[ریکارڈز] جوس بٹلر تیز ترین سنچری بنانےوالے انگلش بیٹسمین

لارڈز کے میدان پر جوس بٹلر کو دھواں دار بیٹنگ کرتے دیکھنا لندن شہر کے تماشائیوں کے لیے ایک یادگار نظارہ تھا۔ افسوسناک امر یہ رہا کہ ایسی باری شکست خوردہ قرار پائی اور سری لنکا نے مقابلہ 7 رنز سے جیت لیا۔ گو کہ یہ نتیجہ سیریز کو زندہ رکھنے کے لیے اچھا تھا لیکن انگلش کپتان ایلسٹر کک یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ اننگز شکست کے لائق نہ تھی۔

جوس بٹلر نے انگلینڈ کی جانب سے تیز ترین سنچری بنانے کا کیون پیٹرسن کا ریکارڈ توڑا (تصویر: AFP)

جوس بٹلر نے انگلینڈ کی جانب سے تیز ترین سنچری بنانے کا کیون پیٹرسن کا ریکارڈ توڑا (تصویر: AFP)

بٹلر نے اس دوران انگلستان کی جانب سے تیز ترین ون ڈے سنچری کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ انہوں نے صرف 61 گیندوں پر سنچری مکمل کی اور میزبان کے جیتنے کے امکانات کو خاصا روشن کردیا تھا لیکن آخری اوور میں ان کا رن آؤٹ کھیل کا 'ٹرننگ پوائنٹ' ثابت ہوا اور بالآخر انگلستان کو 7 رنز سے شکست ہوگئی۔

بٹلر سے پہلے انگلستان کی جانب سے تیز ترین سنچری کا ریکارڈ حال ہی میں ٹھکرائے گئے کیون پیٹرسن کے پاس تھے جنہوں نے فروری 2005ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایسٹ لندن میں 69 گیندوں پر 100 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی۔

ایک روزہ کرکٹ میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ سال 2014ء کے پہلے ہی روز یعنی یکم جنوری کو نیوزی لینڈ کے نوجوان آل راؤنڈر کوری اینڈرسن نے بنایا تھا۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کوئنزٹاؤن میں محض 36 گیندوں پر سنچری بنا کر شاہد آفریدی کا ریکارڈ توڑ ڈالا تھا۔ شاہد نے اکتوبر 1996ء میں عالمی چیمپئن سری لنکا کے خلاف نیروبی میں 37 گیندوں پر سنچری بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جو ساڑھے 17 سال برقرار رہنے کے بعد بالآخر ٹوٹ گیا۔

ذیل میں ایک روزہ کرکٹ کی تیز ترین سنچریوں کے اعدادوشمار پیش کررہے ہیں، امید ہے معلومات میں اضافہ کریں گے:

ایک روزہ کرکٹ کی تیز ترین سنچریاں

بلے باز ملک کل رنز گیندیں چھکے چوکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
کوری اینڈرسن نیوزی لینڈ 131* 36 14 6 ویسٹ انڈیز کوئنزٹاؤن یکم جنوری 2014ء
شاہد آفریدی پاکستان 102 37 11 6 سری لنکا نیروبی 4 اکتوبر 1996ء
مارک باؤچر جنوبی افریقہ 147* 44 10 8 زمبابوے پوچفیسٹروم 20 ستمبر 2006ء
برائن لارا ویسٹ انڈیز 117 45 4 18 بنگلہ دیش ڈھاکہ 9 اکتوبر 1999ء
شاہد آفریدی پاکستان 102 45 9 10 بھارت کانپور 15 اپریل 2005ء
جیسی رائیڈر نیوزی لینڈ 104 46 5 12 ویسٹ انڈیز کوئنزٹاؤن یکم جنوری 2014ء
سنتھ جے سوریا سری لنکا 134 48 11 11 پاکستان سنگاپور 2 اپریل 1996ء
کیون اوبرائن آئرلینڈ 113 50 6 13 انگلستان بنگلور 2 مارچ 2011ء
ویراٹ کوہلی بھارت 100* 52 7 8 آسٹریلیا جے پور 16 اکتوبر 2013ء
شاہد آفریدی پاکستان 124 53 4 17 بنگلہ دیش دمبولا 21 جون 2010ء
سنتھ جے سوریا سری لنکا 130 55 6 16 بنگلہ دیش کراچی 30 جون 2008ء
جیمز فاکنر آسٹریلیا 116 57 6 11 بھارت بنگلور 2 نومبر 2013ء
ابراہم ڈی ولیئرز جنوبی افریقہ 102 58 3 11 بھارت احمد آباد 27 فروری 2010ء
وریندر سہواگ بھارت 125* 60 6 14 نیوزی لینڈ ہملٹن 11 مارچ 2009ء
ویراٹ کوہلی بھارت 115* 61 1 18 آسٹریلیا ناگ پور 30 اکتوبر 2013ء
جوس بٹلر انگلستان 121 61 4 11 سری لنکا لارڈز 31 مئی 2014ء

Facebook Comments