ابوظہبی ٹیسٹ کا انوکھا نتیجہ، سابق انگلش کپتانوں کی تنقید

پاک-انگلستان سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے بارے میں ابھی تک کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اسے سنسنی خیز قرار دیں، مایوس کن یا بدترین۔ چار دن تک اکتا دینے والا مقابلہ اور آخری روز پاکستانی بلے بازوں کی نااہلی اور انگلش باؤلرز کے جوش و جذبے نے میچ میں نیا رنگ بھر دیا، جب مقابلہ اپنے عروج پر پہنچا اور نتیجہ یقینی تھا تو امپائر اس رنگ میں بھنگ ڈالنے آ گئے اور مقابلے کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ انگلستان ایک یقینی اور حیران کن کامیابی سے محروم ہوگیا کیونکہ اس کو صرف 25 رنز کی ضرورت تھی اور ابھی 6 وکٹیں اور پورے 11 اوورز کا کھیل باقی تھا۔ امپائروں کا کہنا ہے کہ میدان میں روشنی کی سطح اس مقام تک پہنچ گئی تھی، جس پر گزشتہ روز یعنی چوتھے دن کا کھیل ختم کیا گیا تھا۔

انگلستان کے سابق کپتان مائیکل وان کہتے ہیں کہ کھیل کے حق میں بہتر یہی تھا کہ اس وقت تک مقابلہ جاری رہتا، جب تک صورت حال مضحکہ خیز حد تک نہ پہنچ جائے۔ نہ ہی چوتھے روز ایسی حالت تھی اور نہ ہی پانچویں شام۔ اچھی بھلی روشنی تھی۔ "کوئی شکایت تو نہیں ہے لیکن یہ ہفتہ مجموعی طور پر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے بہت برا رہا۔ اس طرح کی وکٹ اور اس پر خالی میدان۔ دنیا کی تیسری اور چوتھی بہترین ٹیم کو دیکھنے والے بہت معمولی تعداد میں موجود تھے۔"

امپائروں نے شام 5 بج کر 46 منٹ پر مقابلے کے خاتمے کا اعلان کیا تھا جو چوتھے دن سے 9 منٹ تاخیر سے ہوا لیکن دن کے 11 اوورز ابھی باقی تھے۔

ایک اور سابق کپتان جیفری بائیکاٹ نے بھی مقابلے کے اختتام پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ "مجھے کرکٹ کے کھیل اور اسے دیکھنے والے افراد کا احساس ہو رہا ہے۔ جب میدان میں مصنوعی روشنی کا انتظام ہے، آپ انہیں استعمال بھی کرتے ہیں تو مقابلے کو جاری رکھیں۔ یا تو سرے سے استعمال ہی نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیسٹ کرکٹ کی جانب لانا ہے۔ اگر اس مقام پر پاکستان بھی جیتنے کے قریب ہوتا تو مقابلہ جاری رہنا چاہیے تھا اور مصنوعی روشنی استعمال کرکے انہیں پورا موقع ملنا چاہیے تھا۔

بہرحال، مقابلے میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کے حوالے سے بائیکاٹ نے عادل رشید کی بہت تعریف کی۔ پہلی اننگز میں 163 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کر پانے والے بد ترین ریکارڈ اپنے نام کیا۔ کسی بھی گیندباز نے تاریخ میں کبھی اپنے پہلے ٹیسٹ میں بغیر کوئی وکٹ لیے اتنے رنز نہیں کھائے تھے لیکن عادل نے اس کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا بلکہ یہ ان کی باؤلنگ ہی تھی جو انگلستان کو مقابلے میں فتح کے بہت قریب لائی۔ انہوں نے دوسری اننگز میں صرف 64 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور یہی وہ شاندار کارکردگی تھی جس کی بائیکاٹ نے تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ اتنی ہی بہترین تھی، جتنی کہ پہلے ٹیسٹ میں کسی بلے باز کی سنچری۔ بدترین سے بہترین تک کا سفر کرکے عادل نے خود کو ثابت کردیا ہے۔ "

البتہ بائیکاٹ نے پاکستان کے بلے باز خاص طور پر سینئر کھلاڑیوں پر تنقید کی۔ 102 واں ٹیسٹ، اور اس کے دوران پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کرنے والے یونس خان دوسری اننگز میں ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے جبکہ مصباح الحق بھی غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے کلین بولڈ ہوئے۔

بائیکاٹ نے کہا کہ "مجھے یونس پسند ہے۔ میں نے انہیں یارک شائر لانے میں مدد بھی دی تھی۔ اس لیے یارک شائر سے وابستگی کی حیثیت سے میں نے ان سے کہا کہ مت پوچھیں کہ آپ کے آج کھیلے گئے شاٹ کے بارے میں میری رائے کیا ہے۔ خود یونس نے بھی کہا کہ "مجھے معلوم ہے جیفری، یہ بات بہت برا شاٹ تھا۔" معروف تبصرہ کار نے مزید کہا کہ "مصباح نے بھی یہی کیا۔ وہ اپنی نصف سنچری اننگز کے دوران بہترین انداز میں کھیلتے رہے اور پھر اچانک آگے بڑھے اور اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ اس طرح ان بلے بازوں نے انگلستان کو واپس آنے میں مدد دی۔"

سیریز کا دوسرا ٹیسٹ اب 22 اکتوبر سے دبئی میں کھیلا جائے گا جہاں انگلستان پہلے مقابلے میں حاصل ہونے والی نفسیاتی برتری کی بنیاد پر کامیابی کی کوشش کرے گا۔

Facebook Comments