اسکاٹ لینڈ کے خلاف کارکردگی، نیوزی لینڈ کے لیے انتباہ

عالمی کپ کے چوتھے روز توقعات کے عین مطابق اسکاٹ لینڈ کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی، لیکن یہ جیت میزبان کو تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی۔ صرف 143 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ نے 7 وکٹیں گنوائیں اور یوں گزشتہ چار ماہ میں دوسرا موقع آیا جب نیوزی لینڈ کو اسکاٹ لینڈ کے ہاتھوں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ گو کہ یہ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ نہیں تھا، بلکہ عالمی کپ میں شریک ایسوسی ایٹ رکن ممالک کے لیے وارم-اپ مقابلے تھے لیکن اسکاٹ لینڈ کا سامنا جس نیوزی لینڈ الیون کے ساتھ وہ نیوزی لینڈ کے مشہور زمانہ کھلاڑیوں پر مشتمل تھی لیکن وہ بمشکل صرف ایک رن سے جیت پایا۔

اگر نیوزی لینڈ نے آئندہ مقابلوں میں یہ غلطیاں دہرائیں تو ان کی عالمی کپ مہم خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے (تصویر: AFP)

اگر نیوزی لینڈ نے آئندہ مقابلوں میں یہ غلطیاں دہرائیں تو ان کی عالمی کپ مہم خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے (تصویر: AFP)

اب عالمی کپ 2015ء میں پہلا مقابلہ کھیلنے سے پہلے اسکاٹ لینڈ کے کپتان پریسٹس مومسن اسی اکتوبر کے مقابلے کی طرف اشارہ کرتے رہے، اور پھر ڈنیڈن میں نیوزی لینڈ کو خاصا پریشان کیا۔ اگر اس مقابلے میں انہوں نے چند اہم کیچز نہ چھوڑے ہوتے تو ہوسکتا تھا مقابلہ مزید سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوجاتا۔ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار دیے گئے ٹرینٹ بولٹ نے اس بات پر زور دیا کہ آخر میں نیوزی لینڈ جیت گئی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ جیت اچھے انداز میں ہوتی تو اس کا اثر زیادہ پڑتا۔

نیوزی لینڈ بلند و بانگ دعوے نہیں کرتا، خود کپتان برینڈن میک کولم بھی گزشتہ کئی دنوں میں جب بھی صحافیوں سے بات کرتے ہیں تو یہی بات دہراتے ہیں کہ وہ حد سے زیادہ خوداعتمادی کا شکار نہیں۔

اب آج کا مقابلہ نیوزی لینڈ کے لیے ایک یاددہانی ہے کہ اس کے بلے بازوں کو اب محتاط ہونا ہوگا۔ صرف 143 رنز کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے جس طرح اپنی وکٹیں غیر ضروری شاٹس کھیل کر گنوائی ہیں، اگر اسکاٹ لینڈ کی جگہ کوئی اور ٹیم ہوتی تو اس کا پورا پورا فائدہ اٹھاتی۔ انجامِ کار نیوزی لینڈ نے یہ مقابلہ جیت لیا، مگر معمولی ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کا سات وکٹیں گنوانا پست کارکردگی کا مظاہرہ تھا۔آخر اس ناکامی کا ذمہ دار کس کو ٹھیرایا جائے؟ غالباً حد سے بڑھی خود اعتمادی کو۔ اسکاٹ لینڈ کے گیندباز این وارڈلا کی نپی تلی گیندوں کی تعریف اپنی جگہ لیکن مارٹن گپٹل اور برینڈن میک کولم جیسے منجھے ہوئے بلے بازوں نے کس طرح وکٹ کیپر کو کیچ تھمائے، یہ لمحہ فکریہ ہے۔ پھر انتہائی مستقل مزاج اور بھرپور فارم میں موجود کین ولیم سن جس طرح وکٹ دے گئے اسے حالیہ دنوں میں ان کا سب سے برا آؤٹ کہا جا سکتا ہے۔ روس ٹیلر بھی عجیب و غریب شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے جبکہ کوری اینڈرسن اور لیوک رونکی گیند کو میدان سے باہر پھینکنے کے چکر میں وکٹیں گنوا بیٹھے۔

اگر اسکاٹ لینڈ نے مزید رنز بنائے ہوتے، اور انہیں میٹ ماچن اور رچی بیرنگٹن کی عمدہ شراکت داری کے بعد کم از کم 220 رنز تک تو ضرور پہنچنا چاہیے تھا، تو شاید میچ کا نقشہ مختلف ہوتا۔

نیوزی لینڈ اس وقت بہترین فارم میں ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ حالیہ دنوں اس کی ٹیم کبھی مشکلات کا شکار نہ ہوئی ہو۔ سال 2015ء کے اپنے پہلے ہی مقابلے میں سری لنکا 219 رنز کے تعاقب میں اس کی 101 رنز پر 5 وکٹیں گرگئی تھیں یہاں تک کہ اینڈرسن اور ناتھن میک کولم اُنہیں تین وکٹوں کی فتح کی جانب کھینچ لائے۔ پھر 15 جنوری کے میچ میں برینڈن میک کولم کے سنچری بنا کر آؤٹ جانے کے بعد ٹیم 158 پر 3 آؤٹ سے یکدم 185 پر 7 آؤٹ کی مشکل صورتِ حال تک پہنچ گئی ۔ گزشتہ مہینے ہی سری لنکا کے خلاف ایک اور مقابلے میں نیوزی لینڈ کے 93 پر 5 آؤٹ ہو گئے تھے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ گرانٹ ایلیٹ اور لیوک رونکی نے ریکارڈ توڑ 267 کی شراکت داری کی، جسے کے نتیجے میں کُل اسکور 360 تک پہنچنے پہنچا۔

آج اسکاٹ لینڈ کے خلاف وہ شکست سے تو بچ گئے ہیں کیونکہ ہدف بہت کم تھا، لیکن نیوزی لینڈ پر اس میچ کے بعد کپکپی طاری ہوگئی ہوگی۔ اب آگے اسے نسبتاً مضبوط حریفوں انگلستان، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کا سامنا کرنا ہوگا اور نیوزی لینڈ کی خواہش ہوگی کہ اسے دوبارہ ایسی شرمناک صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Facebook Comments