عالمی کپ سے پہلے سخت اقدامات اٹھائیں گے، معین خان

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر اور چیف سلیکٹر معین خان نے عندیہ دیا ہے کہ عالمی کپ 2015ء سے قبل سخت اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں، اور قیادت کے معاملے پر ہونے والی بحث کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا واضح اشارہ کپتان کی تبدیلی کی جانب ہے۔

کیا مصباح عالمی کپ 2015ء تک کپتان رہیں گے؟ اس پر اب ایک بڑا سوالیہ نشان ہے (تصویر: AFP)

کیا مصباح عالمی کپ 2015ء تک کپتان رہیں گے؟ اس پر اب ایک بڑا سوالیہ نشان ہے (تصویر: AFP)

معین خان نے چار ماہ قبل قومی سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بننے کے بعد اپنے پہلے ہی اجلاس میں کہا تھا کہ کپتان تبدیل کرنے کے لیے معاملات طے کیے جا رہے ہیں اور آئندہ ہیڈ کوچ اور بورڈ حکام کی مشاورت کے بعد پاکستان کی قیادت کسی اور کو سونپ دی جائے گی۔ اس بیان پر مصباح الحق کا غصے میں آنا برحق تھا اور بعد ازاں اس وقت کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کپتانی کے معاملے پر معین خان زباں بندی کردی۔ لیکن اب جبکہ حالات خاصے بدل چکے ہیں، بورڈ کی قیادت شہریار خان کے ہاتھوں میں ہے اور پے در پے شکستوں کے بعد مصباح الحق بھی پچھلے قدموں پر ہیں، معین خان کی دبی خواہش ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آ گئی ہے۔

کراچی میں چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں شکست نے ٹیم کے ذہن پر منفی اثرات مرتب کے ہیں اور کافی عرصے کے بعد ٹیم نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی۔ پھر باتوں کا رخ مصباح الحق کی جانب کرتے ہوئے معین خان نے دبے لفظوں میں شکست کا بنیادی سبب مصباح الحق کو قرار دیا اور کہا کہ سری لنکا میں کپتان بالکل فارم میں نہیں تھے اور ان کی انفرادی کارکردگی کی جھلک پوری ٹیم کی پرفارمنس میں دکھائی دی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مصباح الحق کی کارکردگی بہت نمایاں اور شاندار تھی، ان کی حیثیت مرد بحران کی سی تھی جس نے ٹیم میں استحکام پیدا کیا تھا لیکن سری لنکا میں ایسا نہیں ہوسکا۔

معین خان نے کہا کہ اب اگلی مہم سے پہلے پہلے حالات کو سمجھنے اور جلد از جلد بہتری لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اصل ہدف عالمی کپ ہے اور اس میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ہمیں چند سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

شکست کے علاوہ سری لنکا کے دورے کی مایوس کن ترین خبر اہم باؤلر سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن پر اٹھنے والا اعتراض تھا جس کے بعد اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ٹیم انتظامیہ بھی ذہنی طور پر تیار ہوچکی ہے کہ سعید اجمل پر پابندی عائد کی جائے گی۔ معین خان نے کہا کہ سعید اجمل پر پابندی کی صورت میں ہمیں متبادل منصوبہ سوچنا ہوگا اور اس کے لیے ہم دو سے تین گیندبازوں پر نظر رکھیں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ہفتے قومی سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں معین خان اور ان کے ماتحت کیا پیش کرتے ہیں۔ کیا مصباح الحق کے دور کا خاتمہ ہوچکا؟ یا انہیں آئندہ ایک دو سیریز میں قیادت بچانے کے آخری مواقع دیے جائیں گے۔ اس کا اعلان بس چند ہی دنوں میں ہوجائے گا۔

Facebook Comments