کرکٹ کا جھگڑالو بچہ، گوتم گمبھیر

کرکٹ کو ہمیشہ شرفاء کا کھیل کہا جاتا تھا، لیکن اب یہ دنیا کے دیگر کھیلوں کی طرح بدمعاشوں کا کھیل بن چکا ہے۔ عوام میں جڑوں کے ساتھ ساتھ کرکٹ نے عامیانہ رنگ بھی پکڑ لیا ہے۔ اب کھلاڑیوں کے ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے، گھورنے، گالم گلوچ اور دھکم پیل تک کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ گوکہ دیگر کھیلوں کے مقابلے میں یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پھر بھی کرکٹ کے دامن پر داغ لگانے کے لیے کافی ہے۔ اس کام میں جو کھلاڑی عالمی سطح پر بدنام ہیں، ان میں سے ایک بھارت کے گوتم گمبھیر بھی ہیں۔ سابق بھارتی اوپنر کا غصہ ہمیشہ ناک پر دھرا رہتا تھا۔ اپنے بین الاقوامی کیریئر میں جتنے جھگڑے انہوں نے کیے، شاید ہی کسی اور بھارتی کھلاڑی کو یہ اعزاز ملا ہو۔ پھر انہوں نے آج جو کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ "رسی جل گئی ہے، مگر بل نہیں گیا۔"

رنجی ٹرافی کے ایک مقابلے میں گمبھیر دہلی کی قیادت کررہے تھے اور مقابلے کے دوران وہ بنگال کے کپتان منوج تیواری سے بری طرح الجھ پڑے اور یوں خود سے وابستہ تمام پرانے واقعات کی یادیں تازہ کردیں۔ واقعہ دراصل یہ ہوا کہ بنگال کی دوسری اننگز کے آغاز ہی میں جب دوسری وکٹ گری تو کپتان منوج تیواری میدان میں اترے۔ کیونکہ یہ وکٹ اسپن گیندباز نے لی تھی تو منوج یہ سمجھے کہ اسپنرز ہی باؤلنگ کریں گے۔ وہ ٹوپی پہن کر میدان میں چلے آئے، جب انہیں اندازہ ہوا کہ اب تیز باؤلرکا سامنا ہے تو انہوں نے ہیلمٹ منگوایا۔ بس اتنی سی بات تھی، جس پر گوتم گمبھیر آگ بگولا ہوگئے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ کیونکہ پہلی اننگز میں برتری حاصل ہے اس لیے بنگال وقت ضائع کررہا ہے۔ پہلی سلپ سے تند و تیز جملے پھینکے اور کچھ ہی دیر میں دونوں کھلاڑیوں میں الفاظ کا زبردست تبادلہ دیکھنے کو ملا۔ جو بعد ازاں امپائروں کی مداخلت سے ختم ہوا اور دونوں کھلاڑیوں کی طلبی بھی ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ میں یہ دونوں کھلاڑی ایک ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔

ماضی میں گوتم گمبھیر نے کئی مواقع پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔ بے وجہ کیا یا اس کا کوئی سبب تھا، اس سے قطع نظر ان کی شخصیت کا تاثر ایک نک چڑھے اور غصیلے کھلاڑی کی حیثیت سے ابھرا اور بلے باز کے طور پر تمام کارناموں کو گہنا گیا۔ نام تو والدین نے گوتم رکھا تھا، لیکن گوتم والی کوئی چیز ان میں نہیں تھی۔

gautam-gambhir

اپنے بین الاقوامی کیریئر کے ابتدائی سالوں ہی میں وہ "بدتمیزی" کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوگئے تھے۔ 2005ء میں جب جنوبی افریقہ بھارت کے دورے پر تھا تو پہلی بار ان کے گن زمانے پر کھلے۔ گو کہ جس سے ٹکراؤ ہوا وہ بھی ایسے ہی کارناموں میں کافی شہرت رکھتے ہیں یعنی آندرے نیل سے۔ بنگلور میں اس ایک روزہ میں کیا ہوا، وڈیو میں دیکھیں:

پھر دو سال بعد گمبھیر کے کیریئر کا سب سے مشہور 'جھگڑا' آیا۔ 2007ء میں جب پاکستان بھارت کے دورے پر تھا تو کانپور میں ہونے والے ایک روزہ میں وہ شاہد آفریدی سے الجھ پڑے۔ مغلظات کا ایک طوفان دونوں طرف سے ابلا اور پاک-بھارت مقابلے کی اصل گرماگرمی دنیا کے سامنے آئی۔ دونوں کھلاڑیوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزے پر جرمانے بھی ہوئے۔ جو ہمارے خیال میں گوتم کے لیے کوئی خاص بات نہیں تھی۔ وہ "عادی مجرم" تھے اور انہوں نے کبھی جرمانے شرمانے کی پروا نہیں کی، یہ ظاہر ہوتا ہے ان کے رویے میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہونے سے۔

2008ء میں جب آسٹریلیا بارڈر-گاوسکر ٹرافی کھیلنے کے لیے بھارت آیا تو دہلی میں ہونے والے مقابلے میں "چوروں کو پڑ گئے مور"۔ آسٹریلیا جو خود ایسی حرکتوں میں بدنام ہے، کو گوتم گمبھیر کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی ٹیسٹ میں شین واٹسن گمبھیر کے ہاتھوں پٹے، سٹپٹائے اور پھر آسٹریلوی عادت سے مجبور ہوکر کچھ جملے بھی ادا کیے۔ گمبھیر کو موقع مل گیا، وہ تو "ترنت" کارروائی کے عادی تھے۔ جب واٹسن نے "کچھ" کہا تھا تو وہ پہلا رن دوڑ رہے تھے، اور وہیں دوسرا رن دوڑتے ہوئے انہوں نے اپنی کہنی واٹسن کی پسلیوں میں گھسا دی۔ کہنے کو تو آج تک یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک حادثہ تھا، لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ بہرحال، اس مقابلے نے سیریز کے لیے بھرپور ماحول بنا دیا اور تمام مقابلوں میں خوب نوک جھونک چلتی رہی۔

بین الاقوامی کرکٹ میں ہم نے آخری بار گوتم کو اپنے "رنگ" میں 2010ء میں دیکھا۔ یہ سری لنکا میں ہونے والا ایشیا کپ کا وہ گرما گرم مقابلہ تھا جس میں پاکستان اور بھارت کے کھلاڑیوں میں زبردست مکالمہ بازی ہوئی اور اس کا سہرا جاتا ہے گوتم گمبھیر کے سر۔ پاکستان کے وکٹ کیپر کامران اکمل سے نامعلوم بات پر الجھنے کے بعد آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا منظر بھلائے کسی کو نہیں بھولے گا۔ ویسے یہ ان لمحات میں سے ہے جب سب پاکستانی کامران اکمل کے حق میں ہوگئے تھے۔ چلیں، کسی نے تو پاکستانی شائقین کو کامران اکمل کی حمایت پر مجبور کیا 🙂

پھر اس کے بعد "چراغوں میں روشنی نہ رہی"، گمبھیر گو کہ بین الاقوامی سطح پر کھیلتے رہے لیکن ایسا کوئی "شاہکار" مرتب نہ کرسکے کہ جس کا یہاں پر ذکر کیا جائے۔ ہاں، 2013ء کی انڈین پریمیئر لیگ میں انہوں نے سب کو حیران ضرور کیا۔ اپنے ساتھی کھلاڑی، بلکہ ہم پیالہ و ہم رکاب، ویراٹ کوہلی پر ہی چڑھ دوڑے۔ دونوں رنجی ٹرافی میں ایک ہی ٹیم سے کھیلتے تھے اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کی نمائندگی کرتے تھے لیکن 'گوتی' عادت سے مجبور تھے۔ میدان میں کوئی غصہ دکھاتا تھا، تو وہ فوراً اپنا غصہ لے کر پہنچ جاتے تھے۔ یہ بنگلور اور کلکتہ کا میچ تھا جس میں کوہلی دو چھکے مارنے کے بعد اگلے اوور میں لکشمی پتھی بالاجی کے خلاف بھی یہی کوشش کررہے تھے، ناکام رہے، کیچ پکڑ لیا گیا اور وہ آؤٹ ہوگئے۔ کلکتہ کو خوشی سے سرشار دیکھنا کوہلی کو برداشت ہی نہیں ہوا، آخر کو وہ بھی اس کام میں گمبھیر کے جانشیں تھے۔ جاتے جاتے کوئی معیوب سا جملہ ادا کرتے گئے۔ گمبھیر نے "ہماری بلی، ہمیں کو میاؤں؟" کہتے ہوئے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ اس سے پہلے کہ تصادم ہوتا۔ کھلاڑیوں اور امپائروں نے معاملہ نمٹا دیا۔

اب تازہ ترین واقعے کے بعد گمبھیر کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟ اس کے بارے میں میچ کے بعد معلوم ہوگا۔ پاکستان میں ہوتا تو ایک سال کی پابندی لگا دیتے، جیسا کہ یہاں مقامی کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا!

Facebook Comments