نیوزی لینڈ میں سری لنکا بے حال، ایک اور بدترین شکست

نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہونے کے بعد لگتا ہے کہ ایک روزہ میں بھی آثار مختلف نہیں ہیں۔ دوسرے ایک روزہ میں سری لنکا کو محض شکست ہی نہیں ہوئی بلکہ بلے بازوں کی مکمل ناکامی کے بعد 10 وکٹوں کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پہلے ایک روزہ کی طرح یہاں بھی سری لنکا کے کپتان اینجلو میھتیوز نے پہلے ٹاس جیتا اور بلے بازی کا فیصلہ کیا لیکن اس بارے مایوسی کا عالم پہلے سے بھی زیادہ دکھائی دیا۔ پوری ٹیم محض 117 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

نیوزی لینڈ نے نہ صرف گیندبازی بلکہ بلے بازی میں بھی اپنا غلبہ ثابت کیا اور مارٹن گپٹل کی ایک طوفانی اننگز کے نتیجے میں ہدف نویں اوور میں ہی حاصل کرلیا، جی ہاں! صرف نویں اوور میں۔ جامع کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ کل مقابلہ ہی 36 اوورز میں اختتام کو پہنچا۔

اگر سری لنکا کے بلے بازوں کی بات کی جائے تو ان کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ نیوزی لینڈ کی سرزمین پر اترے ہی وہ بلے بازی بھول گئے ہیں۔ اگر پہلے ایک روزہ کی بات کی جائے تو ابتدائی پانچ کھلاڑی صرف 27 رنز پر پویلین لوٹ گئے تھے، لیکن ملنڈا سری وردنا اور نووان کولاسیکرا کی ساتویں وکٹ پر 98 رنز کی شراکت داری نے کچھ لاج رکھ لی اور مجموعے کو 188 رنز تک پہنچایا۔ لیکن دوسرے مقابلے میں حالات مزید برے ہوگئے۔ 56 رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہوجانے کے بعد یہاں ایسی کوئی شراکت داری بھی نہ مل سکی اور پوری ٹیم صرف 117 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

میٹ ہنری نے پہلے کے بعد دوسرے ایک روزہ میں بھی سب سے نمایاں باؤلنگ کی اور چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ تین وکٹیں مچل میک کلیناگھن کو ملیں۔

بلاشبہ 118 رنز کا ہدف بہت ہی کم تھا اور سری لنکا کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے لیکن گپٹل جس بے رحمی سے سری لنکا کے گیندبازوں پر حملہ آور ہوئے، اس کا امکان بالکل نہيں تھا۔ اننگز کی پہلی ہی گیند پر دشمنتھا چمیرا نے انہیں نئی زندگی دی اور اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ صرف 17 گیندوں پر نصف سنچری تک پہنچ گئے جو نیوزی لینڈ کے لیے تیز ترین ففٹی کا نیا ریکارڈ ہے۔

درحقیقت اگر سری لنکا کا ہدف اتنا کم نہ ہوتا تو شاید گپٹل ابراہم ڈی ولیئرز کا تیز ترین ون ڈے سنچری کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالتے۔ ڈی ولیئرز نے رواں سال کے اوائل میں صرف 31 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔ جبکہ گپٹل 30 گیندوں پر 93 رنز تک پہنچ گئے تھے۔ اس میں 8 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے اور اپنا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے جیفری وینٹرسے کو پہلے ہی اوور میں لگائے گئے 26 رنز بھی۔

اس مقابلے کو دیکھ کر رواں برس عالمی کپ میں ہونے والا نیوزی لینڈ انگلستان مقابلہ یاد آ گیا جہاں انگلینڈ کی بھی ایسی ہی درگت بنائی گئی تھی۔ ویلنگٹن میں کھیلے گئے مقابلے میں انگلستان صرف 123 رنز بنا پایا تھا اور اس کے جواب میں نیوزی لینڈ نے برینڈن میک کولم کے 25 گیندوں پر 77 رنز کی بدولت صرف تیرہویں اوور میں ہدف حاصل کرلیا تھا۔

سیریز میں دو-صفر کی برتری حاصل ہونے کے بعد اب نیوزی لینڈ سیریز جیتنے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے اور اس وقت سری لنکا سے زیادہ تشویش پاکستان کو ہوگی جس نے آئندہ ماہ نیوزی لینڈ کا دورہ کرنا ہے۔

Facebook Comments