آفریدی، عمر امین اور ذوالفقار بابر، پاکستان اعصاب شکن مقابلے کے بعد کامیاب

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کی دو وکٹوں سے فتح پر منتج ہوا۔ سمندر کنارے واقع آرنس ویل کے خوبصورت میدان میں مقابلہ کئی مرتبہ پلٹا۔ پاکستان نے ابتداء ہی میں وکٹیں سمیٹ مستحکم آغاز کیا تو ویسٹ انڈیز نے کیرون پولارڈ، مارلن سیموئلز، ڈیوین براوو اور ڈیرن سیمی کی شاندار بلے بازی کی بدولت بہترین واپسی کی۔ پھر پاکستان بھی ابتداء میں وکٹیں گنوانے کے بعد شاہد آفریدی اور عمر امین کی بلے بازی کے باعث میچ میں واپس آیا لیکن یہ آخری اوور میں اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے ذوالفقار بابر کا سیموئلز کو رسید کیا گیا چوکا اور آخری گیند پر چھکا تھا، جس نے پاکستان کو ایک زبردست فتح سے ہمکنار کیا۔

ذوالفقار بابر کا قابل رشک آغاز، تین وکٹیں، ایک ناقابل یقین کیچ اور پھر آخری گیند پر چھکے کے ذریعے ٹیم کی فتح، ایک ناقابل یقین مقابلہ (تصویر: WICB)

ذوالفقار بابر کا قابل رشک آغاز، تین وکٹیں، ایک ناقابل یقین کیچ اور پھر آخری گیند پر چھکے کے ذریعے ٹیم کی فتح، ایک ناقابل یقین مقابلہ (تصویر: WICB)

پاکستان آخری دو اوورز میں درکار 16 رنز کے ساتھ باآسانی ہدف کی جانب گامزن تھا کیونکہ شاہد آفریدی اپنی بہترین فارم میں نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے 19 ویں اوور کی پہلی گیند پر شینن گیبریل کو فائن لیگ پر خوبصورت چوکا رسید کر کے ظاہر کیا کہ معاملہ اب صرف چند گیندوں کا رہ گیا ہے۔ لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی، اگلی گیند کو میدان بدر کرنے کی کوشش کے نتیجے میں پاکستان کو تقریباً مقابلے سے باہر کردیا ۔ پاکستان کو آخری اوور میں 6 رنز کی ضرورت تھی جو پہلی گیند پر ذوالفقار بابر کے خوبصورت چوکے کے ساتھ 5 گیندوں پر دو رنز درکار تک آ گئی لیکن سیموئلز نے بہترین انداز میں واپسی کرتے ہوئے اگلی دو گیندوں پر ذوالفقار کو کوئی رن نہ لینے دیا۔ جب چوتھی گیند پر بائے کا رن بنا تو اسکور برابر ہو گیا۔ فاتحانہ رن لینے کی کوشش میں سعید اجمل لینڈل سیمنز کی براہ راست تھرو کا نشانہ بن گئے اور یوں معاملہ ایک گیند پر ایک رن تک آ پہنچا۔ جہاں 34 سالہ ذوالفقار نے سیموئلز کی فل ٹاس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے باؤلر کے اوپر سے باؤنڈری کے باہر پہنچا دیا اور اس یادگار چھکے کے ساتھ پاکستان کو سیریز میں برتری دلادی۔

قبل ازیں، 153 رنز کے بھاری ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز ہی بہت مایوس کن تھا۔ محض 10 رنز پر دونوں اوپنرز ناصر جمشید اور احمد شہزاد میدان بدر ہو چکے تھے۔ پاکستان نے رنز بنانے کی رفتار کو تو کم نہ ہونے دیا لیکن وکٹیں روکنا ضروری تھا جس میں قومی ٹیم مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی تھی۔ پانچویں اوور میں محمد حفیظ سنیل نرائن کو دو چوکے لگانے کے بعد تیسرے کی کوشش میں شارٹ تھرڈمین کو کیچ دے بیٹھے۔

دوسرے اینڈ پر عمر امین بہت عمدگی سے کھیل رہے تھے۔ انہوں نے آتے ہی شینن گیبریل کو ایک اوور میں تین چوکے رسید کیے تھے اور پھر سیموئل بدری کو بھی ایک اوور میں چار چوکے لگائے۔ اس موقع پر عمر اکمل کو ان کا بھرپور ساتھ دینے کی ضرورت تھی لیکن وہ ایک مرتبہ پھر بلاوجہ ایڈونچر کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے۔ ویسٹ انڈیز کی ناقص فیلڈنگ کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھ بیٹھے کہ ہاتھوں سے رن لینا بھی کوئی مسئلہ نہیں لیکن سیمی کی براہ راست تھرو نے عمر اکمل کی خوش فہمی کا خاتمہ کردیا۔ پاکستان صرف 77 پر چار وکٹیں گنوا چکا تھا۔ معاملہ یہاں تک رہتا بھی تو کافی تھا لیکن 12 ویں اوور میں عمر امین کا آؤٹ ہونا گویا تازیانہ تھا۔ کیونکہ اب مستند بلے بازوں کی صرف آخری جوڑی ہی بچی، حماد اعظم اور شاہد آفریدی۔ عمر امین نے 34 گیندوں پر 9 چوکوں کی مدد سے 47 رنز بنائے۔

حماد اعظم کچھ دیر تک تو کریز پر رہے لیکن 15 گیندوں پر 10 رنز کی اننگز تمام ہوتے ہی پوری ذمہ داری شاہد آفریدی کے کاندھوں پر آ گئی۔ شاہد جنہوں نے اپنی اننگز کا آغاز ہی چھکے کے ساتھ کیا تھا، بعد ازاں بہت عمدگی سے کھیلے اور بلاشبہ ان کی اننگز حقدار تھی کہ نصف سنچری تک پہنچتی بلکہ پاکستان کو فتح تک بھی پہنچاتی لیکن 19 ویں اوور میں پہلی گیند پر چوکا حاصل کرنے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر روایتی انداز میں جلدی میں آ گئے اور اگلی گیند کو چھکے کی راہ دکھانے کی کوشش میں لانگ آف پر ڈیوین براوو کو کیچ دے گئے۔

ویسٹ انڈیز سمجھا کہ مقابلہ تمام ہوا لیکن ابھی ڈیبیوٹنٹ ذوالفقار بابر موجود تھے، جنہوں نے معجزہ کر دکھایا او رپاکستان سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے شینن گیبریل نے مایوس کن کارکردگی دکھائی۔ گو کہ انہیں سب سے زیادہ 3 وکٹیں بھی ملیں لیکن انہوں نے اہم اوورز میں جس طرح مار کھائی اور خاص طور پر 19 ویں اوور میں انہوں نے وائیڈ کے پانچ رنز دیے ۔

کپتان ڈیرن سیمی کی کپتانی پر اتنا ہی بڑا سوالیہ نشان لگنا چاہیے جتنا کہ پہلی اننگز کے خاتمے کے بعد محمد حفیظ پر اٹھا تھا۔ حفیظ نے اپنی اننگز میں دو اوورز میں صرف 4 رنز دیے اور اس کے بعد جب پاکستان کے باؤلرز پٹ رہے تھے، انہوں نے دوبارہ گیند تھامنے کی زحمت نہ کی۔ بالکل یہی صورتحال دوسری اننگز میں بھی پیش آئی۔ سیمی نے صرف ایک اوور پھینکا، 4 رنز دیے اور اس وقت جب گیبریل کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے، انہوں نے خود گیند کو ہاتھ لگانے کی زحمت نہ کی۔ 19 ویں اوور میں جب ڈیوین براوو نے انہیں گیبریل کو اوور دینے کو منع بھی کیا لیکن انہوں نے بہت اصرار کر کے ان کو گیند تھمائی، نتیجہ 10 رنز کی صورت میں نکلا۔

بہرحال، ویسٹ انڈیز کے ٹا س جیتنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرنے کی داستان بھی کچھ اس سے مختلف نہ تھی۔ ان کی بھی ابتداء میں وکٹیں گریں جب محمد حفیظ اور ذوالفقار بابر نے سرفہرست چارو ں بلے بازوں کو واپسی کی راہ دکھا دی۔ وہ بھی محض 42 رنز کے مجموعے پر۔ پاکستان مقابلہ پر گرفت مضبوط کر چکا تھا لیکن اس مقام پر حفیظ کی انوکھی کپتانی سے یہ گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ ایک ایسی وکٹ پر جو اسپنرز کے لیے واضح طور پر مددگار تھی اور تیز گیندباز بری طرح پٹ رہے تھے انہوں نے خود دوبارہ گیند تھامنے کی زحمت نہ کی اور معاملہ جنید خان اور محمد عرفان پر چھوڑ دیا جو حتمی اوورز میں کیرون پولارڈ اور ڈیرن سیمی کے ہاتھوں بری طرح پٹے۔ پولارڈ 36 گیندوں پر 49 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جبکہ سیمی نے 14 گیندوں پر 30 رنز کی بہترین اننگز کھیلی۔ ان سے قبل سیموئلز اور ڈیوین براوو نے 25، 25 رنز کی کارآمد اننگز کھیلی۔

پاکستانی باؤلنگ کے حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری 10 اوورز میں ویسٹ انڈیز نے 86 رنز لوٹے، جن میں 5 اوورز میں بنائے گئے 55 رنز بھی شامل ہیں۔

محمد عرفان کے تین اوورز میں ویسٹ انڈین بلے بازوں نے 39 رنز سمیٹے جبکہ جنید خان کو اتنے ہی اوورز میں 34 رنز پڑے۔ یعنی اسپنرز کے پھینکے گئے 14 اوورز ایک طرف اور ان دونوں باؤلرز نے چھ اوورز میں تقریباً اتنے ہی رنز کھائے۔

اس کے مقابلے میں اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے ذوالفقار بابر نے بہت عمدہ باؤلنگ کی۔ آج لگتا ہے انہی کا دن تھا۔ انہوں نے 4 اوورز میں صرف 23 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جن میں مارلن سیموئلز، لینڈل سیمنز اور ڈیوین براوو کی قیمتی وکٹیں شامل تھیں۔

شاہد آفریدی کو 46 رنز کی فیصلہ کن اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا اور انہوں نے تقریب تقسیم انعامات میں کہا کہ وہ یہ اعزاز ذوالفقار بابر کو دینا چاہیں گے۔ بلاشبہ یہ دن ذوالفقار کا تھا اور سب بھول جائیں تو بھول جائیں مارلن سیموئلز انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔

اب پاک-ویسٹ انڈیز دوسرا ٹی ٹوئنٹی کل یعنی اتوار کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔

ویسٹ انڈیز بمقابلہ پاکستان

پہلا ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلہ

27 جولائی 2013ء

بمقام: آرنس ویل گراؤنڈ، کنگزٹاؤن، سینٹ ونسنٹ

نتیجہ: پاکستان دو وکٹوں سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: شاہد آفریدی

ویسٹ انڈیز رنز گیندیں چوکے چھکے
جانسن چارلس ب حفیظ 1 2 0 0
کرس گیل ایل بی ڈبلیو ب حفیظ 5 6 1 0
مارلن سیموئلز ک و ب ذوالفقار بابر 25 22 4 1
لینڈل سیمنز ب ذوالفقار بابر 6 5 0 1
ڈیوین براوو ک سعید اجمل ب ذوالفقار بابر 25 35 2 0
کیرون پولارڈ ناٹ آؤٹ 49 36 4 2
ڈیرن سیمی ک حماد اعظم ب عرفان 30 14 2 3
سنیل نرائن رن آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ب 2، ل ب 3، و 6 11
مجموعہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد حفیظ 2 0 4 2
محمد عرفان 3 0 39 1
ذوالفقار بابر 4 0 23 3
سعید اجمل 4 0 23 0
شاہد آفریدی 4 0 24 0
جنید خان 3 0 34 0

 

پاکستانہدف: 153 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ناصر جمشید ک سیمنز ب گیبریل 6 4 0 1
احمد شہزاد ک پولارڈ ب بدری 3 6 0 0
محمد حفیظ ک گیبریل ب نرائن 13 7 3 0
عمر امین اسٹمپڈ چارلس ب سیموئلز 47 34 9 0
عمر اکمل رن آؤٹ 9 9 1 0
حماد اعظم ک پولارڈ ب گیبریل 10 15 0 0
شاہد آفریدی ک براوو ب گیبریل 46 27 4 2
ذوالفقار بابر ناٹ آؤٹ 13 17 1 1
سعید اجمل رن آؤٹ 0 1 0 0
جنید خان ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز
مجموعہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
شینن گیبریل 4 0 44 3
سنیل بدری 3 0 27 1
سنیل نرائن 4 0 24 1
ٹینو بیسٹ 4 0 24 0
مارلن سیموئلز 4 0 33 1
ڈیرن سیمی 1 0 4 0

Facebook Comments