بنگلہ دیش کا تیسرا شکار، چیمپئنز ٹرافی میں جگہ ”پھر“ یقینی

رواں سال عالمی کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ پانے کے بعد بنگلہ دیش اپنی بہترین ایک روزہ فارم میں ہے اور پاکستان اور بھارت کے خلاف ایک روزہ سیریز میں تاریخی فتوحات حاصل کرنے کے بعد اب وہ جنوبی افریقہ کی بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہا ہے۔ میرپور، ڈھاکہ میں ہونے والے دوسرے ایک روزہ میں ناصر حسین اور مستفیض الرحمٰن کی عمدہ گیندبازی اور اس کے بعد سومیا سرکار کے ناقابل شکست 88 رنز نے اسے شاندار کامیابی سے نواز دیا ہے اور یوں سیریز بھی ایک-ایک سے برابری کے مقام تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ کہ اب بنگلہ دیش کی چیمپئنز ٹرافی 2017ء میں شرکت یقینی ہوگئی ہے۔

شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے سیریز کے دوسرے مقابلے میں ٹاس جنوبی افریقہ نے جیتا اور پہلے بلے بازی سنبھالی لیکن ایک لمحے کے لیے بھی بنگلہ دیش کے سامنے ٹک نہیں پایا۔ جن گیندبازوں نے پاکستان اور بھارت کے ہوش ٹھکانے لگا دیے، اب وہ دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن پر زور آزمائی دکھا رہے تھے۔ مستفیض نے بنگلہ دیش کو پہلی وکٹ دلائی جب پانچویں اوور کی پہلی گیند پر کوئنٹن ڈی کوک آؤٹ ہوئے۔ رنز بنانے کی رفتار مزید دھیمی ہوگئی لیکن جنوبی افریقہ وکٹیں پھر بھی نہ بچا سکا۔ روبیل حسین کے ہاتھوں قائم مقام کپتان ہاشم آملہ کے آؤٹ ہوجانے کے بعد تہرے ہندسے تک پہنچتے پہنچتے جنوبی افریقہ 6 بلے بازوں سے محروم ہوچکا تھا۔ فف دو پلیسی 41 رنز کے ساتھ ان میں سب سے نمایاں تھے جبکہ ہاشم آملہ نے 22 رنز بنائے۔ جبکہ ڈی کوک دو، ریلی روسو، 4، ڈیوڈ ملر 9 اور ژاں-پال دومنی صرف 13 رنز بنانے کے بعد پویلین سدھار چکے تھے۔ فرحان بہاردین کے 36 رنز کے ساتھ جنوبی افریقہ گرتے پڑتے 162 رنز تک پہنچا۔ یہ بنگلہ دیش کے خلاف جنوبی افریقہ کا تاریخ کا سب سے چھوٹا مجموعہ تھا۔

مستفیض نے 10 اوورز میں صرف 38 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ناصر نے محض 26 رنز دے کر اتنی ہی وکٹیں حاصل کیں۔ دو کھلاڑی روبیل حسین اور ایک، ایک مشرفی مرتضیٰ اور محمود اللہ کے ہتھے چڑھا۔

بنگلہ دیش کے لیے 163 رنز کا ہدف بالکل آسان تھا، گو کہ اسے ابتداء ہی میں دو وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا جب دوسرے اوور کی پہلی گیند پر تمیم اقبال اور پھر چوتھے اوور میں لٹن داس کاگیسو رباڈا کے ہاتھوں بولڈ ہوئے۔ لیکن ان کے بعد محمود اللہ اور سومیا سرکار کے مابین 135 رنز کی شراکت داری نے جنوبی افریقہ کی واپسی کی تمام راہیں مسدود کردیں۔ محمود اللہ 64 گیندوں پر 50 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہونے والے آخری بنگلہ دیشی بلے باز بنے۔ اس وقت میزبان ہدف سے صرف 4 رنز کے فاصلے پر تھا۔ دوسرے کنارے پر سرکار 79 گیندوں پر 88 رنز کی ایک شاندار اننگز کے ساتھ ناقابل شکست لوٹے۔ ان کی باری میں میچ کا فاتحانہ چھکا اور13 شاندار چوکے بھی شامل تھے۔

تین مقابلوں کی سیریز اب ایک-ایک سے برابر ہے اور آخری و فیصلہ کن معرکہ 15 جولائی کو چٹاگانگ میں ہوگا۔ کیا بنگلہ دیش تیسرا بڑا شکار کھیلنے میں کامیاب ہوجائے گا؟ اس سوال کے جواب کے لیے صرف دو دن کا انتظار کیجیے۔

Facebook Comments