ابراہم ڈی ولیئرز کی پہلی پوزیشن خطرے میں

کھیل میں مقابلہ سخت ہو تو ہی مزا آتا ہے۔ اگر کوئی ٹیم یا کھلاڑی درجہ بندی میں سب سے اوپر چلا جائے، پھر اس مقام پر قابض ہی ہوجائے اور اسے چیلنج کرنے والا کوئی نہ دکھائی دے تو کھیل میں دلچسپی کا عنصر کم ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا 1999ء سے 2007ء کے عالمی کپ ٹورنامنٹس کے درمیان رہا، جب آسٹریلیا کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ دکھائی دیتا تھا۔ سیریز کوئی بھی ہو، آسٹریلیا کی کامیابی کا امکان سب سے زیادہ ہوتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 2007ء کا عالمی کپ تاریخ کا سب سے پھیکا اور بے مزا ٹورنامنٹ تھا۔ مگر پھر تبدیلی آئی اور اب یہ عالم ہے کہ دنیائے کرکٹ میں کوئی بھی، کسی کو بھی شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، ٹیمیں بھی اور کھلاڑی بھی۔ گزشتہ ماہ جب بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے نئی عالمی درجہ بندی کا اعلان کیا تھا تو جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز ٹیسٹ میں بلے بازوں میں اول نمبر پر تھے۔ مگر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی جاری سیریز کے ابتدائی دو مقابلوں میں ڈیوڈ وارنر، اسٹیون اسمتھ اور کین ولیم سن نے ڈی ولیئرز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

گزشتہ روز جاری ہونے والی تازہ ترین درجہ بندی میں گو کہ اب بھی ڈی ولیئرز 899 پوائنٹس کے ساتھ پہلے مقام پر ہیں، مگر ولیم سن دو سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی بدولت تین درجے پھلانگ کر دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں جہاں پہلے ہی آسٹریلیا کے کپتان اسٹیون اسمتھ موجود ہیں۔ اس وقت ڈی ولیئرز کا ان دونوں بلے بازوں سے فاصلہ صرف 6 پوائنٹس کا رہ گیا ہے۔ جبکہ پرتھ میں 253 رنز کی شاندار اننگز کے ساتھ ساتھ تین سنچریاں بنانے والے ڈیوڈ وارنر پانچ درجے ترقی کے بعد پانچویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ وہ بھی ڈی ولیئرز سے محض 13 پوائنٹس کے فاصلے پر ہیں۔ یعنی تیسرے ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی پہلی پوزیشن کے لیے جنگ کو مزید تیز کردے گی۔

اب ابتدائی 10 بلے بازوں میں صرف ایک ہی پاکستانی رہ گئے ہیں، یونس خان، جو آٹھویں نمبر پر ہیں۔ گزشتہ ماہ مصباح الحق دسویں نمبر پر تھے جو اب گیارہویں پر چلے گئے ہیں جبکہ اسد شفیق اب تیرہویں، سرفراز احمد اٹھارہویں اور اظہر علی انیسویں پوزیشن پر براجمان نہیں۔

گیندبازوں میں جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین 909 پوائنٹس کے ساتھ بدستور سرفہرست ہیں۔ انگلستان کے جیمز اینڈرسن اور پاکستان کےلیگ اسپنر یاسر شاہ ان کا مسلسل پیچھا کررہے ہیں، جو اس وقت بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

آسٹریلیا-نیوزی لینڈ دوسرے ٹیسٹ کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے والے مچل جانسن نویں نمبر کے ساتھ رخصت ہوئے۔

گیندبازوں کی درجہ بندی کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ گیندبازوں میں صرف یاسر شاہ ہی کسی قابل ذکر مقام پر موجود ہیں۔ لیکن ابتدائی 25 کھلاڑیوں میں ان کے سوا تین ایسے گیندباز ضرور ہیں جو طویل عرصے سے کھیلے ہی نہیں۔ جیسے سعید اجمل 12 ویں نمبر پر، عبد الرحمٰن 23 ویں جبکہ جنید خان 25 ویں نمبر پر۔

Facebook Comments