اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ، اسٹورٹ براڈ کی شرکت مشکوک

تیسرے ٹیسٹ میں بدترین ناکامی او رجمی اینڈرسن کے خلاف پابندی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد بھارت سیریز میں پچھلے قدموں پر ہے۔ گو کہ معاملہ ابھی ایک-ایک سے برابر ہے لیکن ساؤتھمپٹن میں جس طرح مہمان ٹیم کو شکست ہوئی ہے، اس کے بعد اسے تازہ ہوا کے جھونکوں کی ضرورت ہے اور شاید شاید کہ یہ خبر اس کے دکھ کا مداوا کرسکے کہ انگلستان کے باؤلر اسٹورٹ براڈ کی چوتھے ٹیسٹ میں شرکت مشکوک ہے۔

براڈ گھٹنے کی اسی تکلیف کے شکار ہیں جو چند ماہ قبل انہیں خاصا پریشان کر چکی ہے (تصویر: Getty Images)

براڈ گھٹنے کی اسی تکلیف کے شکار ہیں جو چند ماہ قبل انہیں خاصا پریشان کر چکی ہے (تصویر: Getty Images)

برطانوی اخبار دی مرر کے مطابق 28 سالہ براڈکے دائیں گھٹنے میں تکلیف میں اضافہ ہوگیا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ اولڈ ٹریفرڈ میں ہونے والے چوتھے ٹیسٹ میں شرکت نہ کرسکیں۔ براڈ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسی گھٹنے کی معمولی تکلیف کے ساتھ ساؤتھمپٹن میں کھیلے تھے ۔ یاد رہے کہ رواں سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی وہ اسی تکلیف سے دوچار رہے تھے اور سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز بھی اسی وجہ سے نہیں کھیل پائے تھے۔

انگلستان کے ہیڈ کوچ پیٹر مورس پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ اینڈرسن اور براڈ کو تمام پانچ ٹیسٹ میچز میں نہیں آزمائیں گے اور دونوں گیندبازوں پر حد سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اس لیے فی الحال تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شاید براڈ اولڈ ٹریفرڈ میں نہ کھیلیں لیکن یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ انگلینڈ پہلے ہی لیام پلنکٹ کی خدمات سے محروم ہے۔ پلنکٹ کو تیسرے ٹیسٹ میں آرام کا موقع دیا گیا تھا لیکن ٹخنے کی تکلیف ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے وہ چوتھے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ اسٹیون فن کو طلب کیا گیا ہے۔ تیسرے ٹیسٹ میں پلنکٹ کی جگہ کرس جارڈن کو کھلایا گیا تھا جو کوئی وکٹ نہیں لے پائے تھے۔ اس لیے انگلینڈ کو بہت سوچ سمجھ کر حتمی باؤلنگ لائن اپ کا انتخاب کرنا ہوگا کیونکہ ان کے پاس اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اولڈ ٹریفرڈ میں جو بھی ٹیم کامیاب ہوئی اسے ناقابل شکست برتری حاصل ہوجائے گی۔

اسٹیون فن کے لیے یہ ایک موقع ہوگا کہ وہ خود کو ثابت کریں۔ گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف ایشیز سیریز کے بعد سے وہ ٹیم میں واپس نہیں آپائے تھے اور ناقص فارم کی وجہ سے آہستہ آہستہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے بھی باہر کردیے گئے تھے۔ اب ایک سال بعد انہیں تقدیر نے ایک مرتبہ پھر قومی ٹیم میں پہنچا دیا ہے اور ایک اہم ترین میچ میں فیصلہ کن کارکردگی ان کے مستقبل کے لیے بہت اچھی ہوگی۔

Facebook Comments