لاہور نے اہم مقابلہ جیت لیا، نظریں آخری کوالیفائر پر

لاہور لائنز نے چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں اپنا آخری کوالیفائر مقابلہ شاندار کارکردگی کے بعد 55 رنز سے جیت تو لیا لیکن اس کے مرکزی مرحلے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی ممبئی انڈینز اور ناردرن ڈسٹرکٹس نائٹس کے مابین آخری مقابلے کےنتیجے پر منحصر ہیں۔

اعزاز چیمہ نے چار گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کرکے لاہور کی فتح میں اہم کردار ادا کیا (تصویر: BCCI)

اعزاز چیمہ نے چار گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کرکے لاہور کی فتح میں اہم کردار ادا کیا (تصویر: BCCI)

اگر ممبئی آخری میچ میں 83 یا زیادہ رنز سے کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو وہ نہ صرف اپنا رن ریٹ اتنا بہتر بنا لے گا کہ خودکوالیفائی کرلے بلکہ نائٹس کو اتنا نقصان بھی پہنچا دے گا کہ وہ مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوجائے۔ یوں ممبئی اور لاہور دونوں اگلے مرحلے میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن اگر ممبئی 83 رنز سے کم کے فرق سے جیتتا ہےتو وہ نائٹس کے ساتھ اگلے مرحلے تک پہنچ جائے گا اور لاہور کے شیر پہلی پرواز سے وطن واپسی کی تیاری کریں گے۔ لاہور کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کی دوسری اورسادہ ترین صورت یہ ہے کہ نائٹس ممبئی کو شکست دے دے۔ یوں دفاعی چیمپئن ممبئی کوالیفائنگ مرحلے ہی میں باہر ہوجائے گا اور نیوزی لینڈ کی چیمپئن ٹیم لاہور کے ساتھ اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کرلے گی۔

بہرحال، ان مفروضات کو یہیں چھوڑ کر مقابلے کی بات کرتے ہیں کہ جہاں رائے پور میں سی ایل ٹی20 کے کوالیفائنگ مرحلے کے پانچویں مقابلے میں سری لنکا کی سدرن ایکسپریس نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا۔ لاہور گزشتہ مقابلے میں شکست کے باوجود اسی ٹیم کوبرقرار رکھا البتہ عمر صدیق کو احمد شہزاد کے ساتھ اوپنرکی حیثیت سے آزمایا گیا۔ دونوں نے 6 اوورز میں 40 رنز کا آغاز فراہم کیا، یہاں تک کہ صدیق فرویز مہاروف کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے دھر لیے گئے۔ 19 گیندوں پر18 رنز کی اننگز میں دوچوکے بھی شامل تھے۔ اس مقام تک تو لاہور بالکل درست سمت میں پیشقدمی کرتا دکھائی دیتا تھا لیکن مہاروف نے اگلےہی اوور میں احمد شہزاد اور ناصر جمشید کی وکٹیں حاصل کرکے سخت مشکل صورتحال پیدا کردی۔ احمد شہزاد نے 21 گیندوں پر 29 رنز بنائے جبکہ ناصر جمشید 5 گیندوں پر صرف ایک رن بنا کر واپس پہنچے۔ 8 اوورز میں 52 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد تمام تر ذمہ داری محمد حفیظ کے کاندھوں پر تھی۔ جنہوں نے اس فرض کو بااحسن و خوبی انجام دیا۔ گزشتہ مقابلے کے بہترین بلے باز سعد نسیم کے ساتھ مل کر انہوں نے اسکور میں 75 قیمتی رنز کا اضافہ کیا۔ سعد 25 گیندوں پر 31 رنز بنانے کے بعد 17 ویں اوور کی آخری گیند پر آؤٹ ہوئے لیکن ان کے واپس لوٹنے سے قبل ہی محمد حفیظ لاہور کی گاڑی کو یکدم پہلے سے ٹاپ گیئر میں منتقل کر چکے تھے۔ 24 گیندوں پر صرف 15 رنز کے ساتھ کریز پر موجود حفیظ نے اننگز کا 16 واں اوور شروع ہوتے ہی وہ اپنا دوسرا روپ دکھانا شروع کردیا۔ سیکوگے پرسنا کو پہلی گیند پر چوکا رسید کرنے کے بعد انہوں نے تین مسلسل گیندوں پر شاندار چھکے لگائے۔ یوں اوور میں 25 رنز ملنے کے بعد لاہور کی اننگز کو پر لگ گئے۔ آخری پانچ اوورز میں 75 رنز حاصل کرکے لاہور کا مجموعہ 164 رنز تک پہنچ گیا، جو بعد ازاں سدرن ایکسپریس کے لیے کافی سے زیادہ ثابت ہوا۔

ابتدائی 24 گیندوں پر 15 رنز بنانے کے بعد حفیظ نے اگلی 15 گیندوں پر 52 رنز جڑ ڈالے اور 4 چھکے اور 5 چوکے لگانے کے بعد آخری اوور میں ایشان جیارتنے کی گیند کو میدان بدر کرنے میں ناکام ہوئے اور آؤٹ ہوگئے۔ یوں 40 گیندوں پر 67 رنز کی قائدانہ اننگز اپنے اختتام کو پہنچی۔ عمر اکمل 8 گیندوں پر 11 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ واپس آئے۔

165 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سدرن ایکسپریس ایک مرتبہ بھی درست سمت میں جاتا دکھائی نہ دیا۔ اعزاز چیمہ کی تباہ کن باؤلنگ نے اسے ابتداء ہی میں زبردست نقصان پہنچایا۔ اعزاز نے ابتداء ہی میں سدرن ایکسپریس کو کوشال پیریرا سمیت تین کھلاڑیوں سے محروم کردیا۔ انہوں نے کوشال پیریرا اور دنوشکا گوناتھلاکا کو دو مسلسل گیندوں پر آؤٹ کیا اور سیریز میں تیسری بار ہیٹ ٹرک پر آگئے۔ البتہ کپتان جہان مبارک نے ان کو ایک مرتبہ پھر ہیٹ ٹرک نہ کرنے دی۔ بعد ازاں مبارک 26 گیندوں پر 35 رنز کے ساتھ سدرن ایکسپریس کے سب سے نمایاں بیٹسمین بنے لیکن پوری ٹیم 18 اوورز میں 109 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

اعزاز چیمہ کی تین وکٹوں کے علاوہ دو، دو کھلاڑیوں کو وہاب ریاض اور عدنان رسول نے آؤٹ کیا جبکہ ایک، ایک وکٹ محمد حفیظ اور عمران علی کے ہاتھ لگی۔

محمد حفیظ کو شاندار بلےبازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا لیکن اس اعزاز سے زیادہ حفیظ کی توجہ اگلے مقابلے کے نتیجے پر ہے۔

اگر لاہور لائنز سی ایل ٹی 20 کے مرکزی مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں کوالیفائنگ مرحلے سے آگے پہنچ پائےگی۔ ماضی میں2012ء میں سیالکوٹ اسٹالینزاور 2013ء میں فیصل آبادوولفز کی دوڑ دھوپ کوالیفائرز ہی میں تمام ہوگئی تھی۔

Facebook Comments