[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] وہ کہ جن کی کمی شدت سے محسوس ہوگی

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے مرکزی و اہم مرحلے کا آغاز کل سے پاک-بھارت مقابلے کے ذریعے ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی شائقین کرکٹ اگلے کئی دنوں کے لیے کھیل کی سرگرمیوں کے لیے وقف ہوجائیں گے جبکہ کھلاڑی اہم مقابلوں سے قبل اپنے اعصاب پر قابو پانے اور اعتماد حاصل کرنے کے لیے کوشش کریں گے۔ لیکن چند کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں مختلف وجوہات کی بنیاد پر ناظرین کی حیثیت سے یہ مقابلے دیکھنا پڑیں گے۔

اگر پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی نہ جیت پایا تو اس میں اہم کردار محمد عرفان کے زخمی ہونے کا بھی ہوگا (تصویر: Getty Images)

اگر پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی نہ جیت پایا تو اس میں اہم کردار محمد عرفان کے زخمی ہونے کا بھی ہوگا (تصویر: Getty Images)

یہ بات تو طے شدہ ہے کہ صرف ایک ٹیم ہی عالمی اعزاز جیتے گی اس لیے ان چند کھلاڑیوں کے لیے اپنی ٹیموں کو ہارتے دیکھنا بہت مشکل امر ہوگا اور انہیں اپنی بے بسی کا احساس شدت کے ساتھ ہوگا۔

ان کھلاڑیوں میں جو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے، سب سے اہم نام پاکستان کے محمد عرفان کا ہے۔ کرکٹ تاریخ کے طویل قامت باؤلر کو پاکستان کی ٹیم انتظامیہ کی جانب سے بے دریغ استعمال کیا گیا۔ 7 فٹ سے بھی زیادہ قد اور بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے عرفان کے جسم پر خاصا دباؤ پڑتا ہے لیکن پاکستان نے اس کے باوجود انہیں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تمام فارمیٹس میں کھلایا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ دورۂ جنوبی افریقہ میں آخری ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں ان کی ہمت جواب دے گئی اور کولہے کی ہڈی کی تکلیف کی وجہ سے نہ صرف سری لنکا کے خلاف سیریز بلکہ ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹس سے بھی باہر ہوگئے ہیں اور اب خطرہ ہے کہ سرجری کی وجہ سے وہ مزید کافی عرصے تک پاکستان کے لیے نہیں کھیل پائیں گے۔

محمد عرفان جس پائے کے باؤلر ہیں، ان کی کمی تو پاکستان کو شدت سے محسوس ہوگی اور اگر قومی ٹیم ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ناکامیوں کا شکار ہوئی تو عرفان کی عدم موجودگی بھی اس کا ایک اہم سبب ہوگی۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے غائب کھلاڑیوں میں دوسرا اہم ترین نام آسٹریلیا کے مچل جانسن کا ہے۔ 'مچ' حالیہ ایشیز سیریز اور پھر دورۂ جنوبی افریقہ میں اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے اس وقت دنیا کے خطرناک ترین باؤلرز میں شمار ہو رہے ہیں اور ان کی اس فارم کا آسٹریلیا فائدہ اٹھا کر پہلی بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنا چاہتا تھا لیکن پنجے کی تکلیف کی وجہ سے چند روز قبل ان کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کھیلنے کے امکانات کا خاتمہ ہوگیا۔ آسٹریلیا ویسے ہی پاکستان، بھارت، دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز اور ممکنہ طور پر میزبان بنگلہ دیش کے مشکل ترین گروپ میں ہے جہاں اس کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسی صورتحال میں مچل جانسن کی عدم موجودگی اس کے لیے سخت دھچکا ثابت ہوسکتی ہے۔

اگر سوال کیا جائے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں چیمپئن بننے کے سب سے کم امکانات کس ٹیم کے ہیں تو شاید نصف سے بھی زیادہ افراد کا جواب انگلستان ہوگا۔ مختلف طرز کی کرکٹ میں پے در پے شکستوں نے انگلش ٹیم کے حوصلے انتہائی پست کردیے ہیں اور جو کسر رہ گئی تھی وہ بین اسٹوکس اور جو روٹ جیسے اہم کھلاڑیوں کے زخمی ہونے نے پوری کردی۔

اگر انگلستان کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے امکانات 50 فیصد تھے تو جو روٹ کی انجری اسے 10 فیصد پر لے آئی ہے (تصویر: Getty Images)

اگر انگلستان کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے امکانات 50 فیصد تھے تو جو روٹ کی انجری اسے 10 فیصد پر لے آئی ہے (تصویر: Getty Images)

گزشتہ ایشیز میں انگلستان بدترین شکست سے دوچار ہوا لیکن سیریز کا واحد روشن پہلو نوجوان بین اسٹوکس کی کارکردگی تھی۔ جنوری میں پرتھ کے ون ڈے میں 70 رنز اور 4 وکٹوں کی کارکردگی اس کا محض ایک پہلو ہے۔ البتہ حالیہ دورۂ ویسٹ انڈیز میں وہ بجھے بجھے رہے یہاں تک کہ چند روز قبل ڈریسنگ روم میں غصے میں الماری کو گھونسا مار دینا انہیں مہنگا پڑ گیا کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ انگلستان جو ابھی جو روٹ کے دھچکے ہی سے باہر نہیں نکل پایا تھا، اسے یہ صدمہ بھی سہنا پڑا۔

جو روٹ، بنگلہ دیش میں چھوٹے میدانوں اور اسپنرز کے لیے مددگار وکٹوں کے پیش نظر بہترین کھلاڑی تصور کیے جاتے لیکن حالیہ دورۂ ویسٹ انڈیز کے آخری ون ڈے میں ایک گیند انگوٹھے پر لگنے نے ان کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے باہر کردیا۔ یہ بات الگ کہ انہوں نے اسی ٹوٹے انگوٹھے کے ساتھ اپنی پہلی ایک روزہ سنچری بنائی۔

جو روٹ اور بین اسٹوکس کی عدم موجودگی میں انگلستان کے امکانات 50 فیصد سے گھٹ کے 10 فیصد بھی نہیں رہ گئے اور وارم اپ مقابلوں میں ویسٹ انڈیز اور بھارت کے ہاتھوں شکست نے اس بات کو واضح بھی کردیا ہے۔

انگلستان سے قطع نظر پاکستان اور آسٹریلیا ٹورنامنٹ کی بہترین ٹیموں میں شمار ہو رہے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنے اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں یہ ٹیمیں کیسی کارکردگی دکھاتی ہیں۔

Facebook Comments