سری لنکا ویسٹ انڈیز کو نکیل ڈال کر سیمی فائنل میں

میزبان سری لنکا نے سپر 8 میں اپنا دوسرا مقابلہ باآسانی جیت کر نہ صرف ویسٹ انڈیز کی سب سے بڑی کمزوری نمایاں کر دی ہے بلکہ سیمی فائنل میں اپنی جگہ بھی تقریباً پکی کر لی ہے۔ پالی کیلے میں ہونے والے گروپ 1 یا "ای" کے آج کے مقابلے سپر 8 میں پہلی مرتبہ یکطرفہ مقابلے ثابت ہوئے۔ حریف ویسٹ انڈیز اور سری لنکا اس اہم مقابلے سے قبل دونوں ٹیمیں اپنے حریفوں کو ایک، ایک مقابلے میں شکست دے چکے تھے اور یوں یہ گروپ میں برتری حاصل کرنے کی جنگ تھی جو میزبان لنکا کے نام رہی۔ سری لنکا نے ثابت کیا کہ اگر کرس گیل پر قابو پا لیا جائے تو باقی ویسٹ انڈین ٹیم میں وہ دم خم نہیں کہ وہ زیر نہ کی جا سکے۔ گویا یہ ویسٹ انڈیز کی نکیل ہے، جس نے تھام لی اس نے "کالی آندھی" پر قابو پا لیا۔ گیل کے پویلین لوٹنے پر اس کے کھلاڑی جس طرح میدان میں خوشی منا رہے تھے، اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ سری لنکا کو اس بات کا پورا ادراک تھا کہ نصف منزل طے ہو چکی ہے۔

سری لنکا نے ثابت کیا کہ اگر کرس گیل پر قابو پا لیا جائے تو ویسٹ انڈیز میں کچھ دم خم نہيں (تصویر: Getty Images)

سری لنکا نے ثابت کیا کہ اگر کرس گیل پر قابو پا لیا جائے تو ویسٹ انڈیز میں کچھ دم خم نہيں (تصویر: Getty Images)

ویسٹ انڈیز کا ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ بالکل ویسا ہی ثابت ہوا جیسا کہ چند گھنٹے قبل نیوزی لینڈ کا تھا۔ دونوں کے اوپنرز بری طرح ناکام ہوئے اور حریف ٹیم مقابلے پر حاوی ہو گئی۔ ویسٹ انڈیز کے لیے سب سے افسوسناک پہلو یہ رہا کہ نہ اس کے اوپنرز پاور پلے کا فائدہ اٹھا سکے اور نہ ہی وکٹیں بچا سکے۔ پچھلے میچ کے ہیرو جانسن چارلس 21 گیندوں پر 12 رنز کی ناقص بلے بازی کے بعد اجنتھا مینڈس کی عمدہ باؤلنگ کا شکار ہوئے اور پھر پاور پلے کے آخری اوور میں نووان کولاسیکرا کی ایک دھیمی گیند پر سری لنکا کو میچ کی سب سے بڑی کامیابی ملی جب کرس گیل صرف 2 رنز بنانے کے بعد وکٹوں کے پیچھے کیچ دے بیٹھے۔

گو کہ ڈیوین براوو اور مارلون سیموئلز کی بلے بازی نے اننگز کو پٹری سے اترنے سے بھی بچایا اور آخری بلے بازوں کے لیے بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا، جس کی بنیاد پر وہ بڑا اسکور کریں، لیکن براوو اور کیرون پولارڈ کی غلط وقت پر روانگی سے سارا منصوبہ چوپٹ کر دیا۔ براوو 34 گیندوں پر دو چھکے اور اتنے ہی چوکے لگانے کے بعد جیون مینڈس کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے جبکہ جبکہ پولارڈ ایک مرتبہ پھر بری طرح ناکام ہوئے اور شاندار باؤلنگ کروانے والے اجنتھا کی دوسری وکٹ بنے۔ انہوں نے صرف ایک رن بنایا۔

سیموئلز نے ایک اور بہت عمدہ اننگز کھیلی اور 35 گیندوں پر2 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے نصف سنچری بنا کر آخری اوور میں آؤٹ ہوئے۔ آندرے رسل کے 14 گیندوں پر 19 رنز ویسٹ انڈیز کو 129 تک لے آئے ، جو سری لنکا کی بیٹنگ لائن اپ کو دیکھتے ہوئے کسی طرح حوصلہ افزا مجموعہ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ اور یہ بات کچھ ہی دیر میں ثابت بھی ہوئی۔ سیموئلز نے اننگز کے 18 ویں اوور میں رسل کی مدد سے کولاسیکرا کو 21 رنز مارے جس میں دو چھکے اور دو چوکے شامل تھے، البتہ آخری دو اوورز میں ویسٹ انڈیز صرف 10 رنزکا اضافہ ہی کر پایا۔

جواب میں تیسرے اوور میں ہی تلکارتنے دلشان کی وکٹ کھونے کے باوجود سری لنکن تجربہ کار جوڑی مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا نے جس طرح ویسٹ انڈین باؤلنگ لائن کی دھجیاں بکھیریں، اس نے اس خدشے کو درست ثابت کر دیا کہ ویسٹ انڈیز کی کمزور کڑی ان کی باؤلنگ ہے۔ دونوں بلے بازوں نے محض 12 اوورز میں 108 رنز کی شاندار رفاقت قائم کرتے ہوئے سری لنکا کو منزل تک پہنچایا۔

مہیلا جے وردھنے نے 49 گیندوں پر ایک چھکے اور 10 چوکوں سے 65 رنز کی کمال اننگز کھیلی جبکہ سنگاکارا 34 گیندوں پر 5 چوکوں کے ساتھ 39 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ دونوں بلے بازوں نے 15 ویں اوور میں روی رامپال کو دو، دو چوکے رسید کیے اور سری لنکا نے 130 رنز کا ہدف اگلے اوور کی دوسری گیند پر حاصل کر لیا۔

ذرا ویسٹ انڈین باؤلرز کا حال دیکھئے، سوائے سنیل نرائن کے سب سے منہ کی کھائی۔ روی رامپال نے چار اوورز میں 39 رنز دیے اور واحد وکٹ انہی کو ملی جبکہ فیڈل ایڈورڈز نے 2 اوورز میں 24 رنز کھائے۔ ڈیرن سیمی کو 28 اور آندرے رسل کو واحد اوور میں 11 رنز پڑے۔ بہرحال، جب بلے باز ہی دفاع کے قابل ہدف نہ اکٹھا کر سکیں تو باؤلرز کو کیا قصوروار ٹھیرانا؟ سنیل نرائن نے 4 اوورز میں 23 رنز دیے لیکن وکٹ لینا ان کے بس کی بات بھی نہ لگتی تھی۔

مہیلا جے وردھنے کو شاندار بیٹنگ پرمیچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب سری لنکا کا ایک قدم سیمی فائنل میں موجود ہے کیونکہ ایک تو اس نے 9 وکٹوں کی بھاری بھرکم فتح حاصل کی ہے، اور وہ بھی 16 ویں اوور میں ہی، جب ابھی کھیل کی 28 گیندیں باقی تھیں۔ یوں مسلسل دو مقابلوں میں فتوحات اور بھاری رن ریٹ کے باعث سری لنکا کی سیمی فائنل نشست تقریباً پکی ہے۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ پیر کو اگلے مقابلے میں نیوزی لینڈ کو لازماً شکست دے۔ ویسٹ انڈیز کی انگلستان کے خلاف گزشتہ فتح اور اب شکست کے بعد اب یہ گروپ بہت دلچسپ صورتحال اختیار کر گیا ہے اور آخری روز کے مقابلوں کے اختتام پر ہی کچھ صورتحال نمایاں ہوگی۔

سری لنکا بمقابلہ ویسٹ انڈیز

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء، سپر 8 مرحلہ، چھٹا مقابلہ

29 ستمبر 2012ء

بمقام: پالی کیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم، کانڈی، سری لنکا

نتیجہ: سری لنکا 9 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: مہیلا جے وردھنے (سری لنکا)

ویسٹ انڈیز رنز گیندیں چوکے چھکے
جانسن چارلس اسٹمپ سنگاکارا ب اجنتھا مینڈس 12 21 2 0
کرس گیل ک سنگاکارا ب کولاسیکرا 2 9 0 0
مارلون سیموئلز ک دلشان ب میتھیوز 50 35 4 2
ڈیوین براوو ک دلشان ب جیون مینڈس 40 34 4 2
کیرون پولارڈ ب اجنتھا مینڈس 1 6 0 0
آندرے رسل ناٹ آؤٹ 19 14 0 1
ڈیرن سیمی ناٹ آؤٹ 1 1 0 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 3 1
مجموعہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 129

 

سری لنکا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
اینجلیو میتھیوز 4 0 31 1
نووان کولاسیکرا 4 0 28 1
لاستھ مالنگا 4 0 26 0
اجنتھا مینڈس 4 1 12 2
رنگانا ہیراتھ 2 0 16 0
جیون مینڈس 2 0 12 1

 

سری لنکاہدف: 130 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
مہیلا جے وردھنے ناٹ آؤٹ 65 49 10 1
تلکارتنے دلشان ک رامدین ب رامپال 13 9 3 0
کمار سنگاکارا ناٹ آؤٹ 39 34 5 0
فاضل رنز ب 2، ل ب 1، و 10 13
مجموعہ 15.2 اوورز میں 1 وکٹ کے نقصان پر 130

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
روی رامپال 4 0 39 1
فیڈل ایڈورڈز 2 0 24 0
سنیل نرائن 4 0 23 0
ڈیرن سیمی 4 0 28 0
آندرے رسل 1 0 11 0
کرس گیل 0.2 0 2 0

Facebook Comments