سال کے بہترین کھلاڑی، 24 میں سے صرف ایک پاکستانی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک سال کے عرصے میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کا اعلان کردیا ہے جس میں صرف ایک پاکستانی کھلاڑی شامل ہے۔

محمد حفیظ کو مقررہ دورانیے میں ایک ہزار سے زیادہ رنز اور 20 وکٹیں حاصل کرنے پر ایک روزہ ٹیم میں جگہ دی گئی (تصویر: ICC)

محمد حفیظ کو مقررہ دورانیے میں ایک ہزار سے زیادہ رنز اور 20 وکٹیں حاصل کرنے پر ایک روزہ ٹیم میں جگہ دی گئی (تصویر: ICC)

بھارت کے سابق کپتان اور آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین انیل کمبلے کی زیر قیادت خصوصی سلیکشن پینل نے 26 اگست 2013ء سے 17 ستمبر 2014ء کے دوران پیش کی گئی کارکردگی کی بنیاد پر سال کی بہترین ٹیسٹ اور ایک روزہ ٹیم کا انتخاب کیا۔

سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کی قیادت سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز کی سونپی گئی جبکہ مجموعی طور پر سری لنکا کے تین کھلاڑی ٹیم میں شامل ہیں جن میں کمار سنگاکارا 2006ء سے اب تک ساتویں بار اسکواڈ کا حصہ بنے ہیں۔ سنگاکارا اس دوران صرف 2009ء اور 2013ء میں سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑیوں میں شمولیت اختیار نہیں کر پائے تھے۔

ان کے علاوہ جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین مسلسل ساتویں بار اور ان کے ہم وطن ابراہم ڈی ولیئرز 2009ء سے اب تک لگاتار پانچویں مرتبہ 'ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر' میں شامل ہوئے ہیں۔

اس عرصے میں 9 ٹیسٹ کھیلنے والے پاکستانی دستے کا کوئی رکن اس اعزاز کا حقدار نہیں ٹھیرا۔ گو کہ پاکستان نے اس دوران جنوبی افریقہ کے خلاف ابوظہبی میں اور سری لنکا کے خلاف شارجہ میں دو یادگار فتوحات سمیٹیں لیکن بحیثیت مجموعی یہ بہت مایوس دور تھا جس میں پاکستان کو زمبابوے تک کے ہاتھوں شکست بھگتنا پڑی اور اختتام بھی دورۂ سری لنکا میں دو مایوس کن شکستوں کے ساتھ ہوا۔ مصباح الحق نے تقریباً 62 کے اوسط کے ساتھ 866 اور یونس خان نے 861 رنز بنائے، جو بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے ٹیم میں شامل ہونے والے روس ٹیلر سے زیادہ ہیں جبکہ سعید اجمل نے 9 میچز میں 45 وکٹیں بھی حاصل کیں لیکن یہ تینوں اس قابل نہیں قرار پائے۔

بہرحال، سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑیوں کی پر مشتمل الیون میں یہ نام شامل ہیں:

ڈیوڈ وارنر (آسٹریلیا)، کین ولیم سن (نیوزی لینڈ)، کمار سنگاکارا (سری لنکا)، ابراہم ڈی ولیئرز (جنوبی افریقہ)،جو روٹ (انگلستان)، اینجلو میتھیوز (سری لنکا) (کپتان)، مچل جانسن (آسٹریلیا)، اسٹورٹ براڈ (انگلستان)، ڈیل اسٹین (جنوبی افریقہ)، رنگانا ہیراتھ (سری لنکا)، ٹم ساؤتھی (نیوزی لینڈ) اور روس ٹیلر (نیوزی لینڈ) (بارہویں کھلاڑی)۔

علاوہ ازیں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے سال بھر میں عمدہ ون ڈے کارکردگی دکھانے پر بھی بہترین 11 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے جن کی قیادت بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو سونپی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ دھونی اس اعزاز کے حامل قرار پائے ہیں بلکہ وہ پانچویں بار کپتان کی حیثیت سے اور مجموعی طور پر آٹھویں بار 'ون ڈے ٹیم آف دی ایئر' کا حصہ بنے ہیں۔ یہ لگاتار ساتواں سال ہے کہ دھونی کو اس ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جو ان کی ایک روزہ کرکٹ میں مسلسل بہترین کارکردگی کا ثبوت ہے۔ ان کے علاوہ جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز اور ڈیل اسٹین ایسے کھلاڑی ہیں جو ٹیسٹ کے ساتھ ون ڈے کے بھی بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہوئے ہیں۔

محمد حفیظ نے مذکورہ عرصے میں 55 کے شاندار اوسط کے ساتھ ایک ہزار سے زیادہ ون ڈے رنز بنائے اور 20 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اس کارکردگی کی بنیاد پر وہ بحیثیت اوپنر سال کے بہترین ایک روزہ کھلاڑیوں کی الیون میں شامل ہوئے ہیں، جہاں ان کے علاوہ ویراٹ کوہلی اور ڈیوین براوو جیسے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

آئی سی سی کی اعلان کردہ ون ڈے ٹیم آف دی ایئر میں شامل کھلاڑیوں کے نام:

محمد حفیظ (پاکستان)، کوئنٹن ڈی کوک (جنوبی افریقہ)، ویراٹ کوہلی (بھارت)، جارج بیلی (آسٹریلیا)، ابراہم ڈی ولیئرز (جنوبی افریقہ)، مہندر سنگھ دھونی (وکٹ کیپر) (کپتان)، ڈیوین براوو (ویسٹ انڈیز)، جیمز فاکنر (آسٹریلیا)، ڈیل اسٹین (جنوبی افریقہ)، محمد شامی (بھارت)، اجنتھا مینڈس (سری لنکا) اور روہیت شرما (بھارت) (بارہواں کھلاڑی)۔

ٹیموں کا اعلان کرتے ہوئے چیئرمین آئی سی سی ایوارڈز سلیکشن پینل انیل کمبلے نے کہا کہ "میں سال کی ٹیموں میں منتخب ہونے پر تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دینا چاہوں گا۔ یہ ایسی کامیابی ہے جس پر انہیں فخر کرنا چاہیے۔ ٹیم کا انتخاب کرنا ویسے ہی مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے، لیکن جب آپ کو دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرنا پڑے تو یہ کام مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہترین ٹیموں کا انتخاب کیا ہے، جو متوازن ہیں اور کسی بھی صورتحال میں اور کسی بھی مقام پر دنیا کی کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان دستوں کے انتخاب کے دوران سلیکٹرز نے حریف، پچ اور میچ کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا گیا اور محض اعدادوشمار کو معیار نہیں سمجھا گیا۔"

خصوصی سلیکشن پینل میں انگلستان کے سابق کھلاڑی اور معروف نشریات کار و صحافی جوناتھن ایگنیو، سری لنکا کے سابق اوپنر رسل آرنلڈ، نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ، اور آئی سی سی کی ویمنز کمیٹی کی سابق چیئر بیٹی ٹمر شامل تھیں۔ اس موقع پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے آئی سی سی ایوارڈز 2014ء کے حتمی امیدواروں کے ناموں کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ اس سال کے فاتحین کا اعلان 14 نومبر کو ایک میڈیا ریلیز کے ذریعے کیا جائے گا۔

Facebook Comments