بھارت کے 15 سالہ بیٹسمین نے 117 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا

عالمی کپ 2011ء کے بعد جب سچن تنڈولکر دنیائے کرکٹ کو الوداع کہہ گئے تو دنیا یہی سمجھ رہی تھی کہ اب ایسا کھلاڑی شاید صدیوں تک دوبارہ کرکٹ کو نہ مل سکے اور اگر سچن کے کیریئر کو دیکھیں تو یہ بات بہت حد تک ٹھیک معلوم بھی ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ روز بھارت کے شہر ممبئی میں ایک نوجوان کھلاڑی نے ایسا ریکارڈ بنایا ہے جس سے دیکھ کر گمان ہو رہا ہے کہ شاید بھارت کو ایک اور سچن جلد ملے گا۔

ایچ ٹی بھنڈاری کپ انٹر اسکول ٹورنامنٹ میں کے سی گاندھی اسکول اور آریا گوروکل اسکول کے درمیان مقابلے میں کے سی گاندی کے 15 سالہ پرناو دھنواڑے نے 1009 رنز کی انفرادی اننگز کھیل کر دنیا کو حیران کردیا ہے۔

سوموار کو شروع ہونے والے دو روزہ مقابلے کے پہلے ہی دن پرانو نے اس وقت نام کمایا جب انہوں نے سب سے طویل انفرادی اننگز کا ریکارڈ توڑا۔ 1899ء میں آرتھر کولنز نے 628 رنز بنا کر جو ریکارڈ بنایا تھا وہ بالآخر 117 سال پھر ٹوٹ ہی گیا۔ لیکن پرانو نے اس ریکارڈ کو توڑنے کے بعد بھی رکنے کا نام نہ لیا اور آگے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ تاریخ میں پہلی بار چار ہندسوں کی اننگز کھیلنے والے بلے باز بن گئے۔ پرانو 395 منٹ کریز پر رہے اور صرف 327 گیندوں پر 59 چھکوں اور 127 چوکوں کا سہارا لیتے ہوئے 1009 رنز بنائے۔

اس ریکارڈ ساز اننگز سے قبل آریا گوروکل اسکول کی پہلی اننگز صرف 31 رنز پر تمام ہوگئی تھی۔ گاندھی اسکول نے پرانو کی ناقابل شکست اننگز کی بدولت 1465 رنز بنائے۔ جس کے بعد گوروکل کی دوبارہ بیٹنگ آئی تو پھر بھی وہ صرف 56رنز بنا سکی۔ یوں ایک اننگز اور 1382 رنز کی بدترین شکست کی حقدار ٹھیری۔

Pranav-scorecard

مزے کی بات یہ ہے کہ پرانو کو اس یادگار اننگز کے دوران 9 بار امپائروں کی جانب سے ناٹ آؤٹ قرار دیا گیا جبکہ ان کے سات کیچ بھی چھوٹے اور دو بار اسٹمپنگ کے مواقع ضائع ہوئے۔

گوروکل اسکول کے گیندباز تو کبھی اس دن کو یاد بھی نہ کرنا چاہیں گے۔ ان کے گیندبازوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو لگتا ہے جیسے ہائی-اسکورنگ ٹی ٹوئنٹی مقابلے کا اسکور کارڈ ہے۔ جیسے میڈیم پیسر سارتھ سالونے نے 20 اوورز میں 284 رنز دیے۔ پھر پراتک بیدیکر نے 18 اوورز میں 241 رنز دیے، اِس کے علاوہ ایوش دوبے نے تو حد ہی کردی اور اُن کو 23 اوورز میں 350 رنز پڑے، جبکہ ہرشل جادھو نے 18 اوورز میں 241 کھائے۔

ریکارڈ بنانے کے بعد پرانو کا کہنا تھا کہ جب وہ بلے بازی کے لیے وکٹ پر آئے تو اُن کے مطمع نظر ہرگز کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کے والد رکشہ ڈرائیور ہیں اور اُن کی اِس کامیابی پر والد بھی برابر کے شریک ہیں۔ پرانو نے کہا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں لیکن اُس سے پہلے انڈر 19 کھیلنا چاہتے ہیں تاکہ کارکردگی مزید نکھر سکے۔

عالمی ریکارڈ بنانے کے بعد پرانو گزشتہ روز دنیا بھر کی خبروں میں چھائے رہے۔ جیسے ہی خبر منظر عام پر آئی کہ پرانو نے 1000 کا ہندسہ عبور کرلیا ہے تو صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ مقامی سیاستدانوں سمیت ہزاروں افراد نے بھی میدان کا رُخ کیا۔ اُن کی اِس کاوش کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اب سے پرانو کے تعلیمی اور کھیل کے اخراجاب حکومت اُٹھائے گی۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بھارت کو شاید ایک اور سچن مل گیا ہے تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ خود سچن نے بھی ممبئی میں اسکول کرکٹ حلقوں میں مقبول ہونے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ تک پہنچے تھے۔ اُن کے علاوہ روہت شرما اور ونود کامبلی بھی ممبئی کے اسکول کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔

جہاں اِس ریکارڈ بننے کے بعد ٹوئٹر پر پرانو ٹرینڈ میں سب سے اوپر رہے، وہیں تنڈولکر کی جانب سے بھی ٹوئٹ کیا گیا جس میں پرانو کو مبارک باد بھی دی اور ہدایت بھی کی کہ اِسی طرح کھیلتے ہوئے مزید آگے جانا ہے۔

sachin-tweet

Facebook Comments