کرکٹ کے عجیب و غریب قوانین

آپ فٹ بال دیکھیں یا ہاکی، ٹینس یا پھر بیس بال اور دیگر کھیل، جب تک آپ ان کھیلوں کے بارے میں جانیں گے نہیں، ان کو دیکھنا بے کار ہوگا کیونکہ ان تمام کھیلوں کے اپنے مخصوص قوانین ہوتے ہیں جن کے بارے میں آگہی حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ یہ حقیقت ہےکہ کرکٹ ان تمام کھیلوں سے زیادہ پیچیدہ ہے لیکن پھر بھی آپ بنیادی معلومات کے ذریعے نہ صرف کرکٹ کو سمجھ سکتے ہیں بلکہ اس سے اچھی طرح لطف اندوز بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ذرا اور گہرائی میں اتریں، قوانین کی چھان پھٹک کریں تو آپ کی حیرانگی میں بھی بہت اضافہ ہوگا۔ کیونکہ کرکٹ کے کچھ اصول و قوانین ایسے ہیں جو بہت عجیب و غریب ہیں۔ آئیے آپ کو انہی میں سے چند کے بارے میں بتاتے ہیں:

ایل بی ڈبلیو

LBW

لیگ بفور وکٹ یعنی ایل بی ڈبلیو کا قانون بنیادی طور پر کیا ہے، یہ بات کرکٹ سے لگاؤ رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے۔ یعنی وکٹوں کی طرف آتی ہوئی گیند بلے باز کے جسم کے کسی بھی حصے کی وجہ سے رک جائے تو وہ آؤٹ قرار پاتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے سوچا کہ اگر گیند پر لگنے سے پہلے پہلے بلّے کو لگ جائے تو کھلاڑی کو آؤٹ کیوں نہیں دیا جاتا؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہمارے پاس بلّے اور پیڈ کے تعلق کے حوالے سے کچھ دلچسپ قوانین ہیں، آئیے پہلے ان پر بات کرتے ہیں۔ آپ کو وہ وقت تو یاد ہوگا جب آپ گلی محلے میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ گیند بلّے سے پہلے پیر کو لگ جاتی تھی تو آؤٹ نہیں دیا جاتا تھا۔ اگر واقعی آپ نے بھی انہیں اصولوں، بلکہ "زریں اصولوں" کے مطابق گلی میں کرکٹ کھیلی تے ہو یقیناً غلط قانون اختیار کیا ہے کیونکہ بین الاقوامی کرکٹ میں ایسا ہونے پر بلے باز کو آؤٹ قرار دیا جاتا ہے، لیکن چند اصولوں کے ساتھ۔ مثال کے طور پر اگر گیند وکٹ کی لیگ سائیڈ پر ٹپّا کھانے کے باوجود وکٹوں کی سمت جاتی دکھائی دے رہی ہو تو اس وقت کھلاڑی کو آؤٹ قرار نہیں دیا جا سکتا، چاہے اس سے کھیلنے کے بجائے گیند چھوڑ ہی کیوں نہ دی ہو۔ یہی نہیں بلکہ اگر گیند وکٹ کی آف سائیڈ پر ٹپّا کھائے اور وکٹ کی جانب جاتی دکھائی دے تب بھی بلے باز کو زندگی مل سکتی ہے لیکن اگر اس نے آف سائیڈ سے آتی ہوئی گیند پر شاٹ نہیں کھیلا تو اسے آؤٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ابھی پاک-انگلستان سیریز کے ایک مقابلے میں اسٹورٹ براڈ کی گیند پر یونس خان کو اسی لیے آؤٹ قرار دیا گیا تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ انگلستان کے کھلاڑی کھیل کی کتنی باریکیوں سے واقف ہیں۔

ڈیڈ بال

dead-ball

کبھی آپ نے یہ سوچا کہ بلے باز گیند کو چھو لیتے ہیں لیکن انہیں آؤٹ قرار نہیں دیا جاتا؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں کرکٹ کا قانون نمبر 23 سمجھنا ہوگا۔ اس قانون کے مطابق اگر گیند جسم کے کسی حصے سے لگنے کے بعد کپڑوں یا پیڈ کے کسی بھی حصے میں پھنس جائے تو اسے ’ڈیڈ بال‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔

لیگ بائیز

leg-bye

یہ بہت دلچسپ قانون ہے جس کے بارے میں کرکٹ کے اچھے خاصے دیوانے بھی آگاہ نہیں۔ سوچیں اگر بلے باز کسی تیز گیند سے بچنے کی کوشش کر رہا ہو اور گیند ہیلمٹ کو چھوتے ہوئے تھرڈ مین یا فائن لیگ باؤنڈری کی طرف جائے اور بغیر زمین پر ٹپّا کھائے براہ راست باؤنڈری لائن پار کر جائے تو اس صورت میں اسے کیا دیا جائے گا؟ کیا کہا؟ چھکا؟؟؟ جی نہیں، چوکا!! اس قانون کا مقصد دراصل چھکے کی اہمیت کو برقرار رکھنا ہے کہ چھکا صرف وہی ہوگا جو بلّے سے لگ کر گیند کو باؤنڈری سے باہر کرے گا۔ یعنی چھکا نہ ہی بائیز کی صورت میں ملے گا، نہ ہی وائیڈز اور نو-بالز کی صورت میں ہو سکتا ہے، اس کے لیے صرف بلّا، اور ساتھ میں دماغ اور طاقت، استعمال ہونا ضروری ہے۔

لیگ بائے کے سلسلے میں ایک اور قانون یہ ہے کہ اگر گیند بلے باز کو جسم کے کسی بھی حصے کو چھوتے ہوئے نکل جائے تو وہ اس وقت تک دوڑ نہیں سکتا جب تک کہ دو میں سے کوئی ایک شرط پوری نہ کرے: اول، اس نے گیند کھیلنے کی کوشش کی ہو یا دوئم، یا اس نے گیند سے بچنے کی کوشش کی ہو۔ یعنی بلے باز انہی صورتوں میں رن دوڑ سکتا ہے۔ اگر وہ صرف بلّا اوپر اٹھا کر گیند کو جانے دے گا تو اسے پر رنز نہیں دوڑ سکتا۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ اگر بلے باز کوئی شاٹ نہ کھیلے اور گیند وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں جائے اور وہ اسے پکڑ نہ پائے تو بائے کے رنز دوڑے جا سکتے ہیں۔ کتنا آسان ہے نا یہ قانون؟ 🙂

کیچ اور باؤنڈری کا تعلق

boundary-catch

اکتوبر 2013ء سے پہلے باؤنڈری لائن پر پکڑے گئے کیچ کے حوالے سے قانون کی کتاب کچھ یہ کہتی تھی:

’امپائر کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے کیچ کو چھکا قرار دے سکتا ہے جس میں فیلڈر کے جسم کا کوئی بھی حصہ باؤنڈری کی دوسری طرف چلا جائے، خواہ دوسری جانب جاتے وقت گیند فیلڈر کے ہاتھ میں موجود نہ ہو تب بھی‘

لیکن باؤنڈری لائن پر ’کمالات‘ کچھ زیادہ ہی بڑھنے لگے، ایک سے بڑھ کر ایک اور ناقابلِ یقین کیچ پکڑے جانے لگے تو قانون سازوں کو کچھ ’رحم‘ آیا۔ اب موجودہ قانون کچھ یوں ہے:

’اگر کیچ تھامنے والا فیلڈر باؤنڈری کے اندر رہتے ہوئے گیند پکڑ لے یا پھر گیند کو ہوا میں پھینکتے ہوئے باؤنڈری کے اُس پار چلا جائے، لیکن پھر خود کو سنبھالتے ہوئے دوبارہ باؤنڈری کے اندر آ جائے اور ہوا میں پھینکی گئی گیند کو زمین پر لگنے سے قبل دوبارہ تھام لے تو بلے باز کو آؤٹ قرار دیا جائے گا‘

یعنی کہ کیچ تھامنے کے حوالے سے اب یہ دیکھا جائے گا کہ فیلڈر اور گیند تعلق کس وقت قائم ہوا، یعنی اگر باؤنڈری کے پار جانے سے پہلے پہلے ہوا ہے تو بلے باز کو آؤٹ قرار دیا جائے گا، چاہے فیلڈر خود کو سنبھالتے ہوئے باؤنڈری کی دوسری طرف ہی کیوں نہ چلا جائے، بس شرط صرف اتنی ہے کہ اس وقت فیلڈر کے ہاتھ میں گیند نہ ہو۔

اس قانون کا سب سے پہلا فائدہ آسٹریلیا کے فیلڈر گلین میکس ویل نے اٹھایا جنہوں نے رواں سال انگلستان کے خلاف ہیڈنگلے میں کھیلے گئے چوتھے ایک روزہ میں اس قانون کا پورا پورا فائدہ اٹھایا۔

’آخری رنز‘

ball-on-boundary

یہ عجیب و غریب، بلکہ بڑا ہی بے ہودہ، قانون ہے۔ سوچیں اگر آخری گیند پر بلے بازی کرنے والی ٹیم کو جیتنے کے لیے ایک یا دو رنز درکار ہوں اور بلے باز گیند کو باؤنڈری کی طرف اچھال دے۔ لیکن اس سے پہلے کہ گیند باؤنڈری لائن پار کرے بلے بازوں نے ایک رن بھاگ کر پورا کرلیا۔ اب چاہے گیند بعد میں باؤنڈری لائن پار بھی کر جائے، پھر بھی بلے باز کو وہی رنز ملیں گے جو اس نے دوڑے، چوکا یا چھکا نہیں ملے گا۔

وائیڈ

wide-ball

گو کہ وائیڈ بال کے حوالے سے رہنمائی کے لیے وکٹ کے اطراف میں سفید لکیریں موجود ہوتی ہیں مگر گیند کو وائیڈ قرار دینے کا کلّی اختیار امپائر کو حاصل ہے۔ وہ اپنی عقل، سوجھ بوجھ اور بلے باز کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے کہ آیا یہ گیند بلے باز کی دسترس سے باہر ہونے کی وجہ سے وائیڈ قرار دی جائے، یا اسے بلے باز کی پہنچ کے اندر سمجھتے ہوئے فاضل رن دینے سے انکار کردیا جائے۔

بات کو مزید سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تصور کریں، دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والا بلے باز گیند پھینکتے ہی اپنی پوزیشن تبدیل کرلے اور بائیں ہاتھ سے کھیلتے ہوئے شاٹ لگائے، تو وائیڈکا قانون کیسے لاگو ہوگا؟ جی ہاں! اسی طرح جس طرح بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز پر لاگو ہوتا ہے۔ لیکن اگر بلے باز نے یہ حرکت باؤلر کے ہاتھ سے گیند نکلنے کے بعد کی تو؟ اس صورت میں وہی لکیری وائیڈ کے لیے رہنما قرار پائیں گی جو اس کے بیٹنگ انداز کے مطابق تھیں۔

آج کل ریورس سوئپ کے ساتھ ساتھ سوئچ ہٹ کا بھی بہت استعمال ہو رہا ہے۔ شاید دونوں شاٹس میں آپ کو زیادہ فرق محسوس نہ ہو مگر وائیڈ کے معاملے میں یہ فرق بہت زیادہ ہے۔ جب بلے باز ریورس سویپ کھیلتا ہے تو قانون ویسے ہی لاگو ہوگا جیسے عام شاٹ کھیلتے وقت ہوتا ہے، لیکن سوئج ہٹ کی صورت میں امپائر بلے باز کے دونوں طرف کو آف سائیڈ تصور کرے گا اور اگر گیند بلے باز کی لیگ سائیڈ پر ہی کیوں نہ پڑے، اسے قانونی ہی شمار کیا جائے گا۔

نو-بال

waist-height-no-ball

اگر نو-بال کی بات کریں تو عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ بلے باز کریز سے باہر نکل کر کھیلے اور گیندباز کی گیند اونچی ہو جائے تو اسے نو-بال نہیں دیا جائے گا کیونکہ بلے باز نے اپنی کریز چھوڑ دی تھی۔ لیکن اگر وہ پیچھے ہوجائے اور وہی گیند بالکل ٹھیک مقام پر آئے تو؟ اس لیے کرکٹ کے نئے قوانین میں اب یہ بھی شمار ہوتا ہے کہ چاہے بلے باز کریز کے اندر رہ کر کھیلے یا باہر نکل کر، دونوں صورتوں میں اگر گیند براہ راست کمر سے اونچی ہوجائے تو بال نو-بال تصور ہوگی۔

فیلڈنگ پابندیاں

fielding-restriction-in-test

فرض کریں کہ طویل طرز کی کرکٹ کھیلی جا رہی ہے، تو کیا آپ کے خیال میں یہاں سرے سے کوئی فیلڈنگ پابندی نہیں ہے؟ جی نہیں، ٹیسٹ میں بھی فیلڈنگ کے حوالے سے ایک پابندی ضرور موجود ہے۔

بدنام زمانہ ’باڈی لائن‘ سیریز کے بعد کہ جس میں انگلستان کے گیندبازوں نے وکٹوں کے بجائے آسٹریلیا کے بلے بازوں کے جسموں کو نشانہ بنایا تھا، ایک نیا قانون متعارف ہوا تھا کہ اسکوائر لیگ سے لے کر وکٹ کیپر تک، چوتھائی دائرے میں، صرف دو فیلڈر کھڑے کیے جا سکتے ہیں۔

اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ کھلاڑیوں کی بڑی تعداد لیگ سائیڈ پر کیچ پکڑنے کے لیے کھڑا نہ کیا جا سکے، اور باؤلرز کی جانب سے جسموں کو تاک تاک کر گیندیں مارنا ٹیسٹ کرکٹ میں معمول بن جائے۔

Article Tags

Facebook Comments