گیل کی طوفانی ڈبل سنچری ریکارڈز کی نظر میں

صرف ایک دن پہلے کرس گیل کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کرکٹ میں ایک نئے تنازع نے جنم لیا، لیکن آج انہوں نے ہی تمام تر تنقید کا جواب میدان میں ایک تاریخی اننگز کے ذریعے دے دیا۔ یعنی ہر ناقد کو جواب دینے کا جو بہترین طریقہ ہو سکتا ہے، اور ہونا بھی چاہیے، گیل نے وہی اپنایا اور بجائے الفاظ کے گورکھ دھندے میں پڑنے کے میدان عمل میں گئے اور عالمی کپ کی تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری داغ کر ثابت کردیا کہ وہ اب بھی ویسٹ انڈیز کرکٹ کا اہم ترین حصہ ہیں۔

کسی بڑے طوفان سے قبل کی خاموشی کی طرح گیل کی اننگز کا آغاز دھیما تھا۔ وہ خوش قسمت بھی رہے کہ اپنی پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہونے سے بال بال بچے۔ میدان میں موجود امپائر اسٹیو ڈیوس کے ناٹ آؤٹ فیصلے نے انہیں 'ریویو' پر تیسرے امپائر سے بھی بچایا حالانکہ بظاہر وہ واضح طور پر ایل بی ڈبلیو دکھائی دے رہے تھے۔ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیل نے سیموئلز کے ساتھ مل کر اننگز کو سست روی اور مستقل مزاجی سے آگے بڑھایا اور آخری 10 اوورز میں 152 رنز لوٹ کر اسکور کو 372 رنز تک پہنچا دیا، جس میں گیل کا حصہ صرف 147 گیندوں پر 215 رنز کا تھا۔

ایک روزہ کرکٹ کی ڈبل سنچریاں

بلے باز ملک رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
روہیت شرما  بھارت 264 173 33 9  سری لنکا کولکتہ 13 نومبر 2014ء
وریندر سہواگ بھارت 219 149 25 7  ویسٹ انڈیز اندور 8 دسمبر 2011ء
کرس گیل ویسٹ انڈیز 215 147 10 16 زمبابوے کینبرا 24 فروری 2015ء
روہیت شرما  بھارت 209 158 12 16 آسٹریلیا بنگلور 2 نومبر 2013ء
سچن تنڈولکر  بھارت 200* 147 25 3 جنوبی افریقہ گوالیار 24 فروری 2010ء

کرس گیل نے اس تاریخی اننگز کے دوران کئی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ ایک تو صرف صرف 138 گیندوں پر تیز ترین ایک روزہ ڈبل سنچری کا اعزاز تھا کہ جو انہوں نے بھارت کے وریندر سہواگ سے چھینا جنہوں نے دسمبر 2011ء میں ویسٹ انڈیز ہی کے خلاف 140 گیندوں پر ڈبل سنچری بنائی تھی۔ اس کے علاوہ گیل نے عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی ڈبل سنچری بنائی۔ ان سے پہلے کوئی بلے باز اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جنوبی افریقہ کے گیری کرسٹن نے 1996ء کے عالمی کپ میں متحدہ عرب امارات کے خلاف 188 رنز کی ناقابل شکست باری کھیلی تھی، جو اب تک عالمی کپ کی سب سے بڑی اننگز تھی، لیکن اب اس فہرست میں گیل کا نام سب سے اوپر جگمگا رہا ہے۔

عالمی کپ تاریخ کی سب سے بڑی اننگز

بلے باز ملک رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
کرس گیل ویسٹ انڈیز 215 147 10 16  زمبابوے کینبرا 24 فروری 2015ء
گیری کرسٹن  جنوبی افریقہ 188* 159 13 4 متحدہ عرب امارات راولپنڈی 16 فروری 1996ء
سارو گانگلی  بھارت 183 158 17 7 سری لنکا ٹاؤنٹن 26 مئی 1999ء
ویوین رچرڈز ویسٹ انڈیز 181 125 16 7  سری لنکا کراچی 13 اکتوبر 1987ء
کپل دیو  بھارت 175* 138 16 6  زمبابوے ٹنبرج ویلز 18 جون 1983ء

صرف 147 گیندوں پر 215 رنز بنانے کے دوران گیل نے اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کیا جو بھارت کے روہیت شرما اور جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز کے پاس ہے۔ روہیت نے نومبر 2013ء میں آسٹریلیا کے خلاف ڈبل سنچری اننگز میں جبکہ ڈی ولیئرز نے حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ کرکٹ کی تیز ترین سنچری بنانے کے دوران 16، 16 چھکے لگائے تھے۔

ان شاندار ریکارڈز کے علاوہ کرس گیل نے مارلون سیموئلز کے ساتھ مل کر ایک اور تاریخی کارنامہ بھی انجام دیا۔ دونوں نے 372 رنز کی شراکت داری قائم کرکے ایک روزہ کرکٹ میں کسی بھی وکٹ کے لیے طویل ترین رفاقت نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ۔ یوں انہوں نے سچن تنڈولکر اور راہول ڈریوڈ کا نومبر 1999ء میں بنایا گیا 331 رنز کا ریکارڈ توڑا۔ یہ ایک روزہ کرکٹ تاریخ کا محض تیسرا موقع تھا کہ جب دو بلے بازوں نے 300 سے زیادہ رنز کی شراکت داری قائم کی ہو۔

کسی بھی وکٹ کے لیے طویل ترین شراکت داریاں

بلے باز1 بلے باز2 ملک وکٹ رنز بمقابلہ بمقام بتاریخ
کرس گیل مارلون سیموئلز ویسٹ انڈیز دوسری 372  زمبابوے کینبرا 24 فروری 2015ء
سچن تنڈولکر راہول ڈریوڈ  بھارت دوسری 331 نیوزی لینڈ حیدرآباد دکن 8 نومبر 1999ء
سارو گانگلی راہول ڈریوڈ  بھارت دوسری 318  سری لنکا ٹاؤنٹن 26 مئی 1999ء
اوپل تھارنگا سنتھ جے سوریا  سری لنکا پہلی 286 انگلستان لیڈز یکم جولائی 2006ء
اوپل تھارنگا تلکارتنے دلشان  سری لنکا پہلی 282  زمبابوے پالی کیلے 10 مارچ 2011ء

Facebook Comments