[ریکارڈز] پاکستان اور 450 رنز کا جادوئی ہندسہ

گال ٹیسٹ کے دوسرے دن محمد طلحہ نے رنگانا ہیراتھ کی گیند پر آگے بڑھتے ہوئے اسے لانگ آف پر چھکے کی راہ دکھائی اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کا مجموعہ 450 رنز کا ہندسہ عبور کرگیا۔ یعنی وہ جادوئی ہندسہ، جو پاکستان کسی ٹیسٹ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے عبور کرجائے تو کبھی شکست نہیں کھاتا۔ پاکستان نے کسی بھی میچ کی میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 26 مرتبہ اس ہندسے کو عبور کیا ہے، 11 مقابلوں میں فتوحات حاصل کیں جبکہ 15 بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوئے۔

پہلی اننگز میں 450 سے زیادہ رنز بنانے کے بعد پاکستان کو یادگار ترین فتح 2005ء میں بھارت کے خلاف بنگلور کے مقام پر ملی۔ اس میچ کے ہیرو یونس خان کیا گال میں بھی ہیرو بن پائیں گے؟ جواب چند روز میں مل جائے گا (تصویر: AFP)

پہلی اننگز میں 450 سے زیادہ رنز بنانے کے بعد پاکستان کو یادگار ترین فتح 2005ء میں بھارت کے خلاف بنگلور کے مقام پر ملی۔ اس میچ کے ہیرو یونس خان کیا گال میں بھی ہیرو بن پائیں گے؟ جواب چند روز میں مل جائے گا (تصویر: AFP)

اس فہرست کا پہلا میچ جون 1971ء میں دورۂ انگلستان کا پہلا ٹیسٹ جہاں ظہیر عباس کی شاندار ڈبل سنچری اور مشتاق محمد اور آصف اقبال کی سنچریوں نے انگلش شائقین کے دل موہ لیے تھے۔ پہلی اننگز کے 608 انگلستان کے لیے کافی سے زیادہ تھے، البتہ وہ میچ بچانے میں ضرور کامیاب رہا۔ پہلی اننگز میں 353 رنز کے بعد فالو آن میں 5 وکٹوں پر 229 میچ بچاگئے۔ لیکن پاکستان نے فروری 1973ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈنیڈن میں یہ سنگ میل عبور کرنے کے بعد پہلی بار فتح کا ذائقہ چکھا۔ ایک اننگز اور 166 رنز کی شاندار فتح، جس کے معمار تھے مشتاق محمد اور آصف اقبال، جنہوں نے بالترتیب 201 اور 175 رنز بنائے اور 507 رنز کے جواب میں انتخاب نیوزی لینڈ انتخاب عالم اور مشتاق محمد کی باؤلنگ کے سامنے دو اننگز میں صرف 156 اور 185 رنز بنا پایا۔

پاکستان کے لیے آسٹریلیا دنیائے کرکٹ کا سب سے مشکل مقام ہے۔ 1964ء سے لے کر آج تک پاکستان یہاں کے میدانوں میں صرف چار فتوحات حاصل کر پایا ہے جن میں دسمبر 1981ء کی ملبورن کی جیت بھی شامل ہے جہاں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں بلے بازوں کی جامع کارکردگی کی بدولت پاکستان نے 500 رنز بنائے تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کوئی سنچری شامل نہیں تھی۔ مدثر نذر 95 اور ظہیر عباس 90رنز کے ساتھ تہرے ہندسے کے بہت قریب پہنچے لیکن ناکام رہے۔ جبکہ ماجد خان نے 74، عمران خان نے ناقابل شکست 70، جاوید میانداد نے 62 اور وسیم حسن راجہ نے 50 رنز بنائے۔ جواب میں آسٹریلیا پہلی اننگز میں گریم ووڈ کی سنچری کے باوجود فالو آن سے نہ بچ سکا اور 293 رنز پر ڈھیر ہوگیا اور دوسری اننگز میں تو ان کے پاس پاکستان کی باؤلنگ کا کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ سرفراز نواز اقبال قاسم اور عمران خان کے سامنے پوری ٹیم صرف 125 رنز بنا سکی۔

پھر اس فہرست میں چند بہت یادگار مقابلے شامل ہیں، جنوری 1983ء کا وہ حیدرآباد ٹیسٹ جس میں جاوید میانداد 280 رنز پر ناقابل شکست لیکن دل شکستہ میدان سے لوٹے کیونکہ عمران خان نے اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کردیا تھا جبکہ میانداد ڈبل سنچری سے صرف 20 رنز کے فاصلے پر تھے۔ میچ میں مدثر نذر نے بھی 231 رنز بنائے اوریوں پاکستان نے 581 رنز پر پہلی اننگز ڈکلیئر کی اور بعد ازاں عمران خان کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے بھارت 189 اور 273 رنز پر ڈھیر ہوکر ایک اننگز اور 119 رنز سے مقابلہ ہار گیا۔

پاکستان نے آخری بار 2012ء کے دورۂ سری لنکا میں کسی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 450 رنز کا ہندسہ عبور کیا تھا، لیکن اس کے باوجود کولمبو ٹیسٹ نہیں جیت پایا (تصویر: AFP)

پاکستان نے آخری بار 2012ء کے دورۂ سری لنکا میں کسی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 450 رنز کا ہندسہ عبور کیا تھا، لیکن اس کے باوجود کولمبو ٹیسٹ نہیں جیت پایا (تصویر: AFP)

پاکستان نے پہلی اننگز میں 450 رنز بنانے کے بعد آخری اور سب سے یادگار فتح مارچ 2005ء میں بھارت کے خلاف بنگلور کے مقام پر حاصل کی تھی۔ اس میچ کے ہیرو تھے، یونس خان۔ جن کی 267 رنز کی اننگز پاکستان کرکٹ تاریخ کی یادگار ترین باریوں میں شمار کی جاتی ہے۔ صرف 7 رنز پر اوپنرز سے محروم ہوجانے کے بعد یونس اور انضمام الحق نے 324 رنز کی شراکت داری قائم کرکے فتح کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کی پہلی اننگز 570 رنز پر مکمل ہوئی جس کے جواب میں بھارت نے وریندر سہواگ کی ڈبل سنچری کی بدولت 449 رنز بنائے۔ پاکستان نے اپنی دوسری اننگز 261 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کی جس میں یاسر حمید کے 76، شاہد آفریدی کے 58 اور یونس خان کے ناقابل شکست 84 رنز شامل تھے اور یوں بھارت کو جیتنے کے لیے 383 رنز کا ہدف دیا جو 87 رنز کی ابتدائی شراکت داری ختم ہونے کے بعد پاکستانی باؤلنگ کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔ سہواگ میدان سے لوٹے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مقابلہ بھارت کی گرفت سے نکلتا چلا گیا اور پوری ٹیم 214 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان نے 168 رنز کی ایک یادگار کامیابی حاصل کی۔

بنگلور کے بعد سے آج تک، 9 سال سے زیادہ عرصے میں پاکستان کبھی بھی پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 450 رنز بنانے کے بعد میچ نہیں جیت پایا۔ گو کہ اس عرصے میں وہ چار مرتبہ پہلی اننگز میں 450 یا اس سے زیادہ رنز بنانے میں کامیاب رہا ہے لیکن ایک مرتبہ پھر مقابلہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔ آخری بار پاکستان نے جون 2012ء میں سری لنکا کے خلاف کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب میں پہلی اننگز میں 551 رنز بنائے تھے لیکن کمار سنگاکارا کے 192 رنز کی بدولت میچ بچانے میں کامیاب ہوگیا۔

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کے 450 رنز

بمقابلہ نتیجہ بمقام بتاریخ
 پاکستان بمقابلہ انگلستان ڈرا برمنگھم جون 1971ء
پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ فتح ڈنیڈن فروری 1973ء
پاکستان بمقابلہ انگلستان ڈرا اوول اگست 1974ء
پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ فتح حیدرآباد اکتوبر 1976ء
پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ ڈرا کراچی اکتوبر 1976ء
پاکستان بمقابلہ بھارت ڈرا فیصل آباد اکتوبر 1978ء
پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا فتح ملبورن دسمبر 1981ء
پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا فتح فیصل آباد ستمبر 1982ء
پاکستان بمقابلہ بھارت ڈرا لاہور دسمبر 1982ء
پاکستان بمقابلہ بھارت فتح حیدرآباد جنوری 1983ء
پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا ڈرا ملبورن دسمبر 1983ء
پاکستان بمقابلہ بھارت ڈرا چنئی فروری 1987ء
پاکستان بمقابلہ انگلستان ڈرا اوول اگست 1987ء
پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا فتح کراچی ستمبر 1988ء
پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ ڈرا آکلینڈ فروری 1989ء
پاکستان بمقابلہ انگلستان ڈرا مانچسٹر جولائی 1992ء
پاکستان بمقابلہ سری لنکا فتح پشاور ستمبر 1995ء
پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ڈرا راولپنڈی اکتوبر 1997ء
پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز فتح شارجہ جنوری 2002ء
پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز فتح شارجہ فروری 2002ء
پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ فتح لاہور مئی 2002ء
پاکستان بمقابلہ بھارت فتح بنگلور مارچ 2005ء
پاکستان بمقابلہ انگلستان ڈرا فیصل آباد نومبر 2005ء
پاکستان بمقابلہ بھارت ڈرا لاہور جنوری 2006ء
پاکستان بمقابلہ بھارت ڈرا فیصل آباد جنوری 2006ء
پاکستان بمقابلہ سری لنکا ڈرا کولمبو جون 2012ء

اگر میچ میں پہلے بیٹنگ کرنے کی شرط ہٹا دی جائے تو پاکستان کرکٹ تاریخ میں تین مواقع ایسے ہیں جب پاکستان اپنی پہلی اننگز میں 450 سے زیادہ رنز بنانے کے باوجود شکست سے دوچار ہوا۔ ان میں سب سے مایوس کن مقابلہ جنوری 1973ء میں ملبورن میں کھیلا گیا۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 441 رنز بنائے جس کے جواب میں پاکستان نے صادق محمد اور ماجد خان کی شاندار سنچریوں کی مدد سے 574 رنز کا ہمالیہ کھڑا کر ڈالا۔ 133 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد اننگز ڈکلیئر کرکے آسٹریلیا کو دوبارہ کھیلنے کی دعوت دی جس نے 425 رنز بنا کر پاکستان کو جیتنے کے لیے 293 رنز کا ہدف دیا اور پاکستان بہت ہی مایوس کن انداز میں 200 رنز پر آل آؤٹ ہوکر مقابلہ 92 رنز سے ہار گیا۔

پھر 2006ء کے دورۂ انگلستان میں ایک ہی سیریز میں ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی پہلی اننگز میں اچھی بیٹنگ بھی اسے شکست سے نہ بچا سکی۔ پہلے ہیڈنگلے، لیڈز میں کھیلا گیا سیریز کا تیسرا ٹیسٹ جاں انگلستان کے 515 رنز کے جواب میں پاکستان نے 538 رنز بنائے جس میں محمد یوسف کے 192 اور یونس خان کے 173 رنز شامل تھے لیکن دوسری اننگز میں انگلستان کے 345 رنز کے بعد ملنے والا 323 رنز کا ہدف پاکستان کے لیے ناقابل عبور ثابت ہوا۔ پوری ٹیم صرف 48 ویں اوور میں 155 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور انگلستان چار ٹیسٹ میچز کی سیریز میں دو-صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد اوول کا وہ بدنام زمانہ ٹیسٹ کھیلا گیا جہاں پاکستان نے امپائر ڈیرل ہیئر کی جانب سے بال ٹمپرنگ کے الزام پر میچ کھیلنے سے انکار کردیا اور انگلستان کو فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔ اس میچ میں پاکستان نے انگلستان کو پہلی اننگز میں صرف 173 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد اپنی پہلی اننگز میں 504 رنز بنا ڈالے تھے۔ دوسری اننگز میں جب انگلستان 4 وکٹوں پر 298 رنز بنا چکا تھا تو اس وقت یہ تنازع ابھرا، جس کی بری یادیں آج بھی پاکستانیوں کے ذہن سے چپکی ہوئی ہیں۔ آئی سی سی نے تحقیقات کے بعد مقابلے کے ڈرا قرار دیا لیکن بعد ازاں ایک مرتبہ پھر انگلستان کو ایک مرتبہ پھر فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔

لیکن گال میں پاکستان شکست کے خوف سے آگے بڑھ چکا ہے کیونکہ اس نے 450 کا جادوئی ہندسہ میچ کی پہلی اننگز میں ہی عبور کیا ہے۔ البتہ گال ٹیسٹ کے حقیقی جھکاؤ کا فیصلہ تیسرے دن سری لنکا کے بلے بازوں کی کارکردگی کرے گی۔

Facebook Comments