستان کی میزبانی کی باری تھی لیکن پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث گزشتہ تین سالوں سے کرکٹ ممکن نہیں ہو سکی یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بھارت میں کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ لیکن اس سیریز میں آمدنی کی تقسیم کے معاملات طے ہونا ابھی باقی ہیں اور اس لازماً اس اعلان سے قبل انہوں نے کسی نہ کسی معاملے پر تصفیہ ضرور کیا گیا۔ پاکستان کے لیے یہ سیریز اس لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ بورڈ اس وقت تقریباً75 ملین ڈالرز خسارےمیں ہے اور اس گھاٹے کو کم کرنے کے لیے بھارت کے خلاف سیریز بہت اہم ثابت ہوگی۔

Facebook Comments