[آج کا دن] کرکٹ تاریخ کا سب سے کامیاب، بلند حوصلہ و باکمال گیند باز، مرلی دھرن

آج متنازع ترین باؤلنگ ایکشن کے حامل لیکن کرکٹ تاریخ کے سب سے کامیاب باؤلر متیاہ مرلی دھرن کا یوم پیدائش ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں 495 مقابلوں میں 1347 وکٹیں، اننگز میں 77 بار 5 وکٹیں اور 22 مرتبہ میچ میں 10 وکٹیں، ان اعدادوشمار کے ساتھ اگر کسی کھلاڑی کا نام جوڑا جاسکتا ہے تو وہ صرف مرلی ہی ہیں۔

وکٹوں کی تعداد کو ہمالیہ کی چوٹی تک پہنچانے کے لیے مرلی کو کیریئر کے ابتداء ہی سے سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شاید ہی کسی اور باؤلر کو 23 سال کی عمر میں اتنے سخت دباؤ میں کھیلنا پڑا ہو کیونکہ ان کے باؤلنگ ایکشن پر ابتداء میں تو دبی دبی تنقید ہوتی ہی رہی لیکن پھر یہ سرگوشیوں میں بدلی اور بالآخر 1995ء میں ملبورن کے 'باکسنگ ڈے' ٹیسٹ میں معاملہ کھل کر سامنے آ گیا۔ مقامی امپائر ڈیرل ہیئر نے تین اوورز میں 7 مرتبہ مرلی کی گیندوں کو نو-بال قرار دیا اور وجہ یہ بیان کی کہ وہ بٹّا پھینک رہے ہیں۔ نوجوان باؤلر کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ہوگا، انہیں اپنا کیریئر ختم ہوتا دکھائی دیا جس کی گواہی دیتے ہوئے مرلی نے بتایا بھی کہ اس وقت میں نے یہ سوچنا شروع کردیا تھا کہ بس کرکٹ چھوڑ کر کانڈی میں اپنے والد کی بسکٹ فیکٹری ہی چلا لوں۔ لیکن ساتھی کھلاڑیوں اور بالخصوص سری لنکن کرکٹ بورڈ نے اس کڑے وقت میں ان کو تنہا نہیں چھوڑا، ہمت افزائی کی اور تمام تر درکار وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کے باؤلنگ ایکشن کو شفاف قرار دلوایا۔ یوں مرلی دوبارہ ابھرے اور ایسے چھائے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔

یہ حوصلہ افزائی ہی تھی جس کی بدولت چہار جانب سے تنازعات چھڑ جانے کے باوجود مرلی نے اعصاب کو مضبوط رکھا۔ ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کے حوصلے ٹوٹ چکے ہوتے لیکن بورڈ اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی مدد سے باؤلنگ ایکشن کو بہتر کروایا اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ مرلی ایک کے بعد ایک سنگ میل عبور کرتے چلے گئے اور کرکٹ تاریخ کے عظیم ترین گیند بازوں کو بھی پھلانگتے ہوئے سب سے آگے نکل گئے۔ آج ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ مرلی کے پاس ہے۔

ٹیسٹ میں وہ محض 87 مقابلوں میں 500 وکٹوں کا ہندسہ عبور کرتے ہی اپنے ہم عصر شین وارن کے مقابل آ گئے اور پھر جیسے ہی وارن کرکٹ کو خیرباد کہہ گئے، مرلی نے دسمبر 2007ء میں آبائی شہر کانڈی میں انگلستان کے پال کولنگ ووڈ کی صورت میں 709 ویں وکٹ حاصل کر کے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹوں کا اعزاز حاصل کر لیا۔ علاوہ ازیں ایک روزہ طرز کرکٹ میں مرلی وسیم اکرم کے بعد 500 وکٹیں حاصل کرنے والے تاریخ کے دوسرے باؤلر بنے اور پھر ان کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ ون ڈے وکٹیں لینے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا۔

مرلی دھرن نے ٹیسٹ کرکٹ کو جس انداز میں خیرباد کہا، ویسے شاید ہی کسی اور باؤلر نے کیا ہو۔ انہیں 800 وکٹیں حاصل کرنے کے لیے 8 وکٹوں کی ضرورت تھی اور انہوں نے یہ وکٹیں حاصل کر کے دکھائیں، اس حال میں کہ بھارت کی ایک ہی وکٹ باقی بچی تھی اور وہی وکٹ مرلی کو درکار تھی جسے مرلی نے حاصل کر کے ہی دم لیا۔ مرلی نے اس یادگار ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 5 اور دوسری میں تین وکٹیں حاصل کیں اور یہ ان کا ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا 67 واں کارنامہ تھا۔ علاوہ ازیں انہوں نے 22 مرتبہ میچ میں 10 یا زیادہ وکٹیں بھی حاصل کیں۔

وہ تاریخی لمحہ جب مرلی دھرن نے اپنے آخری ٹیسٹ میں 800 ویں وکٹ حاصل کی (تصویر: AFP)

وہ تاریخی لمحہ جب مرلی دھرن نے اپنے آخری ٹیسٹ میں 800 ویں وکٹ حاصل کی (تصویر: AFP)

اس آخری مقابلے کے علاوہ سری لنکا کی کرکٹ تاریخ کے کئی بہترین فتوحات میں بھی مرلی کا کردار کلیدی تھا۔ وہ عالمی کپ 1996ء کے فاتح دستے کے رکن تھے اور انگلستان کے خلاف پہلی بار ٹیسٹ فتح میں مرلی مرد میدان تھے۔ یہ مرلی کے کیریئر کی یادگار ترین کارکردگی تھی جو انہوں نے انگلستان کے خلاف اوول ٹیسٹ 1998ء 16 وکٹیں حاصل کرکے دکھائی۔ ویسے اس مقابلے میں ان بڑا کارنامہ دوسری اننگز میں تھا، جب واضح طور پر ڈرا کی جانب جانے والے مقابلے میں مرلی نے یکے بعد دیگرے 9 انگلش بلے بازوں کو ٹھکانے لگا کر سری لنکا کو سیریز کے واحد ٹیسٹ میں کامیابی کی منزل پر لاکھڑا کیا۔ اگر ایلک اسٹیورٹ درمیان میں رن آؤٹ نہ ہوجاتے تو شاید تمام 10 وکٹیں مرلی دھرن کے ہاتھ آتیں۔ گو کہ ساڑھے تین سال بعد مرلی دھرن کو زمبابوے کے خلاف کانڈی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ایک اور مرتبہ اننگز میں 10 وکٹیں حاصل کرنے کا موقع ملا لیکن اس مرتبہ ساتھی باؤلر چمندا واس آخری وکٹ لے اڑے۔ البتہ انگلستان کے جم لیکر کے بعد مرلی دنیا کے واحد باؤلر ضرور بن گئے جنہوں نے دو مرتبہ اننگز میں 9 یا زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سیمی خان شنواری

گو کہ مرلی دھرن آف اسپن باؤلنگ کی دنیا کے نئے ہتھیار 'دوسرا' کے موجد نہیں تھے لیکن اس میں جتنی مہارت مرلی کو حاصل تھی، شاید ہی کسی اور باؤلر کو ملی ہو۔ دیگر باؤلر تو آف اسپن باؤلنگ ایکشن کے ساتھ گیند کو سیدھا پھینکتے تھے لیکن مرلی اسے بالکل لیگ اسپن کی طرح دوسری جانب نکالتے تھے۔

تمام اعدادوشمار سے بڑھ کر یہ کہ سری لنکا کی فتوحات میں جتنا بڑا حصہ مرلی دھرن کاتھا، اتنا کسی اور کھلاڑی کا نہیں رہا۔ گو کہ کرکٹ ایک اجتماعی کھیل ہے اور ٹیم کے ہر رکن کا فتح میں کلیدی کردار ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود مرلی کی موجودگی و عدم موجودگی کی وجہ سے سری لنکا کی فتوحات کے تناسب میں جو فرق پڑا ہے، وہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ مرلی سے بڑا فتح گر سری لنکا کی سرزمین پر پیدا نہیں ہوا۔ مرلی دھرن کی موجودگی میں سری لنکا نے 132 ٹیسٹ کھیلے، 54 جیتے، 37 بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوئے اور 41 میں اس نے شکست کھائی لیکن مرلی کے بغیر کھیلے گئے بقیہ 95 مقابلوں میں سری لنکاصرف 14 فتوحات سمیٹ پایا، 41 ڈرا اور اتنے ہی مقابلوں میں اسے شکست ہوئی۔ 2010ء میں مرلی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے سری لنکا کو 15 ٹیسٹ مقابلوں تک کوئی فتح نصیب نہیں ہوئی اور آج تک کھیلے گئے 34 میں سے صرف 7 مقابلے ایسے ہیں جو سری لنکا نے جیتے ہیں، اور یہی بات مرلی دھرن کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔

Facebook Comments