پے در پے شکست، ایلسٹر کک قیادت چھوڑنے کا سوچنے لگے

چند ماہ قبل ایشیز میں آسٹریلیا کو شکست دینے کے بعد فتح کے نشے میں بدمست ہوکر اوول کی پچ کو 'سیراب' کرنے والے انگلش دستے نے یہ تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ وہ دورۂ آسٹریلیا میں وہ اس طرح بے حال ہوں گے کہ مسلسل آٹھ مقابلوں میں فتح سے محروم رہنے کے بعد انہیں دونوں سیریز میں بدترین شکست کا سامنا ہوگا۔ ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ سے دوچار ہونے کے بعد اب انگلستان ایک روزہ میں وائٹ واش کی ہزیمت سے بچنے کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔

ایلسٹر کک غالبا ون ڈے کپتانی چھوڑ کر ٹیسٹ قیادت بچانا چاہتے ہیں (تصویر: Getty Images)

ایلسٹر کک غالبا ون ڈے کپتانی چھوڑ کر ٹیسٹ قیادت بچانا چاہتے ہیں (تصویر: Getty Images)

بحیثیت مجموعی پوری انگلش ٹیم کے لیے اور بالخصوص کپتان ایلسٹر کک کے لیے یہ بہت کڑا وقت ہے۔ کک کو واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ ان کی کپتانی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور انہوں نے دونوں طرز کی کرکٹ میں قیادت سے محروم ہونے کے خطرے کے پیش نظر خود یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ ایک روزہ ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

سڈنی میں تیسرے ون ڈے میں شکست، اور یوں سیریز گنوانے کے بعد، کک کا کہنا تھا کہ وہ سیریز کے بقیہ دو مقابلوں کے پاس کپتانی کے معاملے پر غور کریں گے کہ انہیں اب کیا کرنا چاہیے۔

2011ء میں اینڈریو اسٹراس کے بعد کپتان بنائے جانے والے کک کو کئی کامیابیوں کے بعد اب آسٹریلیا میں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اوریہی وجہ ہے کہ وہ ایک روزہ ٹیم کی قیادت چھوڑ کر اپنی ٹیسٹ کپتانی بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک روزہ سیریز کے اختتام پر کک کیا فیصلہ دیتے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کا جانشیں کون ہوگا؟

Facebook Comments