کلارک کے بغیر آسٹریلیا عالمی کپ نہیں جیت سکتا: شین وارن

سال بھر میں شاندار فتوحات اور عالمی کپ سے محض چند روز پہلے ناقابل شکست رہتے ہوئے بھارت اور انگلستان کے خلاف سہ فریقی سیریز جیتنے کے بعد آسٹریلیا عالمی چیمپئن بننے کے لیے مضبوط ترین امیدوار ہے لیکن ماضی کے آسٹریلوی اسپنر شین وارن کہتے ہیں کہ اگر آسٹریلیا پانچویں بار عالمی اعزاز حاصل کرنا چاہتاہے تو قیادت مائیکل کلارک کے پاس ہونا ضروری ہے۔

عالمی کپ میں آسٹریلیا کے ابتدائی دو مقابلوں کے بعد مائیکل کلارک کی انجری کو جانچا جائے گا اور مکمل صحت یابی کی صورت ہی میں وہ ورلڈ کپ کھیل سکیں گے (تصویر: Getty Images)

عالمی کپ میں آسٹریلیا کے ابتدائی دو مقابلوں کے بعد مائیکل کلارک کی انجری کو جانچا جائے گا اور مکمل صحت یابی کی صورت ہی میں وہ ورلڈ کپ کھیل سکیں گے (تصویر: Getty Images)

مائیکل کلارک عالمی کپ کے لیے آسٹریلیا کے حتمی 15 رکنی دستے کا حصہ ہیں لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ سے کسی ایک روزہ مقابلے میں حصہ نہیں لے سکے اور عالمی کپ میں آسٹریلیا کے ابتدائی دو مقابلوں بھی ان کی شرکت ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔ جس کے بعد ان کی انجری کی شدت کا حتمی اندازہ لگاکر فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ عالمی کپ کھیل سکیں گے یا نہیں۔

گو کہ آسٹریلیا نے ان کی عدم موجودگی میں بھی حالیہ سہ فریقی سیریز میں بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن شین وارن سمجھتے ہیں کہ عالمی کپ جیتنے کے لیے آسٹریلیا کو مشکل مراحل عبور کرنا ہوں گے، جس کے لیے کلارک کی موجودگی ضروری ہے۔

اسکائی اسپورٹس سے گفتگو کے دوران وارن نے کہا کہ جارج بیلی مضبوط ٹیموں کے خلاف آسٹریلیا کی کمزور کڑی ثابت ہوں گے اور ٹیم اسی صورت میں مضبوط بیٹنگ لائن کی حامل قرار پائے گی جب بیلی کی جگہ کلارک کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "میرا نہیں خیال کہ آسٹریلیا کلارک کے بغیر ورلڈ کپ جیت سکتا ہے۔"

شین وارن نے مزید کہا کہ صرف ایک سال قبل آسٹریلیا سخت مشکلات سے دوچار تھا اور یہی کلارک تھے جنہوں نے انگلستان اور جنوبی افریقہ کے خلاف دو تاریخی سیریز جتوائیں اور آسٹریلیا کے اس مقام تک پہنچایا۔ "میری خواہش تو یہ ہے کہ وہ عالمی کپ میں آسٹریلیاکے پہلے مقابلے سے ہی فٹ ہوں اور بیلی کی جگہ کھیلیں۔

آسٹریلیا عالمی کپ میں اپنا پہلا مقابلہ 14 فروری کو روایتی حریف انگلستان کے خلاف کھیلے گا جبکہ اس کا دوسرا میچ 21 فروری کو بنگلہ دیش کے خلاف ہے۔

Facebook Comments