ایشیائی کھیلوں میں کرکٹ، پاکستان و بھارت کے بغیر

عالمی کرکٹ میں ایشیا کا بہت بڑا مقام ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سب سے بڑے اعزاز ورلڈ کپ میں گزشتہ 22 سالوں سے ہر بار فائنل میں کم از کم ایک حریف ایشیائی ٹیم ہوتی ہے لیکن اس براعظم کے سب سے بڑے کھیلوں میں کرکٹ کی شمولیت کے بعد دو سب سے بڑی قوتوں کی عدم دلچسپی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایشین گیمز 2014ء میں اس مرتبہ بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھی حصہ نہیں لے گی۔

کرکٹ کو پہلی بار 2010ء کے ایشین گیمز میں شامل کیا گیا تھا لیکن بھارت و پاکستان کی عدم دلچسپی سمجھ سے بالاتر ہے (تصویر: AFP)

کرکٹ کو پہلی بار 2010ء کے ایشین گیمز میں شامل کیا گیا تھا لیکن بھارت و پاکستان کی عدم دلچسپی سمجھ سے بالاتر ہے (تصویر: AFP)

کرکٹ 4 سال قبل چین کے شہر گوانگ ژو میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں پہلی بار شامل کیا گیا تھا جس میں بھارت نے مرد و خواتین دونوں کے ایونٹس میں حصہ نہیں لیا جبکہ پاکستان نے مردوں میں کانسی اور خواتین میں سونے کا تمغہ جیتا۔ اس مرتبہ یہ کھیل ستمبر کے مہینے میں جنوبی کوریا کے ساحلی شہر انچیون میں منعقد ہوں گے جہاں ایک مرتبہ پھر کرکٹ کو 28 کھیلوں میں شامل کیا گیا ہے لیکن پاکستان نے بھارت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس مرتبہ مردوں کی ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا البتہ خواتین ٹیم اس مرتبہ اپنے اعزاز کا دفاع ضرور کرے گی۔

یوں اس سال بھارت اور پاکستان دونوں کی عدم موجودگی میں سری لنکا سب سے بڑی قوت بن چکا ہے جس کا مقابلہ بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال، ملائیشیا، چین، ہانگ کانگ، کویت، مالدیپ اور میزبان جنوبی کوریا سے ہوگا۔ دوسری جانب خواتین کے ایونٹ میں پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم سری لنکا اور بنگلہ دیش کے علاوہ میزبان جنوبی کوریا، جاپان، تھائی لینڈ، ملائیشیا، نیپال ، چین اور ہانگ کانگ سونے کے تمغے کے لیے مقابلہ کریں گی۔

کرکٹ کو عالمی سطح پر معروف ترین کھیلوں میں شامل کرنے کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت میں عدم دلچسپی کے اظہار کے بعد یہاں ایشیائی کھیلوں میں بھی پاکستان و بھارت کی عدم شرکت ظاہر کرتی ہے کہ ان ملکوں کے بورڈز کی دلچسپیاں کچھ اور ہیں۔

Facebook Comments