[ریکارڈز] ایک ہی میچ میں نصف سنچری اور 5 وکٹیں، شاہد آفریدی تیسری بار فہرست میں

شاہد آفریدی جس طرح بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے ہیں اسے "ٹارزن کی واپسی" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ پروویڈنس، گیانا میں آج انہوں نے جس چیز کو ہاتھ لگایا محاورے کے حساب سے وہ سونے کی ہوگئی۔ انہوں نے آج جب بلّا پکڑا تو ویسٹ انڈین باؤلرز کے چھکے چھڑا دیے اور جب گیند تھامی تو کسی حریف بلے باز کو ٹکنے نہ دیا۔

شاہد آفریدی سے قبل کوئی کھلاڑی دو مرتبہ بھی یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا (تصویر: WICB)

شاہد آفریدی سے قبل کوئی کھلاڑی دو مرتبہ بھی یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا (تصویر: WICB)

یوں انہوں نے ایک روزہ میچ میں نصف سنچری اسکور کرنے اور 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ تیسری مرتبہ انجام دے کر ایک انوکھا ریکارڈ اپنے نام کیا۔

شاہد آفریدی نے 55 گیندوں پر 76 رنز کی بہترین اننگز کھیلی اور اس کے بعد 9 اوورز میں 12 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی باؤلر کی دوسری بہترین باؤلنگ ہے۔ یوں ان کے کیریئر میں یہ تیسرا موقع آیا کہ انہوں نے کسی میچ میں نصف سنچری بھی بنائی اور بعد ازاں 5 یا زیادہ بلے بازوں کو شکار بھی بنایا۔

کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار یہ انوکھا کارنامہ ویسٹ انڈیز کے عظیم کھلاڑی ویوین رچرڈز نے انجام دیا تھا جنہوں نے مارچ 1987ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈنیڈن میں 119 رنز بھی بنائے اور 41 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔

اس فہرست میں شاہد آفریدی کے علاوہ واحد پاکستانی کھلاڑی عبد الرزاق ہیں جنہوں نے جنوری 2000ء میں ہوبارٹ میں بھارت کے خلاف 70 رنز کی ناقابل شکست اننگز بھی کھیلی تھی اور 48 رنز دے کر روایتی حریف کے 5 کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔

ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں کسی آل راؤنڈر کو یہ اعزاز حاصل نہیں کہ اس نے اپنے کیریئر میں دو مرتبہ بھی کسی میچ میں نصف سنچری بنانے کے ساتھ پانچ وکٹیں حاصل کی ہوں جبکہ شاہد آفریدی نے آج تیسری بار یہ انوکھا اعزاز حاصل کیا۔

ایک ون ڈے میں پانچ وکٹیں اور نصف سنچری بنانے کا کارنامہ

نام ملک رنز وکٹیں بمقابلہ بمقام بتاریخ
ویوین رچرڈز ویسٹ انڈیز ویسٹ انڈیز 119 5/41 نیوزی لینڈ ڈنیڈن 18 مارچ 1987ء
کرش سری کانت بھارت بھارت 70 5/27 نیوزی لینڈ وشاکھاپٹنم 10 دسمبر 1988ء
مارک واہ آسٹریلیا آسٹریلیا 57 5/24 ویسٹ انڈیز ملبورن 15 دسمبر 1992ء
لانس کلوزنر جنوبی افریقہ جنوبی افریقہ 54 6/49 سری لنکا لاہور 6 نومبر 1997ء
عبد الرزاق پاکستان پاکستان 70* 5/48 بھارت ہوبارٹ 21 جنوری 2000ء
گریم ہک انگلستان انگلستان 80 5/33 زمبابوے ہرارے 20 فروری 2000ء
شاہد آفریدی پاکستان پاکستان 61 5/40 انگلستان لاہور 27 اکتوبر 2000ء
سارو گانگلی بھارت بھارت 71* 5/34 زمبابوے کانپور 11 دسمبر 2000ء
اسکاٹ اسٹائرس نیوزی لینڈ نیوزی لینڈ 63* 6/25 ویسٹ انڈیز پورٹ آف اسپین 12 جون 2002ء
رونی ایرانی انگلستان انگلستان 53 5/26 بھارت اوول، لندن 9 جولائی 2002ء
کرس گیل ویسٹ انڈیز ویسٹ انڈیز 60 5/46 آسٹریلیا سینٹ جارجز یکم جون 2003ء
پال کولنگ ووڈ انگلستان انگلستان 112* 6/31 بنگلہ دیش ناٹنگھم 21 جون 2005ء
سنیل دھنی رام کینیڈا کینیڈا 79 5/32 برمودا کنگ سٹی، کینیڈا 29 جون 2008ء
یووراج سنگھ بھارت بھارت 50* 5/31 آئرلینڈ بنگلور 6 مارچ 2011ء
شاہد آفریدی پاکستان پاکستان 75 5/35 سری لنکا شارجہ 20 نومبر 2011ء
شاہد آفریدی پاکستان پاکستان 76 7/12 ویسٹ انڈیز پروویڈنس، گیانا 14 جولائی 2013ء

Facebook Comments