امپائروں نے عالمی کپ سے باہر کیا، بنگلہ دیشی وزیراعظم

عالمی کپ کے کوارٹر فائنل میں پہلی بار آمد بنگلہ دیش کے لیے کافی اعزاز تھا لیکن بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد غیر ضروری ردعمل دکھا کر وہ اپنی جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں۔ ابھی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ مصطفیٰ کمال کے بیان کی دھول نہیں بیٹھی تھی کہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھی میدان میں کود پڑی ہیں اور مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کو امپائروں کی مدد سے شکست دی گئی گئي ہے۔

دوسرے کوارٹر فائنل میں بنگلہ دیش کو دفاعی چیمپئن بھارت کے ہاتھوں 109 رنز کی واضح شکست ہوئی تھی۔ گو کہ یہ کہنا ہرگز درست نہیں کہ دو متنازع فیصلوں نے مقابلے کے نتیجے پر واضح اثر ڈالا کیونکہ 303 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش صرف 193 رنز پر ڈھیر ہوا لیکن بنگلہ دیش کا غیر ضروری ردعمل ایسا ظاہر کررہا ہے گویا وہ امپائروں ہی کی وجہ سے ہارے ہیں۔ بھارت کی اننگز کے دوران جب روہیت شرما 91 رنز پر کھیل رہے تھے تو ایک ایسی فل ٹاس گیند کو نو-بال قرار دیا گیا تھا، جس پر وہ کیچ آؤٹ ہوگئے تھے۔ بعد ازاں روہیت 137 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کے اہم بلے باز محمود اللہ کو بھی متنازع انداز میں آؤٹ دیا گیا جن کا باؤنڈری لائن پر شیکھر دھاون نے کیچ پکڑا اور واضح نہیں تھا کہ آیا کیچ پکڑتے ہوئے ان کا قدم باؤنڈری لائن سے ٹکرایا ہے یا نہیں۔ اس کے باوجود شکست کا مارجن یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ مقابلے میں بھارت کی گرفت مضبوط تھی اور اس نے جامع انداز میں فتح حاصل کی ہے۔

لیکن بنگلہ دیش اس شکست کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ پہلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے بنگلہ دیشی صدر تمام حدود پار کرگئے اور یہ تک کہہ ڈالا کہ آئی سی سی انڈین کرکٹ کونسل بن چکی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیں گے۔ اب "احتجاج" میں نیا کردار وزیراعظم حسینہ واجد کی صورت میں داخل ہوا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ اگر امپائر ایسے فیصلے نہ کرتے تو بنگلہ دیش میچ جیت جاتا۔ وہ ملبورن میں بنگلہ دیشی تارکین وطن کی ایک تقریب سے بذریعہ ٹیلی فون خطاب کررہی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ اس شکست کے باوجود مستقبل میں بنگلہ دیش جیتے گا اور ایک روز عالمی چیمپئن بھی بنے گا۔

ویسے وزیراعظم بنگلہ دیش کی اسپورٹس مین اسپرٹ کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ ایشیا کپ 2012ء کے فائنل میں انہوں نے بنگلہ دیش کو شکست دینے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ٹرافی دینے سے انکار کردیا تھا اور تقریب تقسیم انعامات سے قبل میدان سے چلی گئی تھیں۔

بنگلہ دیش کو اس "بچکانہ" ردعمل سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ ان کی ٹیم کی نفسیات کے لیے بہت برا ثابت ہوگا۔ اگر وہ آگے جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں شکست کو قبول کرنا ہوگا، یہی چیز انہیں ایک روز جیت کی منزل تک پہنچائے گی۔

Facebook Comments