پاک-بھارت مقابلے نہ ہونے سے کرکٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے: سارو گانگلی

بھارت کے سابق کپتان اور موجودہ کرکٹ تجزیہ کار سارو گانگلی نے کہا ہے کہ پاک-بھارت باہمی مقابلے نہ ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے، اور یہ امید بھی ظاہر کی کہ جلد ہی دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

گانگلی پرامید ہیں کہ پاک-بھارت کرکٹ جلد دوبارہ شروع ہوگی (تصویر: AFP)

گانگلی پرامید ہیں کہ پاک-بھارت کرکٹ جلد دوبارہ شروع ہوگی (تصویر: AFP)

پاکستان اور بھارت کے مابین باہمی کرکٹ تعلقات 2008ء کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد سے منقطع ہیں البتہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نئے فیوچر ٹورز پروگرام کے تحت دونوں ممالک کے درمیان 6 سیریز طے ہوئی ہیں لیکن یہ تمام طے شدہ مقابلے حکومتوں کی اجازت سے مشروط ہیں۔ ان مقابلوں کا آغاز دسمبر 2015ء سے ہوگا جب پاکستان اور بھارت کے مابین متحدہ عرب امارات میں مکمل سیریز کھیلی جائے گی۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ پاک پیشن کو دیے گئے انٹرویو میں سابق کپتان سارو گانگلی نے کہا کہ کھیل کا اعلیٰ معیار پاک-بھارت کرکٹ کو دیگر ممالک سے ممتاز اور دلچسپ بناتا ہے اور ان دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات ختم ہونے سے نقصان صرف اور صرف کرکٹ کا ہو رہا ہے۔ پاک-بھارت کرکٹ درحقیقت ایشیز سے بھی بڑی کرکٹ ہے اور امید ہے کہ کھیلوں کی دنیا کے دونوں عظیم ترین حریف جلد ایک مرتبہ پھر باہم کھیلتے نظر آئیں گے۔ گانگلی نے کہا کہ دونوں ممالک کے کھلاڑی آپس میں اچھے دوست ہیں، جومیچز جیتنے کے لیے میدان میں جھگڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

سارو گانگلی نے 2004ء کے دورۂ پاکستان کو اپنی بہترین یاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی سالوں کے انتظار کے بعد پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز جیتنے کے علاوہ مہمان نوازی آج بھی یاد ہے۔

پاکستان کی حالیہ کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے گانگلی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا وقت ہر ملک پر آتا ہے، پاکستان بھی بہت جلد ماضی کی طرح عمدہ کارکرگی دکھائے گا۔

ورلڈ کپ 2015ء کے حوالے سے ایک سوال پر گانگلی کا کہنا تھا کہ بھارت ورلڈ کپ کے لیے اہم امیدوار ہوگا لیکن اس کا انحصار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی پچوں پر بلے بازوں کی کارکردگی پر ہوگا۔ بھارت کے علاوہ انہوں نے آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور انگلستان کو اچھی ٹیمیں قرار دیا اور کہا کہ یہ آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز میں کسی بھی ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ٹیم ورلڈ کپ جیت سکتی ہے۔

Facebook Comments