بنگلہ دیش پریمیئر لیگ: نہ کھلائے جانے پر پاکستانی کھلاڑی مایوس

بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور دیگر معاملات کے بعد خدشہ یہی تھا کہ شاید اس مرتبہ لیگ میں دلچسپی کا عنصر کم رہے گا۔ اگر دنیائے کرکٹ کے بڑے ناموں کی بات کی جائے تو کچھ حد تک ایسا ہوا بھی کہ کوئی نامور کھلاڑی لیگ میں شامل نہیں تھا مگر پاکستان کے کھلاڑیوں کا معاملہ کچھ اور تھا۔ وہ کون سا اہم کھلاڑی ہے جس نے بی پی ایل کھیلنے کی خواہش ظاہر نہیں کی اور مختلف فرنچائز کی جانب سے انہیں خریدا بھی گیا۔ مگر بدقسمتی سے اکثر کھلاڑیوں کو میدان میں اتارنے کے بجائے محض باہر ہی سے دیکھنے پر مجبور کیا گیا۔

آج بی پی ایل کا فائنل کمیلا وکٹورینز اور باریسال بلز کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔ کمیلا کی جانب سے احمد شہزاد اور شعیب ملک کھیلیں گ ےجبکہ باریسال کو محمد سمیع کی خدمات حاصل ہیں۔ باقی شاہد آفریدی سے لے کر مصباح الحق اور محمد حفیظ سے لے کر محمد عامر تک تمام کھلاڑی وطن واپس آ رہے ہیں اور اکثریت فرنچائز مالکان کے رویے سے مایوس ہے۔ ان میں سب سے آگے ہیں پاکستان کے ٹیسٹ کپتان مصباح الحق۔ مصباح کا کہنا ہے کہ وہ سلیکشن کے حوالے سے بہت زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس بارے میں مالکان اور کوچ زیادہ بہتر جانتے ہیں لیکن یہ ضرور کہنا چاہوں گاکہ کسی بھی کھلاڑیوں کے لیے مسلسل باہر بیٹھنا آسان کام نہیں ہوتا۔ رنگ پور رائیڈرز کی جانب سے کھیلنے والے مصباح کو صرف پانچ مقابلوں میں موقع دیا گیا جس میں پہلے مقابلے میں مصباح ہی نے کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس کے بعد کچھ ہی دن بعد سلیکٹرز نے مصباح سے اپنی آنکھیں پھیر لی اور باقی مقابلوں میں افغانستان کے محمد نبی کو فوقیت دی۔ نہ کھلائے جانے پر صرف مصباح ہی نہیں بلکہ شائقین کرکٹ بھی مایوس اور حیران دکھائی دیے۔ اس کا رنگ پور کو زبردست نقصان بھی ہوا کیونکہ کوالیفائر میں اسے 164 رنز کے تعاقب میں وکٹورینز کے ہاتھوں بری طرح شکست ہوئی کیونکہ مصباح کی عدم موجودگی میں بیٹنگ لائن بہت کمزور تھی۔

چٹاگانگ وائی کنگز کی نمائندگی کرنے والے کامران اکمل کا کہنا تھا کہ شمولیت سے پہلے ہی فرنچائز مالکان اور انتظامیہ پر واضح کردیا تھاکہ وہ اوپننگ میں دلچسپی رکھتے ہیں مگر صرف دو مقابلوں کے بعد انہیں مثبت جواب نہیں دیاگیا۔ "ہم صرف پیسوں کے لیے لیگ کھیلنے نہیں گئے تھے، بلکہ اچھی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کی سلیکشن کمیٹی پر بھی ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ اب بھی عمدہ کارکردگی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔"

رنگ پور کے ایک اور کھلاڑی پاکستان کے وہاب ریاض تھے۔ وہ بھی پاکستان کے دیگر کئی کھلاڑیوں کی طرح نصف لیگ کے بعد شامل ہوئے کیونکہ اس وقت وہ انگلستان کے خلاف مصروف تھے لیکن 3 دسمبر کو باریسال کے خلاف کھلائے جانے کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر نمائندگی کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس پر ان کا غصہ بجا ہے۔ کہتے ہیں کہ "باہر بیٹھ کر میچ دیکھنے سے کہیں بہتر تھاکہ لاہور میں وقت گزار لیتا۔ مسلسل نظر انداز ہونا کسی بھی کھلاڑی کے لیے آسان نہيں ہوتا۔"

رواں سال بی پی ایل میں 17 پاکستانی کھلاڑیوں سے معاہدے کیے گئے لیکن صرف محمد عامر ایسے تھے جنہوں نے اپنی ٹیم کے لیے بیشتر مقابلے کھیلے جبکہ محمد سمیع بھی باریسال کی جانب سے مستقل کھیلتے ہوئے نظر آئے۔ سہیل خان کو ڈھاکہ گلیڈی ایٹرز نے صرف ایک میچ کھیلنے کو دیا جبکہ سعید اجمل بھی صرف دو میچز میں ایکشن میں نظر آئے۔ شاہد آفریدی اور سہیل تنویر نے وہاب ریاض کی طرح آدھی لیگ میں حصہ لیا لیکن جب تک ان کی ٹیم دوڑ میں شامل رہی، دونوں کھیلتے رہے جبکہ کمیلا کے شعیب ملک گزشتہ دو مقابلوں سے باہر ہیں اور ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ہاتھ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں کھیل رہے۔

Facebook Comments